LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
دبئی سے اسرائیل جانے والی پرواز کی سعودی عرب میں ہنگامی لینڈنگ کے پی حکومت گورننس اور دہشت گردی روکنے میں مکمل ناکام، سیاست کو زندگیوں پر ترجیح دی جا رہی ہے: وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ FIA انسداد دہشت گردی ونگ کی بڑی کارروائی، افغانیوں کے منسوخ شدہ شناختی کارڈ بحال کرنے والا نادرا کا اسسٹنٹ ڈائریکٹر گرفتار سندھ طاس معاہدہ پاکستانیوں کی زندگی اور بقا کا مسئلہ، یکطرفہ معطلی غیر قانونی ہے: عطاء تارڑ ایف بی آر کا اسٹیل سیکٹر کے لیے بڑا اقدام، سیلز ٹیکس کی نئی شرحیں مقرر ایف بی آر کا سخت فیصلہ، مانیٹرنگ سسٹم سے منسلک نہ ہونے والے کاروباری مراکز سیل کرنے کا اعلان ورلڈکپ 2027: پاکستان اور بھارت کو پھر ایک ہی گروپ میں رکھنے کا امکان صومالیہ میں ہائی جیک جہاز پر آپریشن، جاں بحق پاکستانی سیکنڈ آفیسر کاشف عمر کے اہل خانہ کا وزیراعظم سے لاشیں مانگنے کی اپیل 9مئی مقدمہ: نامزد ملزم کا نام پی سی ایل سے نکالنے کی درخواست خارج امریکا نے ایران اور روسی اداروں پر نئی پابندیاں عائد کر دیں امریکی سینیٹر برنی سینڈرز کا اسرائیل کو فوجی امداد بند کرنے کا مطالبہ امریکا اور اسرائیل اب ایران میں اندورنی تقسیم پیدا کرنا چاہتے ہیں: مسعود پزشکیاں امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات ایک بار پھر ناکام پاکستان سٹاک مارکیٹ میں 400 سے زائد پوائنٹس کا اضافہ امریکی سپریم کورٹ نے ٹرمپ انتظامیہ کو امیگرینٹس کی تیسرے ملک بے دخلی کی اجازت دے دی

ڈارک میٹر کی تلاش میں اہم پیش رفت: سائنس دانوں نے غیر معمولی ذراتی تعامل ریکارڈ کر لیا

Web Desk

6 September 2026

کائنات کے سب سے بڑے رازوں میں سے ایک ‘ڈارک میٹر’ کی حقیقی نوعیت جاننے کی تلاش میں سائنس دانوں نے ایک غیر معمولی ذراتی تعامل (انٹریکشن) ریکارڈ کیا ہے، جسے اس پراسرار اور نظر نہ آنے والے مادے کی دریافت کے حوالے سے اب تک کے مضبوط ترین اشاروں میں شمار کیا جا رہا ہے۔ تاہم، ماہرین اور محققین نے واضح کیا ہے کہ حتمی شواہد کی عدم موجودگی کے باعث اسے ابھی باضابطہ دریافت قرار نہیں دیا جا سکتا۔ یہ غیر معمولی واقعہ امریکی ریاست جنوبی ڈکوٹا میں زمین کے نیچے تقریباً ایک میل کی گہرائی میں قائم سینفورڈ انڈرگراؤنڈ ریسرچ فیسلٹی میں ‘لَکس-زیپلِن’ (LZ) تجربے کے دوران ریکارڈ کیا گیا۔ اس تجربے میں ڈارک میٹر کے اہم نظریاتی امیدوار ذرات ‘WIMPs’ کی تلاش کے لیے 10 ٹن انتہائی خالص مائع زینون کا استعمال کیا جا رہا ہے۔

تحقیق کے دوران سامنے آنے والے اس تعامل کی وضاحت مروجہ اور معروف سائنسی پسِ منظر کے عمل سے کرنا فی الحال مشکل ثابت ہو رہا ہے۔ شماریاتی تجزیے میں اس سگنل کی عالمی اہمیت 2.6 سگما (Sigma) برآمد ہوئی ہے، جو کسی بھی سائنسی دریافت کے باضابطہ اعلان کے لیے درکار طے شدہ معیار (5 سگما) سے کم ہے۔ واضح رہے کہ کائنات کے کل مادے کا تقریباً 85 فیصد حصہ ڈارک میٹر پر مشتمل مانا جاتا ہے، جسے براہِ راست دیکھنا ممکن نہیں تاہم کہکشاؤں پر اس کے کششِ ثقل کے اثرات سے اس کی موجودگی ثابت ہوتی ہے۔ ایل زیڈ کی سائنسی ٹیم کا کہنا ہے کہ مزید ڈیٹا جمع کیا جا رہا ہے؛ اگر آنے والے مشاہدات میں یہ سگنل مزید مضبوط ہوتا ہے تو یہ ڈارک میٹر کی دریافت میں تاریخ ساز پیش رفت ہوگی، وگرنہ اسے کسی نامعلوم قدرتی پسِ منظر کا نتیجہ قرار دیا جائے گا۔