چینی سائنسدانوں کی بڑی پیش رفت، سوڈیم,سلفر بیٹری لیتھیم کا متبادل بننے کے قریب
Web Desk
10 January 2026
چینی انجینئرز نے سوڈیم اور سلفر پر مبنی ایک نئی قسم کی بیٹری تیار کر لی ہے جو لیتھیم بیٹریوں کا سستا اور زیادہ محفوظ متبادل ثابت ہو سکتی ہے۔
دنیا بھر میں برقی آلات اور الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے باعث لیتھیم کو بطور بیٹری مٹیریل وسیع پیمانے پر استعمال کیا جا رہا ہے، تاہم لیتھیم بیٹریوں کے زیادہ گرم ہونے، حفاظتی خدشات اور لیتھیم کے محدود و مہنگے حصول کی وجہ سے متبادل ٹیکنالوجی کی تلاش جاری ہے۔
سوڈیم اور سلفر بیٹریوں پر ماضی میں کی جانے والی کوششیں کئی عملی رکاوٹوں کا شکار رہیں۔ ان میں سب سے بڑا مسئلہ اینوڈ میں سوڈیم دھات کی بہت زیادہ مقدار کا استعمال تھا، جو نہ صرف لاگت اور حفاظتی خطرات میں اضافہ کرتا تھا بلکہ توانائی اور پاور ڈینسٹی کو بھی متاثر کرتا تھا۔ اس کے علاوہ، ابتدائی ڈیزائنز نارمل درجۂ حرارت پر مؤثر انداز میں بجلی پیدا کرنے میں ناکام رہے۔
جرنل نیچر میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق محققین نے کیمیائی ردِعمل میں بنیادی تبدیلیاں کر کے ایک ہائی وولٹیج، اینوڈ فری سوڈیم-سلفر بیٹری تیار کی ہے جو کمرۂ درجۂ حرارت پر مؤثر انداز میں کام کرتی ہے۔
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ نیا بیٹری ڈیزائن 3.6 وولٹ کا ڈسچارج وولٹیج فراہم کرتا ہے، جو پرانے سوڈیم-سلفر ماڈلز کے تقریباً 1.6 وولٹ کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہے۔ یہ پیش رفت نہ صرف بیٹری کی کارکردگی میں بہتری لاتی ہے بلکہ اسے محفوظ، کم لاگت اور بڑے پیمانے پر استعمال کے قابل بھی بناتی ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ نئی ٹیکنالوجی مستقبل میں الیکٹرک گاڑیوں، توانائی ذخیرہ کرنے کے نظام اور دیگر برقی آلات میں انقلاب برپا کر سکتی ہے۔
متعلقہ عنوانات
سپارکو نے پاکستان سپیس بیسڈ آگمینٹیشن سسٹم متعارف کرا دیا
8 November 2026
میٹا نے متنازع تبدیلی کے حوالے سے فیصلہ واپس لے لیا
8 November 2026
پاکستان میں سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروسز فراہم کرنے کے لیے 6 کمپنیاں رجسٹرڈ
7 November 2026
میٹا نے پی ٹی اے کی درخواست پر ایک لاکھ 76 ہزار اکاؤنٹس بند کردیے
6 November 2026
خوش مزاج بچی کو خودکشی کے دہانے پہنچا دیا: والدین کا گوگل پر مقدمہ
6 November 2026
پاکستان اور روس کا آئی ٹی، مصنوعی ذہانت اور جدید کمپیوٹنگ میں تعاون بڑھانے پر اتفاق
6 November 2026
امریکی کمپنی کا رات کو سورج کی روشنی بیچنے کا منصوبہ
6 November 2026
خلائی دوربین کا 22 سالہ مشن اختتام پذیر، ملبہ زمین پر گرنے کا خدشہ
6 November 2026