LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
آبنائے ہرمز سے متعلق ایران، عمان فریم ورک پر متفق، حتمی منظوری باقی ہے: حسن قشقاوی صدر مملکت نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ عالمی امن کیلئے اہم پیش رفت قرار دیدیا ایران اور عمان آبنائے ہرمز پر معاہدہ کرنے کے قریب پہنچ گئے: ایگزیوس روسی تیل کی فروخت روکنے کیلئے امریکی سینیٹ میں بل کثرت رائے سے منظور حکومت کا عوام کو ریلیف: پٹرول 2 روپے 2 پیسے فی لٹر سستا مکہ مکرمہ میں مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط میرے لیے اعزاز ہے: وزیراعظم امریکی ہتھیاروں کے ذخائر سے متعلق معلومات افشا ہونے پر ٹرمپ کا تحقیقات کا حکم بلوچستان بلدیاتی انتخابات: 9 اگست کو مختلف وارڈز میں ہونے والی پولنگ ملتوی صدر آصف علی زرداری دو روزہ دورے پر لاہور پہنچ گئے مکہ دفاعی معاہدہ خطے میں مشترکہ سلامتی کے نئے باب کا آغاز ہے: سرفراز بگٹی احتجاجی تحریک تیز، ضرورت پڑی تو دھرنا طویل کریں گے: حافظ نعیم الرحمان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ: خصوصی نغمہ جاری کر دیا گیا مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ خطے میں امن کیلئے سنگ میل ہے: احسن اقبال دفاعی معاہدہ کسی ملک کے خلاف نہیں، خطے میں امن کی جانب اہم پیش رفت ہے : ترک صدر مکہ دفاعی معاہدہ امن، سلامتی، خوشحالی کی جانب اہم سنگِ میل ہے:سعودی وزیرِ خارجہ

اہواز، بوشہر سمیت ایران کے مختلف شہروں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، ایرانی میڈیا

Web Desk

17 July 2026

ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی ‘ارنا’ اور مقامی میڈیا کے مطابق ایران کے جنوبی شہروں اہواز اور بوشہر کے مختلف علاقوں میں شدید دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔ امریکی لڑاکا طیاروں نے ایران کے شہر ‘ایران شہر’ کے ایئرپورٹ پر میزائل حملہ کیا ہے، جبکہ بندر خمیر کے علاقے میں ایک اہم ترین پل کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے؛ یہ پل بندر عباس اور لار کے درمیان آمد و رفت کا ایک اہم مواصلاتی راستہ ہے۔

ادھر جنوبی ایران کے اہم شہر بندر عباس میں ایک پہاڑی پر قائم مواصلاتی ٹاور پر بمباری کی گئی، جس کے نتیجے میں پورے علاقے میں بجلی کی فراہمی شدید متاثر ہوئی ہے۔ بندر عباس کے ہی ایک رہائشی علاقے پر ہونے والے امریکی حملے کے نتیجے میں کم از کم 7 افراد کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات ملی ہیں۔ واضح رہے کہ یہ کارروائیاں امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے اس اعلان کے فوراً بعد سامنے آئی ہیں جس میں کہا گیا تھا کہ امریکی فوج نے ایرانی فوجی صلاحیت کو مزید کمزور کرنے کے لیے حملوں کی ایک نئی لہر کا آغاز کر دیا ہے۔