LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران کو جوہری ہتھیاروں سے روکنے کیلئے سو مرتبہ جنگ کرنے کو تیار ہوں: ٹرمپ ملک بھر میں غیر قانونی کال سینٹرز کے خلاف گرینڈ آپریشن کا فیصلہ پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کا مثبت زون میں آغاز عمران خان کا شفا ہسپتال میں تفصیلی معائنہ، صحت مند قرار، دوبارہ اڈیالہ جیل منتقل کر دیا: عطا تارڑ بلوچستان میں دشمن عناصر ریاست اور عوام کے درمیان خلیج پیدا کرنا چاہتے ہیں: فیلڈ مارشل پاکستان اور شام کا دفاعی شعبوں میں تعاون اور روابط بڑھانے پر اتفاق ایران کے خلاف امریکی پابندیاں، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ عائشہ وہاب امریکی کانگریس کی پہلی افغان نژاد خاتون رکن منتخب روس کے یوکرین میں مزید فضائی حملے، 17 افراد ہلاک، 40 زخمی دشمن کی دھمکیوں، حملوں کے باعث اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنا دیا: ایران امریکی طیارہ بردار بحری جہاز ابراہم لنکن 9 ماہ بعد مشرق وسطیٰ سے روانہ عراق کا آبنائے ہرمز سے تیل برآمد کرنے کیلئے ایران سے خصوصی رعایت کا مطالبہ شام میں کرد انتظامیہ کو ریاستی اداروں میں ضم کرنے کا عمل مکمل فرانس، جرمنی، برطانیہ اور اٹلی کی اسرائیلی آبادکاری منصوبے کی شدید مذمت نائیجیریا کے علاقے سوکوٹو میں کشتی حادثہ، 50 افراد ہلاک

بلوچستان میں 4 روز کے دوران 54 دہشت گرد ہلاک، وطنِ عزیز کے دفاع میں 42 جوان شہید: ڈی جی آئی ایس پی آر

Web Desk

8 July 2026

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بلوچستان کی سیکیورٹی صورتحال پر اہم بریفنگ دی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ 4 روز کے دوران سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں مجموعی طور پر 54 دہشت گرد ہلاک کیے جا چکے ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ گزشتہ چار روز کے دوران بلوچستان میں دہشت گردی کے تین بڑے واقعات پیش آئے، جن میں ‘فتنہ الخوارج’ اور ‘فتنہ الہندوستان’ سے وابستہ دہشت گردوں نے اپنے مذموم مقاصد کے لیے معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے واضح کیا کہ فتنہ الہندوستان کا بلوچستانیت سے کوئی تعلق نہیں ہے، بلکہ پاکستان کی خوشحالی اور ترقی کے دشمن ان دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث ہیں۔ ترجمان پاک فوج نے ایک بار پھر دوٹوک موقف اپنایا کہ متعدد بار واضح کیا جا چکا ہے کہ افغان سرزمین پاکستان مخالف کارروائیوں کے لیے استعمال ہو رہی ہے اور ان دہشت گرد کارروائیوں کو افغان طالبان رجیم کی پشت پناہی حاصل ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بتایا کہ منگی ڈیم اور کوئٹہ پمپنگ اسٹیشن کے علاقے میں بھی دہشت گردی کے واقعات پیش آئے، تاہم بلوچستان کے بہادر عوام اور پولیس اہلکاروں نے جرات و بہادری سے دہشت گردوں کا مقابلہ کیا۔ زیارت کے مقام پر سیکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں کم از کم 15 دہشت گرد ہلاک ہوئے جبکہ دہشت گرد اپنی 15 لاشیں چھوڑ کر فرار ہو گئے۔

انہوں نے دہشت گردوں کے جھوٹے پروپیگنڈے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گرد دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ بلوچستان اور اسلام کی جنگ لڑ رہے ہیں، حالانکہ زیارت میں شہید ہونے والے تمام پولیس اہلکار مقامی اور مسلمان تھے۔

ترجمان پاک فوج کے مطابق دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں میں پولیس کے 18 جوانوں نے جامِ شہادت نوش کیا، جبکہ گزشتہ تینوں واقعات میں وطن عزیز کے دفاع کے دوران مجموعی طور پر 42 اہلکار شہید ہوئے ہیں۔ انہوں نے تازہ ترین اپڈیٹ دیتے ہوئے بتایا کہ آج کیے گئے دو مختلف آپریشنز میں مزید 14 دہشت گرد مارے گئے ہیں، جس کے بعد ہلاک دہشت گردوں کی مجموعی تعداد 54 ہو گئی ہے۔ انہوں نے عزم کا اظہار کیا کہ دہشت گردوں کے ساتھ ساتھ ان کے سہولت کاروں کے مکمل خاتمے تک کارروائیاں بلا امتیاز جاری رہیں گی۔