LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
لطف آباد میں گھر کی دوسری منزل پر پراسرار آتشزدگی، بیوہ ماں اور دو کمسن بیٹیاں جاں بحق، قتل کا شبہ اسرائیلی انتخابات: ابتدائی نتائج میں نیتن یاہو اتحاد کی برتری، اکثریت سے دور شہباز شریف نے مسلم لیگ ن خیبرپختونخوا کا اہم اجلاس کل طلب کر لیا حکومت اور پیپلز پارٹی مذاکرات کا دوسرا دور ختم، بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق سعودی سفیر کی خواجہ آصف سے ملاقات، دفاعی تعاون مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ سہیل آفریدی سمیت دیگر ملزمان کے وارنٹ گرفتاری کا حکم نامہ جاری برآمدات میں اضافے کیلئے جی ایس پی پلس فریم ورک سے بھرپور استفادہ کیا جائے: اسحاق ڈار بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کیلئے 6 رفقاء کی فہرست جیل حکام کو جمع روہڑی کے قریب ایل پی جی باؤزر دھماکے میں 2 افراد جاں بحق، 4 زخمی مصنوعی ذہانت سے سرکاری اخراجات کم کرنے کا منصوبہ، ہزاروں نوکریاں ختم ہوں گی حوثی ملیشیا کا عدن ایئرپورٹ پر بیلسٹک میزائل حملہ روس اور ایران کے درمیان 8 جوہری پاور یونٹس کی تعمیر کے معاہدوں پر دستخط گھریلو تنازع پر بھائی نے فائرنگ کرکے دو بہنوں کو قتل کردیا ایران کا مستقبل سپریم لیڈر کی ہدایات کے مطابق ہوگا، صدر مسعود پزشکیان انٹربینک میں روپے کی قدر میں بہتری، ڈالر مزید سستا ہوگیا

آٹھ ماہ میں محصولات کا بڑا خسارہ، ایف بی آر کو 450 ارب روپے کی کمی کا سامنا

Web Desk

28 February 2026

اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو رواں مالی سال کے پہلے آٹھ ماہ کے دوران محصولات کی وصولی میں 450 ارب روپے کے نمایاں شارٹ فال کا سامنا کرنا پڑا ہے، جس کے باعث سالانہ ہدف میں مزید کمی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق جولائی تا فروری ایف بی آر نے تقریباً 8.1 کھرب روپے ٹیکس جمع کیا، جو نظرثانی شدہ ہدف سے 450 ارب روپے کم ہے، جبکہ اصل مقررہ ہدف کے مقابلے میں یہ کمی 670 ارب روپے بنتی ہے۔

ابتدا میں ایف بی آر کا سالانہ ہدف 14.13 کھرب روپے مقرر کیا گیا تھا، تاہم عالمی مالیاتی ادارے کے ساتھ مذاکرات کے بعد اسے 216 ارب روپے کم کر دیا گیا۔ اب حکام ہدف میں مزید نمایاں کمی کی تجویز پر غور کر رہے ہیں اور آئندہ ہفتے عالمی مالیاتی ادارے سے اس حوالے سے بات چیت متوقع ہے۔

حکومت نے محصولات میں کمی پوری کرنے کے لیے پیٹرولیم لیوی کی شرح میں اضافہ اور ترقیاتی اخراجات میں کٹوتی کی ہے تاکہ بنیادی بجٹ سرپلس کا ہدف حاصل کیا جا سکے، تاہم ماہرین کے مطابق یہ اقدامات مالی استحکام کا وقتی تاثر دے رہے ہیں۔