LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
مراکش نے 650 میل طویل ساحلی شاہراہ کو ٹرمپ کے نام سے منسوب کردیا تیل تنصیبات پر حملے کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا حق رکھتے ہیں: سعودی عرب حملے عارضی طور پر روکے، مذاکرات ناکام ہوئے تو فوجی کارروائی ہوگی: ٹرمپ دوبارہ اقتدار میں آیا تو قطر کو دشمن ریاست قرار دوں گا: نفتالی بینیٹ حوثیوں کا سعودی خام تیل کے ٹرانسپورٹ انفرااسٹرکچر کو نشانہ بنانے کا دعویٰ ٹرمپ سے ملاقات کے ایجنڈے میں ایران سرفہرست ہوگا، نیتن یاہو غزہ پر تشویش کے باوجود جرمنی کی اسرائیل کو اسلحہ برآمدات میں اضافہ یوکرین نے ایران کی دھمکیاں مسترد کر دیں، روسی جارحیت میں براہِ راست شمولیت کا الزام ایران میں فرانسیسی سفیر کی طلبی، اندرونی معاملات میں مداخلت پر شدید احتجاج سیئٹل فوڈ فیسٹیول میں فائرنگ، ہلاکتیں 3 ہو گئیں، 4 افراد زخمی روس کو ہتھیار دے کر ایران پہلے ہی جنگ میں شامل ہو چکا ہے: زیلنسکی یوکرین بالآخر اپنے مغربی علاقے کھو دے گا: صدر پوتن کا دعویٰ اپر سوات میں غیر معیاری کشتیوں کیخلاف کریک ڈاؤن کا فیصلہ بدخشان میں طالبان مخالف کارروائیاں تیز، مختلف اضلاع میں جھڑپیں، سییورٹی صورتحال کشیدہ امریکی سینیٹر برنی سینڈرز نے غزہ کی صورتحال کا ذمہ دار امریکا کو قرار دیدیا

آئین قوم کی مشترکہ ملکیت ہے، چھیڑ چھاڑ نظام کو عدم استحکام کی طرف دھکیلتی ہے،سینیٹر علی ظفر

Web Desk

9 November 2025

سینیٹر علی ظفر نےکہا ہے کہ 1973 کا آئین کسی ایک فرد یا جماعت کا نہیں، بلکہ پوری قوم کی مشترکہ ملکیت ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ آئین میں غیر ضروری چھیڑ چھاڑ عمارت کی بنیاد ہلانے کے مترادف ہے جو پورے نظام کو متاثر کر سکتی ہے۔

علی ظفر نے سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ آمروں نے بھی آئین میں ترامیم کیں، مگر ان کے لیے بھی وقت اور مشاورت درکار تھی۔ انہوں نے بتایا کہ اٹھارویں ترمیم نو ماہ تک 90 میٹنگز کے بعد منظور ہوئی اور اسی ترمیم نے آئین کی اصل روح کو بحال کیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک وفاقی ریاست ہے جہاں صوبے خودمختار ہیں۔ پارلیمنٹ عوامی ووٹ سے بنتی ہے مگر اسے آئین کا پابند ہونا پڑتا ہے۔ آئین عوام کو بنیادی حقوق دیتا ہے اور عدلیہ ان حقوق کے تحفظ کی ضامن ہے، جب کہ میڈیا کو جمہوریت کا چوتھا ستون قرار دیا گیا ہے۔

علی ظفر نے کہا کہ آئینی توازن بگڑنے سے پورا نظام متاثر ہوتا ہے اور یہی صورتحال عمران خان حکومت کے بعد سامنے آئی۔ سپریم کورٹ کے واضح احکامات کے باوجود 90 روز میں انتخابات نہ ہوئے، پی ڈی ایم حکومت اور الیکشن کمیشن نے انتخابات مؤخر کیے، جبکہ پی ٹی آئی کے انتخابی نشان پر فیصلہ بھی متنازع رہا۔

انہوں نے کہا کہ عوام نے بغیر نشان کے بھی عمران خان کے امیدواروں کو کامیاب کر کے ثابت کر دیا کہ اصل طاقت عوام کے پاس ہے۔ مگر جیتے ہوئے امیدواروں کو ہرا کر نتائج تبدیل کیے گئے۔

سینیٹر علی ظفر نے کہا کہ قاضی فائز عیسیٰ نے جاتے ہوئے 63A سے متعلق فیصلہ ریورس کیا، جس سے 26ویں ترمیم کی راہ ہموار ہوئی۔ پی ڈی ایم حکومت نے اکثریت کے بغیر ترمیم منظور کرائی اور بعض ارکان سے زبردستی ووٹنگ کرانے کے الزامات سامنے آئے۔ انہوں نے کہا کہ جے یو آئی کے ساتھ دھوکا کیا گیا اور معاہدے کی نوعیت بدلنے کے لیے آئینی بینچ تشکیل دیا گیا