LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
سہیل آفریدی کی وفاقی حکومت پر شدید تنقید، معاشی کارکردگی پر سوالات اٹھا دیے سینیٹ کمیٹی نے نیپرا سے تمام آئی پی پیز کی تفصیلات طلب کرلیں پاکستان میں 1 کروڑ 29 لاکھ افراد ہیپاٹائٹس کا شکار: عالمی ادارہ صحت آزاد کشمیر الیکشن، بلاول شکست تسلیم کرکے سپورٹس مین سپرٹ کا مظاہرہ کریں: احسن اقبال بحیرہ کیسپین میں ایرانی جہاز پر حملہ، روس کا یوکرین پر سخت ردعمل الزام سے کچھ نہیں ہوگا، بلاول اپنے بیانیے اور کارکردگی پر مزید محنت کریں: مریم نواز آزاد کشمیر انتخابات میں دھاندلی ہوئی، عوامی مینڈیٹ کا ہر قیمت پر تحفظ کریں گے: بلاول بھٹو ملکی معاشی اشاریوں میں بہتری، مگر مہنگائی بدستور بڑا چیلنج ہے: ایس اینڈ پی گلوبل رپورٹ قومی پیغام امن کمیٹی کا مقصد مذہبی ہم آہنگی، امن و اتحاد کا فروغ ہے: طاہر اشرفی پاکستان اور امریکا کی سٹریٹجک شراکت داری مزید مضبوط ہو رہی ہے: اسحاق ڈار آزاد کشمیر انتخابات: ن لیگ سب سے آگے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے: رانا ثناء دنیا کے بڑے کنٹینر بردار جہازوں میں شامل ایم ایس سی مرجام کراچی پورٹ پہنچ گیا جاپان میں 7.1 شدت کا زلزلہ، سونامی کی وارننگ جاری پاکستان آئل ریفائننگ پالیسی میں ترامیم منظور، پٹرولیم مصنوعات کے سٹریٹیجک ریزروز بڑھانے کی ہدایت کویت کے وزیر خارجہ آج 2 روزہ دورے پر پاکستان پہنچیں گے

بلوچستان میں 4 روز کے دوران 54 دہشت گرد ہلاک، وطنِ عزیز کے دفاع میں 42 جوان شہید: ڈی جی آئی ایس پی آر

Web Desk

8 July 2026

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بلوچستان کی سیکیورٹی صورتحال پر اہم بریفنگ دی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ 4 روز کے دوران سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں مجموعی طور پر 54 دہشت گرد ہلاک کیے جا چکے ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ گزشتہ چار روز کے دوران بلوچستان میں دہشت گردی کے تین بڑے واقعات پیش آئے، جن میں ‘فتنہ الخوارج’ اور ‘فتنہ الہندوستان’ سے وابستہ دہشت گردوں نے اپنے مذموم مقاصد کے لیے معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے واضح کیا کہ فتنہ الہندوستان کا بلوچستانیت سے کوئی تعلق نہیں ہے، بلکہ پاکستان کی خوشحالی اور ترقی کے دشمن ان دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث ہیں۔ ترجمان پاک فوج نے ایک بار پھر دوٹوک موقف اپنایا کہ متعدد بار واضح کیا جا چکا ہے کہ افغان سرزمین پاکستان مخالف کارروائیوں کے لیے استعمال ہو رہی ہے اور ان دہشت گرد کارروائیوں کو افغان طالبان رجیم کی پشت پناہی حاصل ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بتایا کہ منگی ڈیم اور کوئٹہ پمپنگ اسٹیشن کے علاقے میں بھی دہشت گردی کے واقعات پیش آئے، تاہم بلوچستان کے بہادر عوام اور پولیس اہلکاروں نے جرات و بہادری سے دہشت گردوں کا مقابلہ کیا۔ زیارت کے مقام پر سیکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں کم از کم 15 دہشت گرد ہلاک ہوئے جبکہ دہشت گرد اپنی 15 لاشیں چھوڑ کر فرار ہو گئے۔

انہوں نے دہشت گردوں کے جھوٹے پروپیگنڈے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گرد دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ بلوچستان اور اسلام کی جنگ لڑ رہے ہیں، حالانکہ زیارت میں شہید ہونے والے تمام پولیس اہلکار مقامی اور مسلمان تھے۔

ترجمان پاک فوج کے مطابق دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں میں پولیس کے 18 جوانوں نے جامِ شہادت نوش کیا، جبکہ گزشتہ تینوں واقعات میں وطن عزیز کے دفاع کے دوران مجموعی طور پر 42 اہلکار شہید ہوئے ہیں۔ انہوں نے تازہ ترین اپڈیٹ دیتے ہوئے بتایا کہ آج کیے گئے دو مختلف آپریشنز میں مزید 14 دہشت گرد مارے گئے ہیں، جس کے بعد ہلاک دہشت گردوں کی مجموعی تعداد 54 ہو گئی ہے۔ انہوں نے عزم کا اظہار کیا کہ دہشت گردوں کے ساتھ ساتھ ان کے سہولت کاروں کے مکمل خاتمے تک کارروائیاں بلا امتیاز جاری رہیں گی۔