LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
نیپال میں سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد 734 ہو گئی، 2,498 افراد لاپتہ شمالی کوریا کی فوجی کمان میں بڑی تبدیلی، وزیرِ دفاع سمیت کئی عہدیدار برطرف پاکستان اور ازبکستان کا اقتصادی روابط مزید مضبوط بنانے پر اتفاق اسلام آباد یادداشت پر عملدرآمد سے مشکلات پر قابو پا سکتے ہیں: ایرانی صدر جماعت اسلامی کے دھرنوں کے 2 ہفتے مکمل، آج راولپنڈی میں تاریخی جلسے کا اعلان بانی پی ٹی آئی کی بہن بتا چکی عمران خان بالکل فٹ ہیں، وزیر دفاع پمز سانحہ: بچوں کو بچانے کی کوششیں ثابت، 9 صفحات پر مشتمل رپورٹ جاری امریکا میڈیا کے ذریعے توانائی مارکیٹ میں ہیرا پھیری کر رہا ہے، عباس عراقچی کیف کے قریب روسی ڈرون حملہ، گولہ بارود ڈپو میں دھماکہ، 37 افراد ہلاک ایران کا امریکا اسرائیل سے منسلک دہشتگرد گروپ کے 6 ارکان کی گرفتاری کا دعویٰ مسلم ممالک سکیورٹی کیلئے بیرونی طاقتوں کی بجائے اپنی صلاحیتوں پر بھروسا کریں، قالیباف فنڈز میں تاخیر، اسرائیلی فوج کا ستمبر سے ریزرو فوج میں کٹوتیوں کا عندیہ یو ایس ایس ابراہم لنکن سے کودنے والے امریکی اہلکار کیخلاف کارروائی، اہلیہ کا ردعمل سامنے آ گیا مسلمانوں کو دیوار کی اینٹوں کی طرح متحد ہونا ہوگا، ترک صدر ایران جنگ نہیں چاہتا، مگر ہر جارح کیخلاف پوری قوت سے کھڑا ہوگا: صدر پزشکیان

آٹھ ماہ میں محصولات کا بڑا خسارہ، ایف بی آر کو 450 ارب روپے کی کمی کا سامنا

Web Desk

28 February 2026

اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو رواں مالی سال کے پہلے آٹھ ماہ کے دوران محصولات کی وصولی میں 450 ارب روپے کے نمایاں شارٹ فال کا سامنا کرنا پڑا ہے، جس کے باعث سالانہ ہدف میں مزید کمی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق جولائی تا فروری ایف بی آر نے تقریباً 8.1 کھرب روپے ٹیکس جمع کیا، جو نظرثانی شدہ ہدف سے 450 ارب روپے کم ہے، جبکہ اصل مقررہ ہدف کے مقابلے میں یہ کمی 670 ارب روپے بنتی ہے۔

ابتدا میں ایف بی آر کا سالانہ ہدف 14.13 کھرب روپے مقرر کیا گیا تھا، تاہم عالمی مالیاتی ادارے کے ساتھ مذاکرات کے بعد اسے 216 ارب روپے کم کر دیا گیا۔ اب حکام ہدف میں مزید نمایاں کمی کی تجویز پر غور کر رہے ہیں اور آئندہ ہفتے عالمی مالیاتی ادارے سے اس حوالے سے بات چیت متوقع ہے۔

حکومت نے محصولات میں کمی پوری کرنے کے لیے پیٹرولیم لیوی کی شرح میں اضافہ اور ترقیاتی اخراجات میں کٹوتی کی ہے تاکہ بنیادی بجٹ سرپلس کا ہدف حاصل کیا جا سکے، تاہم ماہرین کے مطابق یہ اقدامات مالی استحکام کا وقتی تاثر دے رہے ہیں۔