دوحہ میں ایران سے ملاقات شاید اہم ہو، شاید نہ ہو: ڈونلڈ ٹرمپ
Web Desk
30 June 2026
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ دوحہ میں ہونے والے مجوزہ مذاکرات پر مصلحانہ مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ قطر میں ہونے والی یہ ملاقات شاید اہم ہو، اور شاید نہ ہو، لیکن اس کا تزویراتی نتیجہ جلد ہی سب کے سامنے آ جائے گا۔
واشنگٹن میں اپنی صدارتی رہائش گاہ ‘وائٹ ہاؤس’ (White House) میں صحافیوں سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے تصدیق کی کہ ایران کے جوہری ہتھیاروں کے خاتمے (Denuclearization) کے تزویراتی ایجنڈے پر مروجہ اجلاس دوحہ میں منعقد ہوگا، لہٰذا ہم باریک بینی سے دیکھ رہے ہیں کہ یہ معاملہ کس طرف جاتا ہے۔
صدر ٹرمپ نے سفارتی محاذ پر پیش رفت کا احاطہ کرتے ہوئے ایک طرف تو یہ دعویٰ کیا کہ ہم اس معاملے پر بہت اچھی پیش رفت کر رہے ہیں، تاہم ساتھ ہی روایتی محتاط انداز اپناتے ہوئے کہا کہ دوحہ میں ہونے والی ملاقات کی حتمی اہمیت کا اندازہ وقت ہی لگائے گا۔ صحافیوں سے گفتگو میں ان کے اہم تزویراتی نکات درج ذیل تھے:
-
عسکری برتری کا دعویٰ: “عسکری طور پر ہم جیت رہے ہیں، بلکہ میں تو کہوں گا عسکری طور پر ہم جیت چکے ہیں، یہ ایک سادہ سی بات ہے۔”
-
جوہری عدم پھیلاؤ کا عزم: “ہم کسی صورت نہیں چاہتے کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار ہوں، اور ان کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہوں گے۔”
-
ایرانی آمادگی کا اشارہ: “اگر انصاف کے ساتھ دیکھا جائے تو وہ (ایرانی حکام) اب اس مروجہ شرط پر رضا مند بھی ہو چکے ہیں۔”
واضح رہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان دوحہ میں طے شدہ اس ٹیکنیکل سیشن کے حوالے سے گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران دونوں ممالک کی مروجہ قیادت کی جانب سے شدید متضاد بیانات سامنے آئے ہیں۔ ایک طرف امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے آفیشل سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ (Truth Social) پر پوسٹ کے ذریعے دعویٰ کیا تھا کہ ایران نے خود ایک ملاقات کی درخواست کی ہے، جو دوحہ میں ہوگی۔
دوسری جانب، ایران کی تکنیکی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ کاظم غریب آبادی اور وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اس ملاقات کی سختی سے تردید کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ آئندہ چند روز میں کسی بھی سطح پر ایران اور امریکہ کے درمیان کوئی باقاعدہ ملاقات طے نہیں ہے۔
اس تزویراتی ابہام کے باوجود وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ (Karoline Leavitt) نے امریکی نشریاتی ادارے ‘فاکس نیوز’ کو ہائی لیول بریکنگ دیتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ امریکہ کے نامزد خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر اس ہفتے کے اعلیٰ سطح کے تزویراتی اجلاسوں میں شرکت کے لیے باقاعدہ دوحہ پہنچ رہے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پسِ پردہ مروجہ سفارت کاری انتہائی تیز ہو چکی ہے۔
متعلقہ عنوانات
ڈونلڈ ٹرمپ کا کینیڈین مصنوعات پر 50 فیصد نئے ٹیرف روکنے کا اعلان
19 August 2026
ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے کیلئے امریکا کے سامنے مطالبات رکھ دیئے
19 August 2026
ہاکی ورلڈ کپ: پاکستان اور بھارت کی ٹیمیں آج مدمقابل ہونگی
19 August 2026
دوبارہ فوجی ایکشن سے سفارتکاری کا وقت آگیا، دباؤ بڑھا کر امریکا رعایتیں حاصل نہیں کر سکتا: ایران
19 August 2026
ایران اور امریکا کے درمیان جنگ میں آبنائے ہرمز پر کنٹرول اہم ترین محاذ بن گیا: میڈیا رپورٹ
19 August 2026
خلیج فارس میں امریکی تسلط کے بعد کا نظام ابھر رہا ہے، محسن رضائی
19 August 2026
پاکستان کا اہم فیصلہ: بھارتی رجسٹرڈ طیاروں کے لیے فضائی حدود کے استعمال پر پابندی میں 24 ستمبر 2026 تک توسیع
19 August 2026
روس کے یوکرین کے شمال مشرقی علاقے میں میزائل حملے، 10 افراد ہلاک، 18 زخمی
19 August 2026