LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
نیویارک کے مشہور ساحلی علاقے کونی آئی لینڈ میں فائرنگ، 4 بچوں سمیت 8 افراد زخمی اسرائیل کی سفاکیت کم نہ ہوئی، ڈرون حملے میں مزید 2 فلسطینی شہید، متعدد زخمی یورپ میں شدید گرمی کی لہر برقرار، اموات 4 ہزار سے تجاوز کر گئیں اسرائیلی فوج کے سربراہ کا لبنان میں فیصلہ کن کارروائیاں جاری رکھنے کا اعلان مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد مشکل ضرور ہے لیکن ناممکن نہیں، باقر قالیباف ٹرمپ نے کہا وٹکوف، جیرڈ کشنر دوبارہ ماسکو آنے کیلئے تیار ہیں: ترجمان کریملن صدر ٹرمپ انقرہ میں نیٹو ممالک کے اجلاس میں شرکت کریں گے، وائٹ ہاؤس اوپیک پلس ممالک کا اگست کیلئے تیل کی پیداوار بڑھانے کا فیصلہ امریکی نیوی نے بحیرہ عرب میں لاپتہ اہلکار کی تلاش روک دی گروپ کیپٹن کو شہید کرنے والا ملزم سعد 9 گھنٹوں میں گرفتار کر لیا: آئی جی اسلام آباد وفاقی وزیر احسن اقبال کا دورہ امریکہ: ہیلتھ کیئر اور معاشی ترقی کے لیے سمندر پار پاکستانیوں کو شراکت داری کی دعوت، ٹیلی میڈیسن ماڈل کی تجویز فلسطینی علاقوں پر قبضہ ختم ہونے تک اسرائیل سے تعلقات بحال نہیں ہو سکتے، مصر یمنی فورسز اور حوثیوں کے درمیان جھڑپوں میں 65 اموات کی تصدیق شہید رہبراعلیٰ کے خون کا بدلہ ضرور لیں گے، مشیر ایرانی سپریم لیڈر پشاور: چینی باشندوں کی حفاظت کےلئے فول پروف نظام قائم

آئین قوم کی مشترکہ ملکیت ہے، چھیڑ چھاڑ نظام کو عدم استحکام کی طرف دھکیلتی ہے،سینیٹر علی ظفر

Web Desk

9 November 2025

سینیٹر علی ظفر نےکہا ہے کہ 1973 کا آئین کسی ایک فرد یا جماعت کا نہیں، بلکہ پوری قوم کی مشترکہ ملکیت ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ آئین میں غیر ضروری چھیڑ چھاڑ عمارت کی بنیاد ہلانے کے مترادف ہے جو پورے نظام کو متاثر کر سکتی ہے۔

علی ظفر نے سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ آمروں نے بھی آئین میں ترامیم کیں، مگر ان کے لیے بھی وقت اور مشاورت درکار تھی۔ انہوں نے بتایا کہ اٹھارویں ترمیم نو ماہ تک 90 میٹنگز کے بعد منظور ہوئی اور اسی ترمیم نے آئین کی اصل روح کو بحال کیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک وفاقی ریاست ہے جہاں صوبے خودمختار ہیں۔ پارلیمنٹ عوامی ووٹ سے بنتی ہے مگر اسے آئین کا پابند ہونا پڑتا ہے۔ آئین عوام کو بنیادی حقوق دیتا ہے اور عدلیہ ان حقوق کے تحفظ کی ضامن ہے، جب کہ میڈیا کو جمہوریت کا چوتھا ستون قرار دیا گیا ہے۔

علی ظفر نے کہا کہ آئینی توازن بگڑنے سے پورا نظام متاثر ہوتا ہے اور یہی صورتحال عمران خان حکومت کے بعد سامنے آئی۔ سپریم کورٹ کے واضح احکامات کے باوجود 90 روز میں انتخابات نہ ہوئے، پی ڈی ایم حکومت اور الیکشن کمیشن نے انتخابات مؤخر کیے، جبکہ پی ٹی آئی کے انتخابی نشان پر فیصلہ بھی متنازع رہا۔

انہوں نے کہا کہ عوام نے بغیر نشان کے بھی عمران خان کے امیدواروں کو کامیاب کر کے ثابت کر دیا کہ اصل طاقت عوام کے پاس ہے۔ مگر جیتے ہوئے امیدواروں کو ہرا کر نتائج تبدیل کیے گئے۔

سینیٹر علی ظفر نے کہا کہ قاضی فائز عیسیٰ نے جاتے ہوئے 63A سے متعلق فیصلہ ریورس کیا، جس سے 26ویں ترمیم کی راہ ہموار ہوئی۔ پی ڈی ایم حکومت نے اکثریت کے بغیر ترمیم منظور کرائی اور بعض ارکان سے زبردستی ووٹنگ کرانے کے الزامات سامنے آئے۔ انہوں نے کہا کہ جے یو آئی کے ساتھ دھوکا کیا گیا اور معاہدے کی نوعیت بدلنے کے لیے آئینی بینچ تشکیل دیا گیا