LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ہاکی ورلڈ کپ: پاکستان نے جنوبی افریقہ کو ہرا کر 11ویں پوزیشن حاصل کرلی برطانیہ نے امریکا ایران جنگ میں پاکستان کا کردار سراہا: اسحاق ڈار فیلڈ مارشل سے سعودی وزیر ماحولیات کی ملاقات، باہمی امور پر تبادلہ خیال سپریم کورٹ نے کے پی ملازمین کی سینیارٹی کیس کا فیصلہ سنا دیا مسلم لیگ (ن) کے بیرسٹر افتخار گیلانی آزاد کشمیر کے 17 ویں وزیراعظم منتخب اسحاق ڈار کی سعودی اور ترک وزرائے خارجہ سے گفتگو، علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال مکہ معاہدے میں شمولیت کی دعوت ملی تو ضرور غور کریں گے: بنگلہ دیش قومی اسمبلی اور سینیٹ میں سانحہ پمز پر خصوصی پارلیمانی کمیٹی بنانے کی قرارداد منظور امریکی قونصل خانہ کراچی کا لنکن کارنر میں “روڈ ٹو لبرٹی” بانیانِ امریکہ میوزیم نمائش کا باقاعدہ آغاز ایشین گیمز 2026ء: شرکاء کی تعداد 17 ہزار تک پہنچ گئی، منتظمین کو رہائش کے بحران کا سامنا وزیرِ اعظم شہباز شریف کی ایف بی آر اصلاحات پر ہفتہ وار جائزہ اجلاس کی صدارت سانحہ پمز: راجہ پرویز اشرف کا قومی اسمبلی میں شدید احتجاج، پارلیمانی کمیٹی بنانے کا مطالبہ سینیٹ اجلاس: سانحہ پمز پر اپوزیشن و حکومت کے درمیان شدید نوک جھونک، پالیسی اصلاحات کا مطالبہ سپریم کورٹ کا ستائیسویں آئینی ترمیم کے خلاف درخواست وصول کرنے سے انکار اشرافیہ کے پرائیویٹ علاج پر پابندی سے سرکاری ہسپتال بہتر ہوں گے: سینیٹر پرویز رشید

اسرائیل نے سی آئی اے کی خفیہ اطلاع پر  تہران میں اعلیٰ قیادت کو نشانہ بنایا، امریکی میڈیا

Web Desk

1 March 2026

امریکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق سی آئی اے نے ایرانی قیادت کے ایک اہم اجتماع کا سراغ لگایا جس کے بعد اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا۔

نیویارک ٹائمز کے مطابق یہ کارروائی امریکی اور اسرائیلی انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کی گئی، جس کی منصوبہ بندی کئی ماہ سے جاری تھی۔ ابتدائی حکمتِ عملی کے تحت حملہ رات کے وقت ہونا تھا، تاہم تہران میں سرکاری کمپاؤنڈ میں اعلیٰ سطحی اجلاس کی اطلاع ملنے پر وقت تبدیل کرکے ہفتے کی صبح کارروائی کا فیصلہ کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق حملے سے کچھ دیر قبل سی آئی اے نے ممکنہ طور پر سب سے اہم ہدف آیت اللہ علی خامنہ ای کی درست نشاندہی کر لی تھی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی خفیہ ادارہ کئی ماہ سے ان کی نقل و حرکت اور قیام گاہوں پر گہری نظر رکھے ہوئے تھا۔

اطلاعات کے مطابق تہران کے وسطی علاقے میں واقع ایک کمپاؤنڈ میں اعلیٰ ایرانی حکام کا اہم اجلاس طے تھا جس میں سپریم لیڈر کی شرکت بھی متوقع تھی۔ اس خفیہ اطلاع کے بعد امریکا اور اسرائیل نے حملے کے وقت میں ردوبدل کیا۔

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ممکنہ جنگ کے واضح اشاروں کے باوجود ایرانی قیادت مناسب حفاظتی اقدامات کرنے میں ناکام رہی۔