LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق رپورٹ انتہائی تشویشناک ہے: سہیل آفریدی ٹرمپ نے عمان کو آبنائے ہرمز میں مداخلت پر حملے کی دھمکی دیدی چیف جسٹس سے انگلینڈ اینڈ ویلز ہائی کورٹ کے جج جسٹس کی ملاقات، باہمی امور پر تبادلہ خیال آزاد کشمیر میں مسلم لیگ (ن) کو دو تہائی اکثریت ملے گی: رانا ثناء اللہ وفاقی آئینی عدالت کا کارپوریٹ ٹیکس دہندگان کے حق میں بڑا فیصلہ بلوچستان ہائیکورٹ نے زیارت پولیس حملہ کی تحقیقات کیلئے کمیشن قائم کر دیا پاکستان اور قطرموجودہ کشیدگی کم کرنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں: اسماعیل بقائی عمران خان کی صحت اور جیل ملاقاتوں کی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کی تیاریاں مکمل، پولنگ ڈے کا فیصلہ 20 اگست کو متوقع پٹرولیم لیوی کے خلاف جماعت اسلامی کا دھرنا دوسرے روز میں داخل پشاور ہائیکورٹ کے 4 مستقل ہونے والے ججز نے حلف اٹھا لیا سکیورٹی فورسز کا بلوچستان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن، 2 دہشت گرد ہلاک طالبان حکومت خود خطے کو غیر مستحکم کرنے کیلئے پراکسی بن چکی ہے: عاصم افتخار عمرہ زائرین اور ورکرز کیلئے پاکستانی سفارت خانے کی اہم ہدایات وفاقی حکومت کے قرضوں میں 18ہزار ارب روپے سے زائد کا اضافہ

آئین قوم کی مشترکہ ملکیت ہے، چھیڑ چھاڑ نظام کو عدم استحکام کی طرف دھکیلتی ہے،سینیٹر علی ظفر

Web Desk

9 November 2025

سینیٹر علی ظفر نےکہا ہے کہ 1973 کا آئین کسی ایک فرد یا جماعت کا نہیں، بلکہ پوری قوم کی مشترکہ ملکیت ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ آئین میں غیر ضروری چھیڑ چھاڑ عمارت کی بنیاد ہلانے کے مترادف ہے جو پورے نظام کو متاثر کر سکتی ہے۔

علی ظفر نے سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ آمروں نے بھی آئین میں ترامیم کیں، مگر ان کے لیے بھی وقت اور مشاورت درکار تھی۔ انہوں نے بتایا کہ اٹھارویں ترمیم نو ماہ تک 90 میٹنگز کے بعد منظور ہوئی اور اسی ترمیم نے آئین کی اصل روح کو بحال کیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک وفاقی ریاست ہے جہاں صوبے خودمختار ہیں۔ پارلیمنٹ عوامی ووٹ سے بنتی ہے مگر اسے آئین کا پابند ہونا پڑتا ہے۔ آئین عوام کو بنیادی حقوق دیتا ہے اور عدلیہ ان حقوق کے تحفظ کی ضامن ہے، جب کہ میڈیا کو جمہوریت کا چوتھا ستون قرار دیا گیا ہے۔

علی ظفر نے کہا کہ آئینی توازن بگڑنے سے پورا نظام متاثر ہوتا ہے اور یہی صورتحال عمران خان حکومت کے بعد سامنے آئی۔ سپریم کورٹ کے واضح احکامات کے باوجود 90 روز میں انتخابات نہ ہوئے، پی ڈی ایم حکومت اور الیکشن کمیشن نے انتخابات مؤخر کیے، جبکہ پی ٹی آئی کے انتخابی نشان پر فیصلہ بھی متنازع رہا۔

انہوں نے کہا کہ عوام نے بغیر نشان کے بھی عمران خان کے امیدواروں کو کامیاب کر کے ثابت کر دیا کہ اصل طاقت عوام کے پاس ہے۔ مگر جیتے ہوئے امیدواروں کو ہرا کر نتائج تبدیل کیے گئے۔

سینیٹر علی ظفر نے کہا کہ قاضی فائز عیسیٰ نے جاتے ہوئے 63A سے متعلق فیصلہ ریورس کیا، جس سے 26ویں ترمیم کی راہ ہموار ہوئی۔ پی ڈی ایم حکومت نے اکثریت کے بغیر ترمیم منظور کرائی اور بعض ارکان سے زبردستی ووٹنگ کرانے کے الزامات سامنے آئے۔ انہوں نے کہا کہ جے یو آئی کے ساتھ دھوکا کیا گیا اور معاہدے کی نوعیت بدلنے کے لیے آئینی بینچ تشکیل دیا گیا