برسلز پر یورپی اراکینِ پارلیمنٹ اور انسانی حقوق کی تنظیموں کا شدید احتجاج
Web Desk
27 June 2026
بیلجیئم کے دارالحکومت برسلز میں افغان طالبان کے وفد کی یورپی یونین کے حکام سے ملاقات پر یورپی اراکینِ پارلیمنٹ اور انسانی حقوق کی تنظیمیں سراپا احتجاج بن گئی ہیں۔ یورپی پارلیمنٹ کی رکن ہنّا نوئیمان نے یورپی کمیشن کو افغان طالبان کی میزبانی اور ان سے مذاکرات کرنے پر سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ‘ایکس’ پر جاری اپنے ایک بیان میں ہنّا نوئیمان نے کہا کہ افغان طالبان یورپی یونین کے ساتھ کسی قسم کی تکنیکی گفتگو کے خواہاں نہیں ہیں، بلکہ وہ اس موقع کو اپنی سیاسی حیثیت کو تسلیم کروانے کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ دوسری جانب، یورپی پارلیمنٹ کی افغان کمیٹی کی سربراہ روشیل گارشیا نے یورپی کمیشن پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ 45 کروڑ یورپی شہریوں کی طرف سے افغان عوام سے معذرت خواہ ہیں کہ وہ نام نہاد مذاکرات کے اس پاگل پن کو روکنے میں ناکام رہے۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اس نوعیت کے مذاکرات غاصب افغان رجیم کو عالمی سطح پر قبولیت فراہم کرنے کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔
اسی تناظر میں، ‘انٹرنیشنل فیڈریشن فار ہیومن رائٹس’ نے بیلجیئم کے وفاقی پراسیکیوٹر سے باضابطہ رجوع کرتے ہوئے یورپی سرزمین پر موجود افغان طالبان کے وفد کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کر دیا ہے۔ تنظیم کے صدر ایلیکسیس ڈیسویف کے مطابق، یورپی یونین کی سرزمین پر افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات کرنا ایک غاصب حکومت کو سیاسی جواز فراہم کرنے کے مترادف ہے۔
بین الاقوامی جریدے ‘الجزیرہ’ کو دیے گئے ایک بیان میں ‘ہیومن رائٹس واچ’ کی محقق فرشتہ عباسی نے کہا کہ یورپی یونین ایک طرف تو افغان طالبان کے مظالم کی مذمت کرتی ہے، لیکن دوسری طرف ان سے روابط رکھ کر اپنی ساکھ کو خود داغدار کر رہی ہے۔ بین الاقوامی امور کے ماہرین کا بھی یہی ماننا ہے کہ برسلز میں مذاکرات کے بجائے افغان طالبان کو بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے کٹہرے میں لایا جانا چاہیے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ غاصب افغان رجیم کو ایسی سفارتی رعایتیں دینے کا خمیازہ عالمی برادری کو مستقبل میں دہشت گردی، منشیات کی سمگلنگ اور غیر قانونی ہجرت کی صورت میں بھگتنا پڑے گا۔
متعلقہ عنوانات
اسحاق ڈار کا عباس عراقچی سے رابطہ، امن و استحکام کے عزم کا اعادہ
27 June 2026
روس اور پاکستان کے درمیان سفارتی رابطہ، خلیج فارس کی صورتحال پر تبادلہ خیال
27 June 2026
مودی کی انتہاپسندانہ پالیسیوں نے پورے بھارت کو اپنی لپیٹ میں لے لیا
27 June 2026
روس کی مشرق وسطیٰ میں امن کیلئے پاکستان کے سفارتی کردار کی تعریف
27 June 2026
لبنانی صدر نے معاہدے کو ملکی خود مختاری کی بحالی کی جانب پہلا قدم قرار دیدیا
27 June 2026
معاہدے کا مقصد اسرائیلی افواج کا تمام لبنانی علاقوں سے انخلا یقینی بنانا ہے: لبنانی وزیراعظم
27 June 2026
حزب اللہ نے اسرائیل اور لبنان کے درمیان معاہدے کو غلطی قرار دیدیا
27 June 2026
امریکا، خلیجی ممالک نے آبنائے ہرمز میں بلا رکاوٹ بحری نقل و حرکت ناگزیر قرار دیدی
27 June 2026