LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
چین کی پھر ایران امریکا تنازع میں پاکستان کی ثالثی کوششوں کی حمایت دہشت گردی کے خلاف جنگ پوری قومی قوت کے ساتھ جاری رہے گی: فیلڈ مارشل متحدہ عرب امارات سے 3,494 پاکستانی ڈی پورٹ ہوئے، بیشتر جرائم یا غیر قانونی قیام کے باعث نکالے گئے؛ وفاقی وزیر پاکستان نے تیل و گیس کے 8 ایکسپلوریشن بلاکس حاصل کر لئے وزیرِ اعظم شہباز شریف کا پرنس رحیم آغا خان کے اعزاز میں ناشتہ کی تقریب ؛ مرحوم پرنس کریم آغا خان چہارم کی خدمات پر یادگاری ڈاک ٹکٹ پیش محسن نقوی کی عباس عراقچی سے ملاقات، علاقائی صورت حال پر تبادلہ خیال وفاقی آئینی عدالت کی اسلام قبول کرنے والی خاتون عائشہ کو اپنی مرضی سے رہنے کی اجازت دنیا فلوٹیلا کارکنوں سے بدسلوکی کا نوٹس لے، محفوظ واپسی یقینی بنائے: پاکستان شمالی وزیرستان میں خارجی کمانڈر عمر 4 دہشت گردوں سمیت جہنم واصل وزیرِ اعظم کی ای سی سی ارکان کی تعداد میں اضافے کی منظوری میر واعظ مولوی محمد فاروق اور عبدالغنی لون کا آج یومِ شہادت پی ٹی آئی ارکان اسمبلی و رہنما 23 جولائی تک گرفتار نہ کرنے کا حکم سلامتی کونسل ایران کیخلاف بلا اشتعال حملے روکنے میں ناکام رہی: ایران کی شدید تنقید وزیراعلیٰ مریم نواز کا ثقافتی ورثے کے تحفظ کے عزم کا اعادہ پاک چین سفارتی تعلقات 75 سال میں پائیدار دوستی کی شاندار مثال بن گئے: صدر، وزیراعظم

وہ منفرد عمارت جسے تعمیراتی عجوبہ قرار دیا جاتا ہے

Web Desk

21 May 2026

چین نے گزشتہ چند دہائیوں میں دنیا کو متعدد ایسے حیران کن اور دنگ کر دینے والے تعمیراتی منصوبے دیے ہیں جنہیں دیکھ کر عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ تاہم، انہی شاہکاروں میں ایک ایسا منصوبہ بھی شامل ہے جسے جدید اسٹرکچرل انجینئرنگ کا ایک ’ناممکن کارنامہ‘ تصور کیا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ یہ شاہکار چین کے گنجان آباد اور جدید شہر چونگ چنگ (Chongqing) میں واقع ایک منفرد ترین عمارت ہے۔

عام طور پر دنیا بھر میں بلند و بالا عمارات اور فلک بوس ٹاورز سطح زمین سے عمودی (Vertical) یعنی نیچے سے اوپر آسمان کی طرف جاتے ہیں، لیکن چونگ چنگ میں قائم ’’دی کرسٹل‘‘ (The Crystal) نامی یہ عمارت اپنی نوعیت کی بالکل منفرد اور اکیلی ہے۔ اس عمارت کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ یہ زمین سے سیدھی اوپر جانے کے بجائے افقی (Horizontal) ہے، یعنی ایک طویل لکیر کی طرح دائیں سے بائیں جانب پھیلی ہوئی ہے۔

درحقیقت، اس تعمیراتی عجوبے کو باقاعدہ طور پر دنیا کی سب سے بلند افقی عمارت (Horizontal Skyscraper) ہونے کا اعزاز حاصل ہے، کیونکہ یہ زمین پر کھڑی ہونے کے بجائے شہر کے 4 بڑے عمودی ٹاورز کی چھتوں کے اوپر کسی پل کی طرح ٹکی ہوئی ہے۔ اس حیرت انگیز پراجیکٹ کو مشہور تعمیراتی کمپنی ’کیپیٹل لینڈ‘ (CapitaLand) نے تیار کیا ہے، جس کی تعمیر پر ایک ارب 10 کروڑ ڈالرز (پاکستانی اربوں روپے) کی خطیر رقم خرچ کی گئی ہے۔

اگر اس عمارت کی ظاہری اور تکنیکی ساخت پر نظر ڈالی جائے تو اس کے باہری اسٹرکچر کو خوبصورت بنانے کے لیے 3 ہزار ہائی ٹیک گلاس پینلز (شیشے) اور اس کے اردگرد مضبوط گرفت کے لیے 5 ہزار المونیم پینلز کا استعمال کیا گیا ہے۔

خصوصیت تفصیلات
مجموعی لمبائی 300 میٹر
زمین سے بلندی 250 میٹر
مجموعی وزن 12,000 ٹن (ایفل ٹاور کے برابر)
ڈیزائن کی ساخت 4 اہم حصوں پر مشتمل، 4 ٹاورز پر ایستادہ

سطح زمین سے 250 میٹر کی بلندی پر ہوا میں معلق 300 میٹر لمبی یہ افقی عمارت مجموعی طور پر 4 بڑے حصوں پر مشتمل ہے۔ اس کا کل وزن 12 ہزار ٹن ریکارڈ کیا گیا ہے، جو کہ فرانس کے دارالحکومت پیرس میں موجود تاریخی ’ایفل ٹاور‘ (Eiffel Tower) کے کل وزن کے برابر ہے۔ اتنے بھاری بھرکم ڈھانچے کو چار ستون نما ٹاورز پر اس طرح متوازن کرنا کہ یہ شدید زلزلوں اور ہوا کے دباؤ کو برداشت کر سکے، وہ خاص وجہ ہے جس کی بنا پر دنیا بھر کے پٹرولیم، سول اور اسٹرکچرل انجینئرز اسے موجودہ دور کا ایک سچا تعمیراتی معجزہ قرار دیتے ہیں۔