LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکی محکمہ محنت نے کگنیزنٹ کے لیے نئے گرین کارڈز (پرم) کا پروسیس معطل کر دیا ایران امریکی جہازوں کو نشانہ بنائے گا تو اپنے ٹینکرز سے ہاتھ دھونا پڑے گا، روبیو امریکی سینٹرل کمانڈ کا 5 ایرانی خام تیل بردار جہاز تباہ کرنے کا دعویٰ ایرانی بحریہ کا آبنائے ہرمز کے داخلی راستے پر امریکی بغیر پائلٹ آبدوز پکڑنے کا دعویٰ حملوں کا جواب: ایران نے امریکی فوجی اڈوں پر میزائلوں کی بارش کردی سعودی کابینہ کا ملکی خود مختاری، قومی سلامتی کے دفاع کے عزم کا اعادہ ایرانی وزیر خارجہ کی امریکا کی جانب سے نئی پابندیوں پر سخت تنقید امریکا کی ایران کی 27 فضائی کمپنیوں اور دیگر اداروں پر پابندیاں عائد امریکی صدر کا کینیڈا کے ساتھ تجارتی برابری نہ ہونے پر سخت ردعمل 27 ستمبر کا احتجاج اٹل، فیصلے پر نظر ثانی نہیں کر سکتے: بیرسٹر گوہر مسلم لیگ ن صوبوں کے معاملے پر ایک پیج پر ہے، مریم نواز سپانتک چوٹی پر جاں بحق ڈاکٹر اسما مشتاق کی لاہور میں نماز جنازہ ادا حوثیوں کے سعودیہ پر حملوں میں واضح ایرانی ہاتھ نظر آتا ہے: امریکی وزیر خارجہ برطانیہ سمیت بارہ ممالک کا اسرائیلی بستیوں کی مصنوعات پر پابندیاں عائد کرنے کا اعلان بلاول بھٹو کا محسن نقوی کے سسٹم فیل ہونے کے بیان پر قومی اسمبلی میں بحث کا مطالبہ

وہ منفرد عمارت جسے تعمیراتی عجوبہ قرار دیا جاتا ہے

Web Desk

21 May 2026

چین نے گزشتہ چند دہائیوں میں دنیا کو متعدد ایسے حیران کن اور دنگ کر دینے والے تعمیراتی منصوبے دیے ہیں جنہیں دیکھ کر عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ تاہم، انہی شاہکاروں میں ایک ایسا منصوبہ بھی شامل ہے جسے جدید اسٹرکچرل انجینئرنگ کا ایک ’ناممکن کارنامہ‘ تصور کیا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ یہ شاہکار چین کے گنجان آباد اور جدید شہر چونگ چنگ (Chongqing) میں واقع ایک منفرد ترین عمارت ہے۔

عام طور پر دنیا بھر میں بلند و بالا عمارات اور فلک بوس ٹاورز سطح زمین سے عمودی (Vertical) یعنی نیچے سے اوپر آسمان کی طرف جاتے ہیں، لیکن چونگ چنگ میں قائم ’’دی کرسٹل‘‘ (The Crystal) نامی یہ عمارت اپنی نوعیت کی بالکل منفرد اور اکیلی ہے۔ اس عمارت کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ یہ زمین سے سیدھی اوپر جانے کے بجائے افقی (Horizontal) ہے، یعنی ایک طویل لکیر کی طرح دائیں سے بائیں جانب پھیلی ہوئی ہے۔

درحقیقت، اس تعمیراتی عجوبے کو باقاعدہ طور پر دنیا کی سب سے بلند افقی عمارت (Horizontal Skyscraper) ہونے کا اعزاز حاصل ہے، کیونکہ یہ زمین پر کھڑی ہونے کے بجائے شہر کے 4 بڑے عمودی ٹاورز کی چھتوں کے اوپر کسی پل کی طرح ٹکی ہوئی ہے۔ اس حیرت انگیز پراجیکٹ کو مشہور تعمیراتی کمپنی ’کیپیٹل لینڈ‘ (CapitaLand) نے تیار کیا ہے، جس کی تعمیر پر ایک ارب 10 کروڑ ڈالرز (پاکستانی اربوں روپے) کی خطیر رقم خرچ کی گئی ہے۔

اگر اس عمارت کی ظاہری اور تکنیکی ساخت پر نظر ڈالی جائے تو اس کے باہری اسٹرکچر کو خوبصورت بنانے کے لیے 3 ہزار ہائی ٹیک گلاس پینلز (شیشے) اور اس کے اردگرد مضبوط گرفت کے لیے 5 ہزار المونیم پینلز کا استعمال کیا گیا ہے۔

خصوصیت تفصیلات
مجموعی لمبائی 300 میٹر
زمین سے بلندی 250 میٹر
مجموعی وزن 12,000 ٹن (ایفل ٹاور کے برابر)
ڈیزائن کی ساخت 4 اہم حصوں پر مشتمل، 4 ٹاورز پر ایستادہ

سطح زمین سے 250 میٹر کی بلندی پر ہوا میں معلق 300 میٹر لمبی یہ افقی عمارت مجموعی طور پر 4 بڑے حصوں پر مشتمل ہے۔ اس کا کل وزن 12 ہزار ٹن ریکارڈ کیا گیا ہے، جو کہ فرانس کے دارالحکومت پیرس میں موجود تاریخی ’ایفل ٹاور‘ (Eiffel Tower) کے کل وزن کے برابر ہے۔ اتنے بھاری بھرکم ڈھانچے کو چار ستون نما ٹاورز پر اس طرح متوازن کرنا کہ یہ شدید زلزلوں اور ہوا کے دباؤ کو برداشت کر سکے، وہ خاص وجہ ہے جس کی بنا پر دنیا بھر کے پٹرولیم، سول اور اسٹرکچرل انجینئرز اسے موجودہ دور کا ایک سچا تعمیراتی معجزہ قرار دیتے ہیں۔