LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
سینیگال کے ساحل کے قریب تارکین وطن کی کشتی ڈوب گئی، 21 افراد ہلاک کسی بھی دورے کے دوران مارکیٹیں اور کاروبار بند نہ کئے جائیں، مریم نواز کی حکام کو ہدایت امریکی انتخابات کے نتائج نے امریکا کو تاریخ میں کئی قدم پیچھے دھکیل دیا: ٹرمپ مصر میں مسافر ٹرین حادثہ، متعدد بوگیاں پٹری سے اتر گئیں، 64 افراد زخمی غزہ میں بارشوں سے 70 ہزار خیمے زیر آب، ساڑھے 3 لاکھ بے گھر افراد متاثر ایران کیخلاف کسی بھی طاقت کا اتحاد ناکامی سے دوچار ہوگا: ترجمان ایرانی فوج شہباز شریف کی نواز شریف سے ملاقات، ملکی سیاسی و معاشی صورتحال پر مشاورت صدر پوتن کی امریکہ میں جی 20 سربراہی اجلاس میں شرکت کا فیصلہ نہیں ہوا: کریملن پاکستان پوسٹ میں غیر قانونی بھرتیوں کا کیس، اسعد محمود تفتیش سے روپوش قرار پاکستان میں انتظامی یونٹس بنانے کے حوالے سے غور کرنا چاہئے: خواجہ آصف وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی دیوالی کے تہوار پر ہندو برادری کو مبارکباد وزیراعظم شہباز شریف کی آذربائیجان کو یوم فتح کی چھٹی سالگرہ پر مبارکباد شادی اور بچے پیدا کرنے کی ہمت کریں: پوپ لیو کی جنوبی امریکا میں نوجوانوں کو نصیحت سعودی عرب نے ریاض کی جانب داغے گئے 2 بیلسٹک اور 2 کروز میزائل تباہ کر دیے ڈی جی آئی ایس پی آر کا لاہور کی تین جامعات کا دورہ، طلبہ اور اساتذہ سے خصوصی نشستیں

مصنوعی ذہانت جدت کیساتھ گورننس کے نئے چیلنجز بھی لارہی ہے: چینی صدر

Web Desk

18 July 2026

چین کے صدر شی جن پنگ نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ مصنوعی ذہانت (AI) کی ٹیکنالوجیز میں غیر معمولی جدت کے ساتھ ابھرنے والے گورننس کے نئے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مشترکہ حکمتِ عملی اختیار کرے۔ عالمی میڈیا کے مطابق، 2026 ورلڈ اے آئی کانفرنس اور گلوبل آئی آئی گورننس کے اعلیٰ سطح کے اجلاس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چینی صدر نے کہا کہ دنیا اس وقت اے آئی کے عظیم مواقع کے ساتھ ساتھ سنگین سیکیورٹی اور اخلاقی چیلنجز کے دور میں داخل ہو چکی ہے۔ انہوں نے بنیادی سوالات اٹھائے کہ انسان سوچنے کی صلاحیت رکھنے والی مشینوں کے ساتھ کس طرح ہم آہنگی سے رہ سکتا ہے اور الگورتھمز کے ذریعے فیصلوں کے دوران سلامتی کو کیسے یقینی بنایا جا سکتا ہے۔ شی جن پنگ نے مزید کہا کہ نئی ٹیکنالوجیز کے اخلاقی چیلنجز سے مؤثر حکمرانی کے ذریعے نمٹنا اور بڑھتے ہوئے ڈیجیٹل فرق کے باوجود مصنوعی ذہانت کے فوائد کو پوری انسانیت تک پہنچانا ایسے بنیادی امور ہیں جن پر عالمی برادری کو سنجیدگی سے غور کرتے ہوئے مؤثر حل تلاش کرنا ہوں گے۔