1126 ارب روپے مختص کرنے کا تخمینہ، جی ڈی پی گروتھ کا ہدف 4 فیصد مقرر کرنے کی سفارش
Web Desk
1 June 2026
آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ میں 1126 ارب روپے ترقیاتی منصوبوں کیلئے مختص کرنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال کی زیر صدارت سالانہ پلان کوآرڈینیشن کمیٹی کا اجلاس ہوا۔
پلاننگ کمیشن دستاویز کے مطابق اجلاس میں آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ میں 1126 ارب روپے ترقیاتی منصوبوں کیلئے مختص کرنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے، انرجی منصوبوں کیلئے 135 ارب، واٹر ریسورسز کیلئے 140 ارب مختص کرنے کا اندازہ لگایا گیا ہے۔
اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ اینڈ کمیونیکیشن کیلئے 408 ارب روپے مختص کرنے کا حساب لگایا گیا، سوشل سیکٹر میں 187 ارب روپے خرچ کرنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
مالی سال 27-2026 کیلئے جی ڈی پی کی شرح نمو کا ہدف 4 فیصد مقرر کرنے کی سفارش بھی زیر بحث آئی۔
دستاویز کے مطابق اہم فصلوں کی پیداوار کا ہدف 3.6 فیصد اور مینوفیکچرنگ کا ہدف 5.8 فیصد مقرر کیا گیا ہے، صنعتوں کی ترقی کا ہدف 4 فیصد مقرر کیا گیا۔
پلاننگ کمیشن دستاویز میں کہا گیا کہ رواں مالی سال جی ڈی پی گروتھ 3.7 فیصد ریکارڈ کی گئی، رواں مالی سال کیلئے جی ڈی پی گروتھ کا ہدف حاصل نہ ہو سکا، لارج سیکل مینوفیکچرنگ کا ہدف 4.5 فیصد مقرر کیا گیا ہے۔
اجلاس کے بعد وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے صحافیوں کو بتایا کہ ملک بھر میں جاری ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کیلئے تقریباً 10 ہزار ارب روپے درکار ہیں جبکہ ترقیاتی منصوبوں کیلئے وسائل میں اضافہ ناگزیر ہو چکا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ 8 برسوں کے دوران ترقیاتی بجٹ جمود کا شکار رہا، جس کے باعث متعدد منصوبے متاثر ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ 2013 سے 2018 کے دوران پاکستان میں ترقیاتی بجٹ میں مسلسل اضافہ ہوا اور ملک بھر میں انفراسٹرکچر اور ٹیکنالوجی کے بڑے منصوبے شروع کئے گئے، 2018 میں ترقیاتی بجٹ کے مقررہ ہدف سے بھی زیادہ اخراجات کیے گئے تھے، تاہم اس کے بعد ترقیاتی شعبے میں زوال کا آغاز ہوا جو آج تک جاری ہے۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ترقیاتی منصوبوں کیلئے سرمایہ کاری جی ڈی پی کے 2.6 فیصد سے کم ہو کر صرف 0.6 فیصد رہ گئی ہے، جبکہ 2018 کے بعد ترقیاتی منصوبوں کے لئے مختص وسائل میں مسلسل کمی دیکھی گئی۔
احسن اقبال نے کہا کہ اس وقت 5 ہزار ارب روپے مالیت کے منصوبوں کے پی سی ون پر کام جاری ہے جبکہ آئندہ مالی سال کے لیے 720 ارب روپے کے نئے منصوبوں کی تجاویز بھی زیر غور ہیں، جاری منصوبوں کی بروقت تکمیل حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ترقیاتی بجٹ کے حوالے سے صوبے نسبتاً زیادہ وسائل کے حامل ہوگئے ہیں جبکہ وفاق کو مالی مشکلات کا سامنا ہے، وفاقی بجٹ کا بڑا حصہ قرضوں کی ادائیگی پر خرچ ہو جاتا ہے، جس سے ترقیاتی منصوبوں کیلئے دستیاب وسائل محدود ہو جاتے ہیں۔
متعلقہ عنوانات
بانی پی ٹی آئی کوئی ڈیل نہیں کرتے، تین سال قید کاٹ لی، بیرسٹر گوہر
24 August 2026
چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر ایران کے دورے پر تہران پہنچ گئے
24 August 2026
پنجاب بھر میں کھلی فضا میں ڈرون اڑانے پر مکمل پابندی عائد
24 August 2026
پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کا مثبت زون میں آغاز
24 August 2026
ایران پر نئی پابندیوں سے قبل عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں گر گئیں
24 August 2026
21 سابق کرکٹ کپتانوں کا وزیراعظم کو خط، عمران خان کیلئے طبی سہولیات کا مطالبہ
24 August 2026
خلا سے زمین کا سحر انگیز منظر، خلاباز نے رقص کرتی سبز روشنیاں شیئر کردیں
24 August 2026
ایران کے خلاف فیصلہ کن اقتصادی کارروائی آج شروع کی جائے گی: امریکی وزیرِ خزانہ
24 August 2026