LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران کیخلاف کسی بھی طاقت کا اتحاد ناکامی سے دوچار ہوگا: ترجمان ایرانی فوج شہباز شریف کی نواز شریف سے ملاقات، ملکی سیاسی و معاشی صورتحال پر مشاورت صدر پوتن کی امریکہ میں جی 20 سربراہی اجلاس میں شرکت کا فیصلہ نہیں ہوا: کریملن پاکستان پوسٹ میں غیر قانونی بھرتیوں کا کیس، اسعد محمود تفتیش سے روپوش قرار پاکستان میں انتظامی یونٹس بنانے کے حوالے سے غور کرنا چاہئے: خواجہ آصف وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی دیوالی کے تہوار پر ہندو برادری کو مبارکباد وزیراعظم شہباز شریف کی آذربائیجان کو یوم فتح کی چھٹی سالگرہ پر مبارکباد شادی اور بچے پیدا کرنے کی ہمت کریں: پوپ لیو کی جنوبی امریکا میں نوجوانوں کو نصیحت سعودی عرب نے ریاض کی جانب داغے گئے 2 بیلسٹک اور 2 کروز میزائل تباہ کر دیے ڈی جی آئی ایس پی آر کا لاہور کی تین جامعات کا دورہ، طلبہ اور اساتذہ سے خصوصی نشستیں ٹرمپ کا سیاسی انتقام لینے اور دھمکیاں دینے پر ڈیموکریٹس کے خلاف تحقیقات کا حکم فضائی آلودگی میں لاہور دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں سرفہرست صدر اور وزیراعظم کا دیوالی پر ملک میں اتحاد، مذہبی ہم آہنگی کے فروغ پر زور امریکی فوج کا بحیرۂ عمان میں تجارتی جہاز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ پاکستان اور سری لنکا کے درمیان دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا کل سے آغاز: بابر اعظم اور کوشال مینڈس اپنی ٹیموں کی قیادت کریں گے

چینی سائنسدانوں کی بڑی پیش رفت، سوڈیم,سلفر بیٹری لیتھیم کا متبادل بننے کے قریب

Web Desk

10 January 2026

چینی انجینئرز نے سوڈیم اور سلفر پر مبنی ایک نئی قسم کی بیٹری تیار کر لی ہے جو لیتھیم بیٹریوں کا سستا اور زیادہ محفوظ متبادل ثابت ہو سکتی ہے۔

دنیا بھر میں برقی آلات اور الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے باعث لیتھیم کو بطور بیٹری مٹیریل وسیع پیمانے پر استعمال کیا جا رہا ہے، تاہم لیتھیم بیٹریوں کے زیادہ گرم ہونے، حفاظتی خدشات اور لیتھیم کے محدود و مہنگے حصول کی وجہ سے متبادل ٹیکنالوجی کی تلاش جاری ہے۔

سوڈیم اور سلفر بیٹریوں پر ماضی میں کی جانے والی کوششیں کئی عملی رکاوٹوں کا شکار رہیں۔ ان میں سب سے بڑا مسئلہ اینوڈ میں سوڈیم دھات کی بہت زیادہ مقدار کا استعمال تھا، جو نہ صرف لاگت اور حفاظتی خطرات میں اضافہ کرتا تھا بلکہ توانائی اور پاور ڈینسٹی کو بھی متاثر کرتا تھا۔ اس کے علاوہ، ابتدائی ڈیزائنز نارمل درجۂ حرارت پر مؤثر انداز میں بجلی پیدا کرنے میں ناکام رہے۔

جرنل نیچر میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق محققین نے کیمیائی ردِعمل میں بنیادی تبدیلیاں کر کے ایک ہائی وولٹیج، اینوڈ فری سوڈیم-سلفر بیٹری تیار کی ہے جو کمرۂ درجۂ حرارت پر مؤثر انداز میں کام کرتی ہے۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ نیا بیٹری ڈیزائن 3.6 وولٹ کا ڈسچارج وولٹیج فراہم کرتا ہے، جو پرانے سوڈیم-سلفر ماڈلز کے تقریباً 1.6 وولٹ کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہے۔ یہ پیش رفت نہ صرف بیٹری کی کارکردگی میں بہتری لاتی ہے بلکہ اسے محفوظ، کم لاگت اور بڑے پیمانے پر استعمال کے قابل بھی بناتی ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ نئی ٹیکنالوجی مستقبل میں الیکٹرک گاڑیوں، توانائی ذخیرہ کرنے کے نظام اور دیگر برقی آلات میں انقلاب برپا کر سکتی ہے۔