LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا بار بار وعدہ خلافی کرتا، سفارتکاری بارے واشنگٹن کا رویہ نامناسب ہے: ایران جسٹس منیب اختر نے قائم مقام چیف جسٹس سپریم کورٹ کا حلف اٹھا لیا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران پر حملے کا دفاع، دوبارہ بھی حملوں کا اعلان سعودی عرب نے طائف کی جانب داغا گیا بیلسٹک میزائل فضا میں تباہ کر دیا ایران کیخلاف جنگ میں امریکا کے اخراجات 47 ارب ڈالر سے متجاوز ایران کے 440 کلوگرام انتہائی افزودہ یورینیم کا سراغ تاحال نہیں مل سکا، رافیل گروسی برطانیہ میں آر اے ایف فیئر فورڈ ایئربیس واقعے میں ملوث 2 افراد پر فرد جرم عائد فرانس نے سمندری نگرانی کرنے والا طیارہ عارضی طور پر رومانیہ منتقل کر دیا اسرائیل الیکشن، ایگزٹ پولز میں نیتن یاہو کے اتحاد کو معمولی برتری حاصل کولمبیا کے جنوب مغربی علاقے میں حملہ، 6 افراد ہلاک برازیل نے صدارتی انتخابات میں دھاندلی کے امریکی الزام کو مسترد کر دیا برطانیہ نے یورپی یونین میں دوبارہ شمولیت کا امکان مسترد کر دیا سعودی ولی عہد کو قازقستان کے صدر کا تحریری مکتوب موصول اردن کا چرچ حملے کے بعد جنوبی شام پر فضائی حملہ، متعدد ہلاکتوں کا دعویٰ اردن کے فضائی حملے، شام نے سرحدی گزرگاہ بند کر دی

ایلون مسک کی اے آئی فلم ’اوڈیسی‘ کی پہلی قسط جاری، مکمل فلم 2026 میں بنانے کا منصوبہ

Web Desk

27 October 2026

معروف امریکی کاروباری شخصیت اور ٹیکنالوجی ٹائیکون ایلون مسک نے یونانی شاعر ہومر کی مشہور رزمیہ تخلیق ’اوڈیسی‘ (Odyssey) سے متاثر ہو کر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کردہ اپنی نئی فلم کی پہلی قسط جاری کر دی ہے۔

سات منٹ سے زائد دورانیے کی اس وڈیو کے ذریعے ایلون مسک نے اپنے اے آئی فلم سازی کے نئے منصوبے کی پہلی جھلک دنیا کے سامنے پیش کی ہے اور سوشل میڈیا صارفین سے اس پر آرا طلب کی ہیں۔ ایلون مسک نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر بتایا کہ اس پروجیکٹ میں ان کی کمپنی کے مصنوعی ذہانت کے جدید نظام ’گروک امیجن‘ (Grok Imagine) کے ساتھ ساتھ ‘ونڈر اسٹوڈیوز’ اور ہدایت کار ‘دیو واکر’ کی خدمات حاصل کی گئی ہیں۔ مسک اس سے قبل اعلان کر چکے ہیں کہ وہ 2026 کے اختتام سے پہلے مصنوعی ذہانت کی مدد سے ایک مکمل فلم تیار کریں گے، جس میں تاریخی حقائق اور ہومر کی اصل تخلیق کے ساتھ بھرپور مطابقت برقرار رکھی جائے گی، تاہم باقی اقساط کی ریلیز کے حوالے سے تاحال کوئی حتمی تاریخ سامنے نہیں آئی۔

واضح رہے کہ ایلون مسک اس سے قبل معروف ہدایت کار کرسٹوفر نولان کی فلم میں ‘اوڈیسی’ کے کرداروں کی کاسٹنگ پر بھی سخت تنقید کر چکے ہیں، جن میں اداکارہ لوپیتا نیونگو کو ‘ہیلن آف ٹرائے’ اور ایلیٹ پیج کو ‘سینون’ کے کردار میں کاسٹ کرنا شامل تھا۔ مسک کا مؤقف تھا کہ روایتی داستانوں میں ہیلن آف ٹرائے کو غیر معمولی حسن کی حامل خاتون کے طور پر پیش کیا گیا ہے، اور یہی خوبصورتی ٹروجن جنگ کے پس منظر میں مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔ اس پس منظر میں ایلون مسک کا اپنا یہ اے آئی فلمی منصوبہ اس امر کو اجاگر کر رہا ہے کہ مصنوعی ذہانت مستقبل میں فلم سازی اور تخلیقی صنعتوں کو کس حد تک تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔