LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
آپریشن فجر الیمن: حوثی باغیوں کے ٹھکانوں پر 875 حملے، 130 ہلاک یا غیر مؤثر ہونے کا دعویٰ جو شہر پال رہا ہے اسے زندہ رہنے دیں، کراچی پر بھی کرم نوازی کریں: خالد مقبول سعودی وزیر خارجہ کے قطر اور مصر کے ہم منصبوں سے رابطے، علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال پولینڈ کے شہر کراکوف میں مسلح شخص کی فائرنگ سے 6 افراد ہلاک، 15 زخمی ایران نے میزائل اور ڈرون کی پیداواری لائنیں زیر زمین منتقل کر دیں، پاسداران انقلاب ایران کو روس سے جدید ایس 400 ائیر ڈیفنس سسٹم ملنے کا امکان، معاہدہ طے پا گیا وزیراعلیٰ پنجاب کے دورہ لندن کے اخراجات کی تفصیل دی جائے، پنجاب اسمبلی میں تحریک التوا جمع افغان وزیر داخلہ سراج الدین حقانی کے ذاتی محافظ کو قتل کردیا گیا روس نے ایک دن میں یوکرین کے 903 ڈرونز اور 4 نیپچون میزائل مار گرائے، وزارت دفاع دبئی کے پرفیوم برانڈ نے گنیز ورلڈ ریکارڈ اپنے نام کر لیا اردوان کا ٹرمپ سے رابطہ، ایران امریکا کشیدگی سفارتکاری سے حل کرنے پر زور جے ڈی وینس نے آئندہ الیکشن کیلئے الگ سیاسی بیانیہ تشکیل دینے کی کوششیں تیز کر دیں ایران کے جزیرے قشم میں دو دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں نیتن یاہو وزارت عظمیٰ کی دوڑ سے باہر، گادی آئزن کوٹ کو حکومت سازی کی دعوت سندھ میں تعلیم کا بجٹ 601 ارب روپے، صورتحال تسلی بخش نہیں: حافظ نعیم الرحمان

ملک پر قابض کرپٹ ٹولے نے ملکی معیشت کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا: سہیل آفریدی

Web Desk

11 December 2025

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے یونیورسٹی آف پشاور کے اکنامکس ڈیپارٹمنٹ کا اچانک اور غیر رسمی دورہ کیا جس میں طلبہ سے براہِ راست ملاقات کی، طلبہ کی تجاویز سنیں اور یونیورسٹی کی مالی خودکفالت کے لیے وائس چانسلر کو عملی اقدامات کی ہدایت دی۔

اس موقع پر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک پر قابض کرپٹ ٹولے نے پاکستان کی معیشت کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے اور وفاق میں بیٹھے کرپٹ عناصر نے تاریخی طور پر 5300 ارب روپے کی کرپشن کی ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ این ایچ پی کے تحت وفاق کے ذمے خیبرپختونخوا کے 2200 ارب روپے سے زائد بقایا ہیں جبکہ این ایف سی کی مد میں ضم اضلاع کے 1375 ارب روپے واجب الادا ہیں، ضم اضلاع کے لیے سالانہ 100 ارب روپے کا وعدہ کیا گیا تھا مگر سات سال میں صرف 168 ارب روپے دیے گئے اور 532 ارب اب بھی بقایا ہیں۔

سہیل آفریدی نے طلبہ سے کہا ہے کہ وہ صوبے کے حقوق کے لیے آواز بلند کریں اور تمام جامعات میں اس حوالے سے ڈیبیٹس منعقد کیے جائیں، آئندہ بجٹ میں طلبہ کے لیے سکالرشپس اور خصوصی مالی پیکجز شامل کیے جائیں گے جبکہ صوبائی حکومت انٹرن شپ پالیسی پر بھی کام کر رہی ہے تاکہ نوجوانوں کو روزگار کے مواقع میسر ہوں۔

وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ بند کمروں کے فیصلوں نے صوبے کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا ہے اور امن قائم رکھنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے، عمران خان کے دور میں جی ڈی پی گروتھ 6.2 فیصد تھی جو اب 2.6 فیصد رہ گئی ہے، یونیورسٹی ہاسٹلز میں مقیم طلبہ کے لیے رعائتی کھانے کی سہولیات فراہم کرنے کے لیے تجاویز بھی طلب کی گئیں۔