LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
وزراء صرف الزام تراشی کر سکتے ہیں، کچھ ثابت نہیں کر سکے: مولانا عبدالغفور حیدری کی پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو پاکستان اور سنگاپور کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور تعلیمی تعاون بڑھانے پر اتفاق 30 رکنی الیکشن ریفارمز کمیٹی کا جلد نوٹیفکیشن جاری ہوگا، تحریک انصاف نے مخالفت نہیں کی: طارق فضل چوہدری 70 سالہ نورین نیازی کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، عوام کو کاکروچ کی طرح ٹریٹ نہ کیا جائے: سلمان اکرم راجہ پاکستان میں ذہنی امراض کے شکار افراد کی تعداد 3 کروڑ 24 لاکھ سے تجاوز، ماہرینِ نفسیات کی شدید قلت کا انکشاف پیپلز پارٹی کے وفد کی اپوزیشن چیمبر آمد، قائدِ حزب اختلاف سینیٹ اور قومی اسمبلی سے اہم ملاقات سال 2026 کی تیسری ذیلی قومی پولیو مہم کا آغاز، 2 کروڑ 40 لاکھ بچوں کو قطرے پلانے کا ہدف: وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال پرائیویٹ حج پیکجز کی تفصیلات قومی اسمبلی میں پیش پاکستان مشرقِ وسطیٰ کشیدگی میں قابل تعریف کردار ادا کر رہا ہے: سنگاپور پیپلزپارٹی کی اپوزیشن کو انتخابی اصلاحات کمیٹی میں شمولیت کی دعوت آزاد کشمیر: گھر میں گیس سلنڈر دھماکے سے 3 خواتین سمیت 4 افراد جاں بحق پنجاب میں ای بزنس کا فروغ ترجیح، 4 لاکھ نوجوانوں کو ہنر مند بنا دیا: مریم نواز سپر ایل نینیو 10 ماہ میں نو لاکھ اضافی اموات کا سبب بن سکتا ہے: سائنس دان بجلی 2 روپے 56 پیسے مہنگی کرنے کی در خواست پر فیصلہ محفوظ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی محسن رضائی سے براہ راست ملاقات کی پیشکش

نامور کمپیئر اور مصنف دلدار پرویز بھٹی کو دنیا چھوڑے 32 برس گزر گئے

Web Desk

29 October 2026

نامور کمپیئر، مزاح نگار اور مصنف دلدار پرویز بھٹی کو اپنے مداحوں سے بچھڑے ہوئے 32 برس بیت گئے ہیں، جن کی زندگی اور فنی خدمات آج بھی پاکستانی میڈیا اور ادبی حلقوں میں سنہری حروف سے یاد رکھی جاتی ہیں۔

بیک وقت اردو، انگریزی اور پنجابی زبانوں پر عبور رکھنا اُن کی منفرد پہچان بنا۔ دلدار پرویز بھٹی اپنی بے مثال حاضر جوابی، شگفتہ بیانی اور منفرد اندازِ گفتگو کے باعث ہر دلعزیز فنکار اور استاد مانے جاتے تھے۔ وہ ادب کے دائرے میں رہ کر طنز و مزاح تخلیق کرنے اور لوگوں کے چہروں پر مسکراہٹیں بکھیرنے کے فن سے بخوبی آشنا تھے، اور اسی دلکش طرزِ گفتگو کی وجہ سے وہ عوام میں بے حد مقبول ہوئے۔ وہ 30 نومبر 1948ء کو گوجرانوالہ میں پیدا ہوئے، اور انہوں نے اپنے پیشہ ورانہ کیریئر کا آغاز گورنمنٹ کالج ساہیوال سے بطور لیکچرار کیا تھا۔

پی ٹی وی کو پنجابی زبان میں پہلا کوئز شو شروع کرنے کا شاندار آئیڈیا سب سے پہلے دلدار پرویز بھٹی نے ہی دیا تھا، اور انہوں نے پی ٹی وی کے مشہور زمانہ پروگرام ’’ٹاکرا‘‘ سے اپنے باضابطہ فنی سفر کا آغاز کیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے پاکستان ٹیلی ویژن پر ’’میلہ‘‘، ’’یادش بخیر‘‘ اور ’’پنجند‘‘ جیسے مقبولِ عام پروگرام بھی انتہائی کامیابی کے ساتھ پیش کیے۔ وہ سنہ 1974ء سے لے کر تادمِ مرگ پی ٹی وی کے ساتھ مستقل وابستہ رہے۔ کمپیئرنگ کے ساتھ ساتھ وہ ایک بہترین مصنف بھی تھے، جن کی تحریر کردہ یادگار کتابوں میں ’’دلداریاں‘‘، ’’آمنا سامنا‘‘ اور ’’دلبر دلبر‘‘ نمایاں مقام رکھتی ہیں۔ بالآخر، 30 اکتوبر 1994ء کو امریکا میں دورۂ قلب اور دماغ کی شریان پھٹنے کے باعث یہعظیم فنکار دنیائے فانی سے کوچ کر گیا تھا، مگر ان کی یادیں آج بھی زندہ ہیں۔