LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پولیس اور عدالتی نظام ناقص ، پورے سسٹم کو جڑ سے اکھاڑنا ہوگا: حافظ نعیم الرحمان سندھ طاس معاہدے کی پاسداری علاقائی امن و استحکام کیلئے ضروری ہے: اسحاق ڈار ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی، رائفل تھامے تصویر کیساتھ ’نو مور نائس گائے‘ کا پیغام امریکا ایران تنازع کا واحد قابلِ عمل حل مذاکرات اور سفارت کاری ہے: چین آبنائے ہرمز سے کسی جہاز کو بغیر اجازت گزرنے کی اجازت نہیں: ایران امریکا کو سمجھنا ہوگا کہ دباؤ سے سفارتکاری بحال نہیں ہوسکتی: عباس عراقچی ایل این جی کی قیمتوں میں بڑی کمی، اوگرا نے نوٹیفکیشن جاری کردیا روسی اخبارات میں سی آئی اے چیف کے دورہ ماسکو، برطانیہ کو روسی انتباہ اور سوئس پابندیوں کے مستقبل پر بحث پنجاب اسمبلی میں بجلی کی غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ کے خلاف قرارداد متفقہ طور پر منظور پاکستان کے پورٹ سسٹم میں اصلاحات، 85 اقدامات پر عملدرآمد پی ٹی آئی نے الیکشن کمیشن میں مالی گوشواروں کی تفصیلات جمع کرادیں نو منتخب وزیراعظم آزاد کشمیر افتخار گیلانی نے عہدے کا حلف اٹھا لیا این ای ڈی یونیورسٹی اور پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط ایران نے امریکی پابندیوں کو ریاستی دہشتگردی قرار دے دیا ہاکی ورلڈ کپ: پاکستان نے جنوبی افریقہ کو ہرا کر 11ویں پوزیشن حاصل کرلی

مصر کا ترکی، سعودی عرب اور پاکستان کے دفاعی معاہدے میں شمولیت کا عندیہ

Web Desk

14 August 2026

قاہرہ میں ترکیہ کے وزیر خارجہ حاقان فیدان کے ہمراہ ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مصر کے وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی نے انکشاف کیا ہے کہ مصر ترکیہ، سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان طے پانے والے اہم دفاعی معاہدے میں شمولیت کے امکانات اور اس کی تفصیلات کا بغور جائزہ لے رہا ہے۔ مصری وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ خطے میں تیزی سے بدلتی ہوئی سیاسی و امن و امان کی صورتحال اور بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر علاقائی ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کو مزید مضبوط بنانا وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مصر علاقائی سلامتی اور استحکام کے لیے کی جانے والی تمام کوششوں کا جائزہ لے رہا ہے۔

اس موقع پر ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان نے مصر کو ترکیہ کا “فطری شراکت دار” قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ مصر جلد باضابطہ طور پر اس دفاعی شراکت داری کا حصہ بن جائے گا۔ حاقان فیدان نے بتایا کہ ترکیہ، سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان ہونے والے اس دفاعی تعاون کا بنیادی مقصد اس شراکت داری کو زیادہ ادارہ جاتی اور پائیدار بنانا ہے تاکہ خطے میں امن و سلامتی کے لیے مشترکہ اقدامات کو مؤثر انداز میں آگے بڑھایا جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس تعاون کا مقصد کسی بھی ملک کے خلاف محاذ قائم کرنا نہیں، بلکہ خطے میں امن، استحکام اور اجتماعی سلامتی کو یقینی بنانا ہے۔