LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
جماعت اسلامی کی آزاد کشمیر میں حکومت اور عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان ثالثی کی پیشکش فیفا ورلڈ کپ: آسٹریلیا نے ترکیہ کو 2 صفر سے شکست دے دی واشنگٹن میں امریکی لڑاکا طیارہ تباہ، پائلٹ محفوظ رہا امریکا ایران معاہدے کی امید، عالمی منڈی میں خام تیل مزید سستا فٹ بال ورلڈ کپ: قطر اور سوئٹزر لینڈ کا میچ ایک، ایک گول سے برابر ایران سے معاہدہ کل دستخط کے لیے تیار ہے، آبنائے ہرمز سب کے لیے کھول دی جائے گی: ڈونلڈ ٹرمپ امریکا کے ساتھ معاہدے پر اتوار کو دستخط نہیں ہوں گے، ایران دھمکیوں، دباؤ اور منفی پروپیگنڈے سے نہیں ڈریں گے، مومنہ اقبال بجٹ میں نئے ٹیکس اقدامات، متعدد روزمرہ اشیاء مہنگی ہونے کا امکان صورتحال اچھی نہیں، امتحان سے گزر رہے ہیں: وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل راٹھور صرف اپنے لیے کھیلنے والوں کی قومی ٹیم میں کوئی جگہ نہیں، محسن نقوی کا دوٹوک مؤقف سپریم کورٹ آف پاکستان کے لیے نئے وفاقی بجٹ میں ساڑھے 7 ارب روپے کے قریب رقم مختص برآمدات میں اضافہ اور ٹیکس اصلاحات حکومت کی ترجیح ہیں، وزیر خزانہ وزیراعظم بتائیں عمران خان سے ملاقات کیوں نہیں ہورہی؟ خدا کے لیے فوج کے نام پر سیاست بند کریں؛بیرسٹر گوہر بھارتی ایئرفورس کا ایک اور جنگی طیارہ حادثے کا شکار

پاکستان میں ‘کرپشن’ بڑا چیلنج، آئی ایم ایف کی رپورٹ میں ہوشربا انکشافات

Web Desk

20 November 2025

پاکستان نے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ایگزیکٹیو بورڈ اجلاس سے پہلے بڑی شرط پوری کر دی، وزارت خزانہ نے گورننس اینڈ کرپشن ڈائیگناسٹک اسیسمنٹ تکنیکی رپورٹ جاری کر دی۔ وزارت خزانہ کی رپورٹ میں پاکستان میں کرپشن کو مستقل چیلنج قراردے دیا گیا، رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کرپشن مستقل چیلنج ہے،کرپشن کےمعاشی ترقی پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں، کرپشن کی کمزوریاں حکومت کی ہرسطح پرموجود ہیں، گورننس میں بہتری سے پاکستان کافی معاشی فوائد حاصل کرسکتاہے۔ رپورٹ کے مطابق کرپشن پاکستان کی معاشی و سماجی ترقی میں بڑی رکاوٹ ہے، ٹیکس نظام، سرکاری اخراجات، احتساب، عدالتی نظام میں سنگین مسائل کی نشاندہی کی گئی ہے، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طاقتور یا سرکاری اداروں سے جڑے گروہ کرپشن کی سب سے خطرناک شکل ہے۔ وزارت خزانہ کے مطابق پاکستان میں کرپشن کا دیرینہ مسئلہ ملکی ترقی کوشدید نقصان پہنچا رہا ہے، آئی ایم ایف سے بار بار قرض لینے کے باوجود بنیادی مسائل برقرار ہیں، پاکستانی عوام معیار زندگی میں ہمسایہ ملکوں سے پیچھے رہ گئے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ حکومتی فیصلہ سازی میں شفافیت کی کمی سنگین مسئلہ بن چکی ہے، اینٹی کرپشن اداروں کی کمزور کارکردگی سے احتساب کا عمل متاثر ہے، احتساب غیر مستقل، غیر منصفانہ، اداروں پر عوامی اعتماد مزید کم ہوا۔ یہ بھی پڑھیں:کرم: سکیورٹی فورسز کے 2 کامیاب آپریشنز، بھارتی حمایت یافتہ فتنۃ الخوارج کے 23 دہشتگرد ہلاک رپورٹ میں نیب سمیت اینٹی کرپشن اداروں کو بااختیار، جدید بنانے پر زور دیا گیا ہے، دستاویز کے مطابق سفارشات پر عمل سے ملکی جی ڈی پی میں 5 سے ساڑھے 6 فیصد تک اضافہ ممکن ہے، معاشی پالیسیوں کی تیاری میں اسٹیک ہولڈرز کی شمولیت نہ ہونے کے برابر ہے۔ وزارت خزانہ کے مطابق ریاستی نظام میں گورننس کی کمزوریاں کرپشن کے مواقع بڑھاتی ہیں، کرپشن منصفانہ مقابلے کی راہ میں رکاوٹ بنتی ہے،رپورٹ کے مطابق 11.1 فیصد کاروباری اداروں نے بدعنوانی کو کاروبار کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیا، یہ جنوبی ایشیا کے اوسط 7.4 فیصد سے کافی زیادہ ہے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ کرپشن کی وجہ سے خرچ غیر موثر، ٹیکس کم، عدالتی نظام پر اعتماد کم ہوتا ہے، سرکاری اداروں میں جوابدہی کا موثر نظام موجود نہیں، سرکاری اداروں، مارکیٹ ریگولیشن، بینکنگ سیکٹر کی نگرانی میں سنگین خامیاں ہیں، پیچیدہ کاروباری قوانین سرمایہ کاری کو روکے ہوئے ہیں، گورننس بہتر بنانے کے لیے شفاف اور واضح قوانین لانے کی سفارش کی گئی ہے۔ عوام اور کاروبار کے لیے معلومات تک رسائی مشکل بنی ہوئی ہے، غیر ملکی تجارت کے ضابطے ضرورت سے زیادہ سخت ہو گئے ہیں، نجی شعبہ حکومتی پابندیوں کے باعث اپنی مکمل صلاحیت استعمال نہیں کر پا رہا، پبلک سیکٹر کی کارکردگی بہتر کرنے کے لیے جامع اصلاحات تجویز کی گئی ہے۔