LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
نیویارک کے مشہور ساحلی علاقے کونی آئی لینڈ میں فائرنگ، 4 بچوں سمیت 8 افراد زخمی اسرائیل کی سفاکیت کم نہ ہوئی، ڈرون حملے میں مزید 2 فلسطینی شہید، متعدد زخمی یورپ میں شدید گرمی کی لہر برقرار، اموات 4 ہزار سے تجاوز کر گئیں اسرائیلی فوج کے سربراہ کا لبنان میں فیصلہ کن کارروائیاں جاری رکھنے کا اعلان مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد مشکل ضرور ہے لیکن ناممکن نہیں، باقر قالیباف ٹرمپ نے کہا وٹکوف، جیرڈ کشنر دوبارہ ماسکو آنے کیلئے تیار ہیں: ترجمان کریملن صدر ٹرمپ انقرہ میں نیٹو ممالک کے اجلاس میں شرکت کریں گے، وائٹ ہاؤس اوپیک پلس ممالک کا اگست کیلئے تیل کی پیداوار بڑھانے کا فیصلہ امریکی نیوی نے بحیرہ عرب میں لاپتہ اہلکار کی تلاش روک دی گروپ کیپٹن کو شہید کرنے والا ملزم سعد 9 گھنٹوں میں گرفتار کر لیا: آئی جی اسلام آباد وفاقی وزیر احسن اقبال کا دورہ امریکہ: ہیلتھ کیئر اور معاشی ترقی کے لیے سمندر پار پاکستانیوں کو شراکت داری کی دعوت، ٹیلی میڈیسن ماڈل کی تجویز فلسطینی علاقوں پر قبضہ ختم ہونے تک اسرائیل سے تعلقات بحال نہیں ہو سکتے، مصر یمنی فورسز اور حوثیوں کے درمیان جھڑپوں میں 65 اموات کی تصدیق شہید رہبراعلیٰ کے خون کا بدلہ ضرور لیں گے، مشیر ایرانی سپریم لیڈر پشاور: چینی باشندوں کی حفاظت کےلئے فول پروف نظام قائم

دوحہ میں ایران سے ملاقات شاید اہم ہو، شاید نہ ہو: ڈونلڈ ٹرمپ

Web Desk

30 June 2026

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ دوحہ میں ہونے والے مجوزہ مذاکرات پر مصلحانہ مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ قطر میں ہونے والی یہ ملاقات شاید اہم ہو، اور شاید نہ ہو، لیکن اس کا تزویراتی نتیجہ جلد ہی سب کے سامنے آ جائے گا۔

واشنگٹن میں اپنی صدارتی رہائش گاہ ‘وائٹ ہاؤس’ (White House) میں صحافیوں سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے تصدیق کی کہ ایران کے جوہری ہتھیاروں کے خاتمے (Denuclearization) کے تزویراتی ایجنڈے پر مروجہ اجلاس دوحہ میں منعقد ہوگا، لہٰذا ہم باریک بینی سے دیکھ رہے ہیں کہ یہ معاملہ کس طرف جاتا ہے۔

صدر ٹرمپ نے سفارتی محاذ پر پیش رفت کا احاطہ کرتے ہوئے ایک طرف تو یہ دعویٰ کیا کہ ہم اس معاملے پر بہت اچھی پیش رفت کر رہے ہیں، تاہم ساتھ ہی روایتی محتاط انداز اپناتے ہوئے کہا کہ دوحہ میں ہونے والی ملاقات کی حتمی اہمیت کا اندازہ وقت ہی لگائے گا۔ صحافیوں سے گفتگو میں ان کے اہم تزویراتی نکات درج ذیل تھے:

  • عسکری برتری کا دعویٰ: “عسکری طور پر ہم جیت رہے ہیں، بلکہ میں تو کہوں گا عسکری طور پر ہم جیت چکے ہیں، یہ ایک سادہ سی بات ہے۔”

  • جوہری عدم پھیلاؤ کا عزم: “ہم کسی صورت نہیں چاہتے کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار ہوں، اور ان کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہوں گے۔”

  • ایرانی آمادگی کا اشارہ: “اگر انصاف کے ساتھ دیکھا جائے تو وہ (ایرانی حکام) اب اس مروجہ شرط پر رضا مند بھی ہو چکے ہیں۔”

واضح رہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان دوحہ میں طے شدہ اس ٹیکنیکل سیشن کے حوالے سے گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران دونوں ممالک کی مروجہ قیادت کی جانب سے شدید متضاد بیانات سامنے آئے ہیں۔ ایک طرف امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے آفیشل سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ (Truth Social) پر پوسٹ کے ذریعے دعویٰ کیا تھا کہ ایران نے خود ایک ملاقات کی درخواست کی ہے، جو دوحہ میں ہوگی۔

دوسری جانب، ایران کی تکنیکی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ کاظم غریب آبادی اور وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اس ملاقات کی سختی سے تردید کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ آئندہ چند روز میں کسی بھی سطح پر ایران اور امریکہ کے درمیان کوئی باقاعدہ ملاقات طے نہیں ہے۔

اس تزویراتی ابہام کے باوجود وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ (Karoline Leavitt) نے امریکی نشریاتی ادارے ‘فاکس نیوز’ کو ہائی لیول بریکنگ دیتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ امریکہ کے نامزد خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر اس ہفتے کے اعلیٰ سطح کے تزویراتی اجلاسوں میں شرکت کے لیے باقاعدہ دوحہ پہنچ رہے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پسِ پردہ مروجہ سفارت کاری انتہائی تیز ہو چکی ہے۔