LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
کرپشن، بدعنوانی عروج پر، کے پی میں گورننس نام کی چیز نہیں: عطا تارڑ ’اب بہت ہو گیا، بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کرائی جائے‘؛ اپوزیشن اجلاس اسٹاک مارکیٹ کریش، 100 انڈیکس کی 3700 سے زائد پوائنٹس کی ریکارڈ تنزلی اربوں ڈالر کا سرپلس خسارے میں تبدیل، اپریل میں کرنٹ اکاؤنٹ 32 کروڑ ڈالر منفی ہو گیا، اسٹیٹ بینک گندم اور گیس کی ترسیل پر زیادتی ہو رہی ہے: گورنر، وزیراعلیٰ کے پی پاکستان کی ثالثی میں امریکا کے ساتھ مذاکرات کا عمل آگے بڑھ رہا ہے: ایران وزیرِ اعظم سے نیول چیف کی ملاقات، پاک بحریہ کے پیشہ وارانہ امور پر تبادلہ خیال حافظ نعیم الرحمان کا پٹرولیم لیوی کیخلاف وفاقی آئینی عدالت سے رجوع سی این جی بندش: وزیراعلیٰ کے پی کا وزیراعظم کو فوری گیس بحالی کیلئے خط اماراتی نیوکلیئر پلانٹ پر حملہ خطرناک، جوہری تنصیبات کو نشانہ نہ بنایا جائے: دفتر خارجہ اسحاق ڈار کا قطر کے وزیرِ مملکت خارجہ سے رابطہ، خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال ایران-امریکا کشیدگی اور آئی ایم ایف کی سخت شرائط کا اثر؛اسٹاک ایکسچینج کریش امریکا نے ایران کے لیے امن عمل کی 5 سخت شرائط مقرر کر دیں حکومت کے پہلے 25 ماہ میں وفاقی قرضوں میں 15 ہزار 714 ارب روپے کا ہوشربا اضافہ جنوبی وزیرستان لوئر میں وانا رستم بازار میں بم دھماکہ

آئین قوم کی مشترکہ ملکیت ہے، چھیڑ چھاڑ نظام کو عدم استحکام کی طرف دھکیلتی ہے،سینیٹر علی ظفر

Web Desk

9 November 2025

سینیٹر علی ظفر نےکہا ہے کہ 1973 کا آئین کسی ایک فرد یا جماعت کا نہیں، بلکہ پوری قوم کی مشترکہ ملکیت ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ آئین میں غیر ضروری چھیڑ چھاڑ عمارت کی بنیاد ہلانے کے مترادف ہے جو پورے نظام کو متاثر کر سکتی ہے۔

علی ظفر نے سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ آمروں نے بھی آئین میں ترامیم کیں، مگر ان کے لیے بھی وقت اور مشاورت درکار تھی۔ انہوں نے بتایا کہ اٹھارویں ترمیم نو ماہ تک 90 میٹنگز کے بعد منظور ہوئی اور اسی ترمیم نے آئین کی اصل روح کو بحال کیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک وفاقی ریاست ہے جہاں صوبے خودمختار ہیں۔ پارلیمنٹ عوامی ووٹ سے بنتی ہے مگر اسے آئین کا پابند ہونا پڑتا ہے۔ آئین عوام کو بنیادی حقوق دیتا ہے اور عدلیہ ان حقوق کے تحفظ کی ضامن ہے، جب کہ میڈیا کو جمہوریت کا چوتھا ستون قرار دیا گیا ہے۔

علی ظفر نے کہا کہ آئینی توازن بگڑنے سے پورا نظام متاثر ہوتا ہے اور یہی صورتحال عمران خان حکومت کے بعد سامنے آئی۔ سپریم کورٹ کے واضح احکامات کے باوجود 90 روز میں انتخابات نہ ہوئے، پی ڈی ایم حکومت اور الیکشن کمیشن نے انتخابات مؤخر کیے، جبکہ پی ٹی آئی کے انتخابی نشان پر فیصلہ بھی متنازع رہا۔

انہوں نے کہا کہ عوام نے بغیر نشان کے بھی عمران خان کے امیدواروں کو کامیاب کر کے ثابت کر دیا کہ اصل طاقت عوام کے پاس ہے۔ مگر جیتے ہوئے امیدواروں کو ہرا کر نتائج تبدیل کیے گئے۔

سینیٹر علی ظفر نے کہا کہ قاضی فائز عیسیٰ نے جاتے ہوئے 63A سے متعلق فیصلہ ریورس کیا، جس سے 26ویں ترمیم کی راہ ہموار ہوئی۔ پی ڈی ایم حکومت نے اکثریت کے بغیر ترمیم منظور کرائی اور بعض ارکان سے زبردستی ووٹنگ کرانے کے الزامات سامنے آئے۔ انہوں نے کہا کہ جے یو آئی کے ساتھ دھوکا کیا گیا اور معاہدے کی نوعیت بدلنے کے لیے آئینی بینچ تشکیل دیا گیا