LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
نیویارک میں ملازمین کے حقوق کی پامالی پر والگرینز سمیت 4 کمپنیوں کو 21 لاکھ ڈالر جرمانہ؛ 1600 سے زائد ورکرز کو ہرجانہ ملے گا ایران میں حکومت کی تبدیلی نہیں، معاہدہ ترجیح ہے: ٹرمپ پاکستان دہشت گردی کے خلاف ہر ضروری اقدام کا حق محفوظ رکھتا ہے: فیلڈ مارشل صدرمملکت کرغزستان پہنچ گئے، ایئر پورٹ پر گارڈ آف آنرز پیش ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکے گا: ٹرمپ کا ایک بار پھر دعویٰ اسحاق ڈار کی یو این سیکرٹری جنرل عہدے کی امیدوار سے ملاقات، باہمی امور پر تبادلہ خیال جنگ بندی کے باوجود غزہ پر اسرائیلی حملے جاری، 6 فلسطینی شہید سندھ طاس معاہدے پر سمجھوتہ نہیں ہوگا، جنگ لڑنا پڑی تو لڑیں گے: بلاول بھٹو اسرائیلی وزیرِ دفاع کی ایرانی قیادت ختم کرنے کی دھمکی روس کا یوکرین آپریشن ایک حقیقی جنگ کی شکل اختیار کر رہا ہے: کریملن ایران میں ہفتۂ سوگ کے باعث امن مذاکرات مؤخر کیے: ٹرمپ منی پور میں کشیدگی کی نئی لہر، مودی سرکار حالات پر قابو پانے میں مکمل ناکام امریکہ ہی اسرائیل کا واحد طاقتور اتحادی نہیں، ’ایک چھوٹا سا ملک انڈیا‘ بھی ہے: نیتن یاہو ایران کا تہران کی فضائی حدود مکمل طور پر بند رکھنے کا اعلان ایران اور قطری حکام کی دوحہ میں بیٹھک، بحری تجارت بحال کرنے کا اعلان

انگلینڈ میں 18 سالہ نوجوان کے قتل کیخلاف احتجاج: 11 افسران زخمی، 100 مظاہرین گرفتار

Web Desk

4 June 2026

لندن: انگلینڈ میں 18 سالہ سفید فام نوجوان ‘ہنری نواک’ کے قتل کے خلاف دائیں بازو کے حامیوں کے پرتشدد احتجاج اور مظاہروں کا سلسلہ شدت اختیار کر گیا ہے، جس کے دوران اب تک 11 پولیس افسران شدید زخمی جبکہ 100 سے زائد مظاہرین کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق، ہنری نواک نامی نوجوان چاقو کے حملے میں شدید زخمی ہوا تھا، تاہم پولیس نے اسے طبی امداد فراہم کرنے کے بجائے حراست میں لے لیا تھا۔ اس سنگین غفلت پر ہیمپشائر اور آئل آف وائٹ کی چیف کانسٹیبل ‘الیکسز بون’ نے نوجوان کی گرفتاری کے طریقے پر باقاعدہ عوامی معافی مانگ لی ہے۔

بتایا گیا ہے کہ چاقو کے وار سے لہولہان اور شدید زخمی نواک کو جائے وقوعہ پر پولیس کی جانب سے ہتھکڑیاں لگائی گئی تھیں، جبکہ وہ شدید تکلیف کی حالت میں پولیس اہلکاروں کے سامنے مسلسل یہ دہائی دیتا رہا کہ “اس کا دم نکل رہا ہے”۔ پولیس کے اس رویے کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ملک بھر میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی اور دائیں بازو کی تنظیموں نے سڑکوں پر نکل کر شدید احتجاج شروع کر دیا۔برطانوی وزیر اعظم کیئر سٹارمر نے ہنری نواک کی گرفتاری اور پولیس سلوک کے اس واقعے کو انتہائی پریشان کن اور افسوسناک قرار دیا ہے۔

وزیراعظم نے اپنے بیان میں کہا”میں نے ہنری نواک کی گرفتاری کی اسکرینز پر آنے والی ویڈیو دیکھی ہے جو کہ انتہائی دہشت ناک اور دل دہلا دینے والی ہے۔ ‘انڈیپنڈنٹ آفس فار پولیس کنڈکٹ’ (IOPC) کو اس پورے معاملے کی فوری اور شفاف تحقیقات کرتے ہوئے تہہ تک جانا چاہیے تاکہ ذمہ داروں کا تعین کیا جا سکے اور انصاف کے تقاضے پورے ہوں۔”

مظاہروں کے باعث مختلف شہروں میں سکیورٹی انتہائی سخت کر دی گئی ہے اور پولیس لائنز کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے تاکہ دائیں بازو کے مشتعل مظاہرین اور پولیس کے درمیان مزید تصادم کو روکا جا سکے۔