LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران کیخلاف کسی بھی طاقت کا اتحاد ناکامی سے دوچار ہوگا: ترجمان ایرانی فوج شہباز شریف کی نواز شریف سے ملاقات، ملکی سیاسی و معاشی صورتحال پر مشاورت صدر پوتن کی امریکہ میں جی 20 سربراہی اجلاس میں شرکت کا فیصلہ نہیں ہوا: کریملن پاکستان پوسٹ میں غیر قانونی بھرتیوں کا کیس، اسعد محمود تفتیش سے روپوش قرار پاکستان میں انتظامی یونٹس بنانے کے حوالے سے غور کرنا چاہئے: خواجہ آصف وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی دیوالی کے تہوار پر ہندو برادری کو مبارکباد وزیراعظم شہباز شریف کی آذربائیجان کو یوم فتح کی چھٹی سالگرہ پر مبارکباد شادی اور بچے پیدا کرنے کی ہمت کریں: پوپ لیو کی جنوبی امریکا میں نوجوانوں کو نصیحت سعودی عرب نے ریاض کی جانب داغے گئے 2 بیلسٹک اور 2 کروز میزائل تباہ کر دیے ڈی جی آئی ایس پی آر کا لاہور کی تین جامعات کا دورہ، طلبہ اور اساتذہ سے خصوصی نشستیں ٹرمپ کا سیاسی انتقام لینے اور دھمکیاں دینے پر ڈیموکریٹس کے خلاف تحقیقات کا حکم فضائی آلودگی میں لاہور دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں سرفہرست صدر اور وزیراعظم کا دیوالی پر ملک میں اتحاد، مذہبی ہم آہنگی کے فروغ پر زور امریکی فوج کا بحیرۂ عمان میں تجارتی جہاز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ پاکستان اور سری لنکا کے درمیان دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا کل سے آغاز: بابر اعظم اور کوشال مینڈس اپنی ٹیموں کی قیادت کریں گے

برقی گاڑیوں کے مالکان ہو جائیں ہوشیار! تحقیق میں اہم انکشاف

Web Desk

24 September 2026

برٹش وہیکل رینٹل اینڈ لیزنگ ایسوسی ایشن (BVRLA) کی ایک تازہ ترین تحقیق کے مطابق، الیکٹرک گاڑیوں (EVs) میں پہیوں اور ٹائروں سے متعلق نقائص کا امکان روايتی پٹرول یا ڈیزل گاڑیوں کے مقابلے میں تقریباً 1.8 گنا زیادہ ہوتا ہے۔ یہ نتائج برطانیہ میں انجام دی جانے والی 4 کروڑ 70 لاکھ سے زائد ایم او ٹی (MOT) گاڑیوں کی معائنہ آزمائشوں کے اعداد و شمار کا تجزیہ کرنے کے بعد سامنے آئے ہیں۔

تحقیق کے مطابق، برقی گاڑیوں میں بھاری بیٹری پیک کا استعمال اور الیکٹرک موٹر سے ملنے والا فوری ٹارک (Torque) ٹائروں اور پہیوں پر اضافی اور شدید دباؤ ڈالتا ہے۔ بعض برقی گاڑیوں میں بیٹری پیک کا وزن 299 سے 499 کلوگرام تک ہوتا ہے، جو گاڑی کے مجموعی وزن کا 25 فیصد تک بنتا ہے۔ پٹرول انجن کے برعکس، برقی موٹر جیسے ہی اسٹارٹ ہوتی ہے فوری طور پر زیادہ ٹارک فراہم کرتی ہے، جس سے ٹائروں کی رگڑ اور گھساؤ تیز ہو جاتا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پرانے ماڈلز میں یہ مسائل اور بریک کے نقائص زیادہ نمایاں ہیں، جس کی وجہ سے مالکان کو پریمیم ٹائروں کی تبدیلی اور مرمت پر سینکڑوں پاؤنڈز کے اضافی اخراجات برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔