LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاسداران انقلاب کا امریکی نگرانی میں آبنائے ہرمز عبور کرنیوالے جہازوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ دہشت گردوں سے بات چیت کی گنجائش نہیں، ہتھیار ڈال دیں ورنہ ختم کر دیئے جائیں گے: پاک فوج وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ہسپتال بنا کر علاج کرنا ہیلتھ کیئر نہیں، انسانوں کو بیماریوں سے بچانا حقیقی صحت ہے۔ آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کی 21 نشستوں پر الیکشن 02 اگست کو: 12 لاکھ ووٹرز حقِ رائے دہی استعمال کریں گے کمانڈر نیشنل سٹریٹجک کمانڈ جنرل عامر رضا کو نشان امتیاز (ملٹری) عطا کرنے کی منظوری وزیراعظم سے آذربائیجان کے سفیر کی الوداعی ملاقات، خضر فرہادوف کی خدمات کو سراہا قطری ایل این جی جہاز نے آبنائے ہرمز عبور کر لی، آج پاکستانی حدود میں داخل ہوگا محسن نقوی کی زیر صدارت اجلاس، پی ایس ایل سیزن کی تیاریوں پر گفتگو دریائے سندھ میں کالا باغ اور چشمہ کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب غزہ جنگ بندی معاہدے پر عمل درآمد کیلئے قاہرہ میں جلد اہم اجلاس متوقع پاکستان سٹاک مارکیٹ میں تیزی، ایک لاکھ 76 ہزار پوائنٹس کی حد بحال قائداعظم محمد علی جناح کی بہن فاطمہ جناح کی آج سالگرہ منائی جا رہی ہے ایران کی قشم جزیرے پر امریکی حملے کی شدید مذمت کوئٹہ کے نواحی علاقے میں کوئلے کی کان میں دھماکا، 32 کان کن جاں بحق پاسداران انقلاب کا کویت میں امریکا کی علی السالم ایئربیس پر حملے کا دعویٰ

چین: 3 ہزار فٹ بلند ہاتھوں سے تراشی گئی حیرت انگیز پہاڑی

Web Desk

1 July 2026

چین کے جنوب مغربی صوبے چونگ چنگ میں واقع ‘لانائنگ کلف روڈ’ اپنی منفرد تعمیر، انتہائی دشوار گزار راستے اور سحر انگیز مناظر کی بدولت دنیا کی خطرناک ترین اور حیرت انگیز پہاڑی سڑکوں میں شمار کی جاتی ہے۔

سطح سمندر سے تقریباً 3 ہزار فٹ کی بلندی پر واقع یہ سڑک ایک عمودی پہاڑ کے سینے کو ہاتھوں سے تراش کر بنائی گئی ہے، جو مقامی آبادی کے بے مثال عزم، محنت اور ہمت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

اس سڑک کی تعمیر کے پیچھے ایک دلفریب کہانی چھپی ہے۔ سال 2001ء میں لانائنگ گاؤں کے محض 23 گھرانوں پر مشتمل ایک چھوٹی سی آبادی، جو کٹی پھٹی پہاڑیوں کے باعث بیرونی دنیا سے بالکل کٹی ہوئی تھی، نے اپنی مدد آپ کے تحت پہاڑ کے خطرناک کنارے کو کاٹ کر گاڑیوں کے گزرنے کے قابل سڑک بنانے کا ایک تاریخی اور بڑا فیصلہ کیا۔

اس کٹھن مقصد کو پورا کرنے کے لیے 1.2 کلومیٹر طویل سڑک کے مختلف حصے گاؤں کے ہر گھرانے کے سپرد کیے گئے۔ انتہائی دشوار گزار اور سیدھے راستے کے باعث وہاں تک کسی قسم کی تعمیراتی مشینری کا پہنچنا ناممکن تھا، اور نہ ہی محض 80 افراد پر مشتمل اس چھوٹے سے گاؤں کے مکینوں کے پاس اتنی جدید مشینری خریدنے کے مالی وسائل موجود تھے۔ اس سڑک کا بیشتر کام لوہے کی روایتی چھینی اور ہتھوڑے کی مدد سے اپنے ہاتھوں سے انجام دیا۔ آج یہ سڑک نہ صرف ان کے لیے بیرونی دنیا کا راستہ ہے، بلکہ دنیا بھر کے سیاحوں کے لیے ایک حیرت انگیز شاہکار بن چکی ہے۔