LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
سہیل آفریدی کی وفاقی حکومت پر شدید تنقید، معاشی کارکردگی پر سوالات اٹھا دیے سینیٹ کمیٹی نے نیپرا سے تمام آئی پی پیز کی تفصیلات طلب کرلیں پاکستان میں 1 کروڑ 29 لاکھ افراد ہیپاٹائٹس کا شکار: عالمی ادارہ صحت آزاد کشمیر الیکشن، بلاول شکست تسلیم کرکے سپورٹس مین سپرٹ کا مظاہرہ کریں: احسن اقبال بحیرہ کیسپین میں ایرانی جہاز پر حملہ، روس کا یوکرین پر سخت ردعمل الزام سے کچھ نہیں ہوگا، بلاول اپنے بیانیے اور کارکردگی پر مزید محنت کریں: مریم نواز آزاد کشمیر انتخابات میں دھاندلی ہوئی، عوامی مینڈیٹ کا ہر قیمت پر تحفظ کریں گے: بلاول بھٹو ملکی معاشی اشاریوں میں بہتری، مگر مہنگائی بدستور بڑا چیلنج ہے: ایس اینڈ پی گلوبل رپورٹ قومی پیغام امن کمیٹی کا مقصد مذہبی ہم آہنگی، امن و اتحاد کا فروغ ہے: طاہر اشرفی پاکستان اور امریکا کی سٹریٹجک شراکت داری مزید مضبوط ہو رہی ہے: اسحاق ڈار آزاد کشمیر انتخابات: ن لیگ سب سے آگے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے: رانا ثناء دنیا کے بڑے کنٹینر بردار جہازوں میں شامل ایم ایس سی مرجام کراچی پورٹ پہنچ گیا جاپان میں 7.1 شدت کا زلزلہ، سونامی کی وارننگ جاری پاکستان آئل ریفائننگ پالیسی میں ترامیم منظور، پٹرولیم مصنوعات کے سٹریٹیجک ریزروز بڑھانے کی ہدایت کویت کے وزیر خارجہ آج 2 روزہ دورے پر پاکستان پہنچیں گے

عالمی مالیاتی نظام میں کلائمٹ ریزیلینس کو مرکزی بنانا ہوگا، وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب

Web Desk

11 December 2025

وفاقی وزیرِ خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے ریاض میں منعقدہ بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عالمی مالیاتی نظام کو موسمیاتی لچک (کلائمٹ ریزیلینس) کو اپنی بنیادی ترجیحات میں شامل کرنا ہوگا، کیونکہ دنیا بھر میں موسمی تبدیلیوں کے اثرات تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔

وزیر خزانہ نے بتایا کہ پاکستان موسمیاتی خطرات سے شدید متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے۔ 2022 کے تباہ کن سیلابوں نے پاکستان کی معیشت کو 30 ارب ڈالر کا نقصان پہنچایا، جبکہ رواں سال بھی شدید بارشوں اور ممکنہ سیلاب کے باعث معاشی نمو میں نصف فیصد کمی کا خدشہ موجود ہے۔

محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان نے ریسکیو اور ریلیف کے اقدامات زیادہ تر مقامی وسائل سے کیے، لیکن بحالی اور تعمیرِ نو کیلئے بھاری بیرونی مالی معاونت ناگزیر ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ نیشنل ایمرجنسی سینٹر میں مصنوعی ذہانت پر مبنی جدید ارلی وارننگ سسٹم فعال ہو چکا ہے، مگر موسمیاتی موافقت کیلئے پاکستان کے اپنے وسائل ناکافی ہیں، اس لیے عالمی تعاون ناگزیر ہے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ ورلڈ بینک کے 20 ارب ڈالر کے پیکیج میں سے ایک تہائی رقم کلائمٹ ریزیلینس کیلئے مختص کی گئی ہے، جبکہ آئی ایم ایف کے کلائمٹ ریزیلینس فنڈ کی پہلی قسط کے طور پر 200 ملین ڈالر پاکستان کو موصول ہو چکے ہیں۔ ان کے مطابق پاکستان موسمیاتی ترجیحات کو قومی بجٹ میں مرکزی حیثیت دینے کے لیے پُرعزم ہے۔

خطاب میں وزیرِ خزانہ نے پاک–امریکا تعلقات کی بہتری، ٹیکنالوجی اور معدنیات کے شعبوں میں بڑھتے ہوئے تعاون کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ریکوڈک منصوبہ پاکستان کی معاشی ترقی کے لیے گیم چینجر ثابت ہوگا، جس کا 7 ارب ڈالر کا فنانشل کلوز مکمل ہو چکا ہے اور 2028 تک ملکی برآمدات میں 10 فیصد اضافہ متوقع ہے۔

محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ امریکا، چین اور جی سی سی ممالک سے مزید سرمایہ کاری کی توقع ہے، جبکہ سی پیک فیز 2.0 کا آغاز ہو چکا ہے جس میں کاروبار برائے کاروبار (B2B) شراکتوں پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔