LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران کیخلاف کسی بھی طاقت کا اتحاد ناکامی سے دوچار ہوگا: ترجمان ایرانی فوج شہباز شریف کی نواز شریف سے ملاقات، ملکی سیاسی و معاشی صورتحال پر مشاورت صدر پوتن کی امریکہ میں جی 20 سربراہی اجلاس میں شرکت کا فیصلہ نہیں ہوا: کریملن پاکستان پوسٹ میں غیر قانونی بھرتیوں کا کیس، اسعد محمود تفتیش سے روپوش قرار پاکستان میں انتظامی یونٹس بنانے کے حوالے سے غور کرنا چاہئے: خواجہ آصف وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی دیوالی کے تہوار پر ہندو برادری کو مبارکباد وزیراعظم شہباز شریف کی آذربائیجان کو یوم فتح کی چھٹی سالگرہ پر مبارکباد شادی اور بچے پیدا کرنے کی ہمت کریں: پوپ لیو کی جنوبی امریکا میں نوجوانوں کو نصیحت سعودی عرب نے ریاض کی جانب داغے گئے 2 بیلسٹک اور 2 کروز میزائل تباہ کر دیے ڈی جی آئی ایس پی آر کا لاہور کی تین جامعات کا دورہ، طلبہ اور اساتذہ سے خصوصی نشستیں ٹرمپ کا سیاسی انتقام لینے اور دھمکیاں دینے پر ڈیموکریٹس کے خلاف تحقیقات کا حکم فضائی آلودگی میں لاہور دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں سرفہرست صدر اور وزیراعظم کا دیوالی پر ملک میں اتحاد، مذہبی ہم آہنگی کے فروغ پر زور امریکی فوج کا بحیرۂ عمان میں تجارتی جہاز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ پاکستان اور سری لنکا کے درمیان دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا کل سے آغاز: بابر اعظم اور کوشال مینڈس اپنی ٹیموں کی قیادت کریں گے

خلائی تحقیق اور مصنوعی ذہانت میں بڑا انقلاب: ایلون مسک کی دولت ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی

Web Desk

4 February 2026

دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک نے اپنی خلائی کمپنی اسپیس ایکس (SpaceX) کو اپنی مصنوعی ذہانت کی کمپنی ایکس اے آئی (xAI) کے ساتھ ضم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ اس تاریخی کاروباری اقدام کے بعد نئی تشکیل پانے والی کمپنی کی مجموعی مالیت تقریباً 1.25 ٹریلین ڈالر بتائی جا رہی ہے، جو اس نوعیت کے سب سے بڑے معاہدوں میں شمار کی جا رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق معاہدے کے بعد ایلون مسک کی ذاتی دولت میں تقریباً 84 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا، جس کے نتیجے میں ان کی مجموعی دولت 852.5 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی ہے، اور وہ بدستور دنیا کے امیر ترین شخص بن گئے ہیں۔

معاہدے کی تفصیلات کے مطابق اسپیس ایکس کی تخمینی مالیت تقریباً 1 ٹریلین ڈالر جبکہ ایکس اے آئی کی مالیت 250 ارب ڈالر کے لگ بھگ ہے۔ انضمام کے بعد ایکس اے آئی کے شیئرز کو اسپیس ایکس کے شیئرز میں تبدیل کیا جائے گا، جبکہ دونوں کمپنیوں کے مصنوعی ذہانت، راکٹ ٹیکنالوجی، اسٹارلنک سیٹلائٹ نیٹ ورک اور دیگر جدید منصوبے ایک ہی پلیٹ فارم پر کام کریں گے۔

مالی اور ٹیکنالوجی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس انضمام سے اسپیس ایکس کو مستقبل کے ڈیٹا سینٹرز، اے آئی سروسز اور خلائی منصوبوں میں نمایاں برتری حاصل ہوگی، جبکہ کمپنی کو ممکنہ طور پر عوامی سرمایہ کاری (IPO) کے لیے بھی تیار کیا جا رہا ہے، جس کا امکان رواں سال جون میں ظاہر کیا جا رہا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اقدام مصنوعی ذہانت، خلائی تحقیق اور عالمی کاروباری دنیا میں نئی راہیں کھول سکتا ہے، تاہم بعض ناقدین نے کمپنی کی غیر معمولی مالیت اور تخمینوں پر سوالات بھی اٹھائے ہیں۔