LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پولیس اور عدالتی نظام ناقص ، پورے سسٹم کو جڑ سے اکھاڑنا ہوگا: حافظ نعیم الرحمان سندھ طاس معاہدے کی پاسداری علاقائی امن و استحکام کیلئے ضروری ہے: اسحاق ڈار ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی، رائفل تھامے تصویر کیساتھ ’نو مور نائس گائے‘ کا پیغام امریکا ایران تنازع کا واحد قابلِ عمل حل مذاکرات اور سفارت کاری ہے: چین آبنائے ہرمز سے کسی جہاز کو بغیر اجازت گزرنے کی اجازت نہیں: ایران امریکا کو سمجھنا ہوگا کہ دباؤ سے سفارتکاری بحال نہیں ہوسکتی: عباس عراقچی ایل این جی کی قیمتوں میں بڑی کمی، اوگرا نے نوٹیفکیشن جاری کردیا روسی اخبارات میں سی آئی اے چیف کے دورہ ماسکو، برطانیہ کو روسی انتباہ اور سوئس پابندیوں کے مستقبل پر بحث پنجاب اسمبلی میں بجلی کی غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ کے خلاف قرارداد متفقہ طور پر منظور پاکستان کے پورٹ سسٹم میں اصلاحات، 85 اقدامات پر عملدرآمد پی ٹی آئی نے الیکشن کمیشن میں مالی گوشواروں کی تفصیلات جمع کرادیں نو منتخب وزیراعظم آزاد کشمیر افتخار گیلانی نے عہدے کا حلف اٹھا لیا این ای ڈی یونیورسٹی اور پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط ایران نے امریکی پابندیوں کو ریاستی دہشتگردی قرار دے دیا ہاکی ورلڈ کپ: پاکستان نے جنوبی افریقہ کو ہرا کر 11ویں پوزیشن حاصل کرلی

عالمی مالیاتی نظام میں کلائمٹ ریزیلینس کو مرکزی بنانا ہوگا، وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب

Web Desk

11 December 2025

وفاقی وزیرِ خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے ریاض میں منعقدہ بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عالمی مالیاتی نظام کو موسمیاتی لچک (کلائمٹ ریزیلینس) کو اپنی بنیادی ترجیحات میں شامل کرنا ہوگا، کیونکہ دنیا بھر میں موسمی تبدیلیوں کے اثرات تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔

وزیر خزانہ نے بتایا کہ پاکستان موسمیاتی خطرات سے شدید متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے۔ 2022 کے تباہ کن سیلابوں نے پاکستان کی معیشت کو 30 ارب ڈالر کا نقصان پہنچایا، جبکہ رواں سال بھی شدید بارشوں اور ممکنہ سیلاب کے باعث معاشی نمو میں نصف فیصد کمی کا خدشہ موجود ہے۔

محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان نے ریسکیو اور ریلیف کے اقدامات زیادہ تر مقامی وسائل سے کیے، لیکن بحالی اور تعمیرِ نو کیلئے بھاری بیرونی مالی معاونت ناگزیر ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ نیشنل ایمرجنسی سینٹر میں مصنوعی ذہانت پر مبنی جدید ارلی وارننگ سسٹم فعال ہو چکا ہے، مگر موسمیاتی موافقت کیلئے پاکستان کے اپنے وسائل ناکافی ہیں، اس لیے عالمی تعاون ناگزیر ہے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ ورلڈ بینک کے 20 ارب ڈالر کے پیکیج میں سے ایک تہائی رقم کلائمٹ ریزیلینس کیلئے مختص کی گئی ہے، جبکہ آئی ایم ایف کے کلائمٹ ریزیلینس فنڈ کی پہلی قسط کے طور پر 200 ملین ڈالر پاکستان کو موصول ہو چکے ہیں۔ ان کے مطابق پاکستان موسمیاتی ترجیحات کو قومی بجٹ میں مرکزی حیثیت دینے کے لیے پُرعزم ہے۔

خطاب میں وزیرِ خزانہ نے پاک–امریکا تعلقات کی بہتری، ٹیکنالوجی اور معدنیات کے شعبوں میں بڑھتے ہوئے تعاون کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ریکوڈک منصوبہ پاکستان کی معاشی ترقی کے لیے گیم چینجر ثابت ہوگا، جس کا 7 ارب ڈالر کا فنانشل کلوز مکمل ہو چکا ہے اور 2028 تک ملکی برآمدات میں 10 فیصد اضافہ متوقع ہے۔

محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ امریکا، چین اور جی سی سی ممالک سے مزید سرمایہ کاری کی توقع ہے، جبکہ سی پیک فیز 2.0 کا آغاز ہو چکا ہے جس میں کاروبار برائے کاروبار (B2B) شراکتوں پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔