LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
اسحاق ڈار اور عباس عراقچی میں رابطہ، بحری جہازوں کی محفوظ آمدورفت پر زور اسلام آباد معاہدے پر واپس آنے کی کوششیں جاری ہیں: ایرانی وزارتِ داخلہ نئے انتظامی یونٹس بننے سے کوئی قتل و غارت نہیں ہوگی، مصطفیٰ کمال پنجاب میں سی ٹی ڈی کے 158 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، 23 دہشت گرد گرفتار سول سروس میں اصلاحات کیلئے سمارٹ ریفارمز پیکیج تیار، اہم ترامیم کی تجویز مشترکہ جائیداد کی نیلامی کے لیے تمام قانونی تقاضے پورے کرنا لازمی قرار عدالتی فائل گمشدگی کیس، سزا پانے والا اہلکار 15 سال بعد بری امریکی صدر ٹرمپ نے روس اور ایران پر پابندیوں کے بل پر دستخط کر دیے سکیورٹی فورسز کی پنجگور اور چاغی میں کارروائیاں، 11 دہشتگرد ہلاک کیوبا میں ایک سال میں ساتواں بلیک آؤٹ، پورا ملک تاریکی میں ڈوب گیا ایران کی کوہاٹ میں دہشت گرد حملے کی شدید مذمت، حکومت اورعوام سے تعزیت کا اظہار حوثی ملیشیا بحیرۂ احمر میں اشتعال انگیز کارروائیاں بند کرے: پاکستان آبنائے ہرمز میں ایک اور آئل ٹینکر کو نشانہ بنایا گیا: برطانیہ میری ٹائم کی تصدیق دشمن ملک سے خطرات: ایران نے 3 لاکھ 13 ہزار جانثار متحرک کر دیئے امریکا کا گرین لینڈ پر مستقل سکیورٹی کنٹرول، معاہدہ طے پا گیا: ٹرمپ کا دعویٰ

دماغ کے مخصوص حصوں کی تحریک سے انسانوں میں ایثار کا جذبہ بڑھ سکتا ہے، تحقیق

Web Desk

13 February 2026

نئی تحقیق کے مطابق دماغ کے مخصوص حصوں کو ہلکے برقی جھٹکوں کے ذریعے متحرک کرنے سے انسانوں میں دوسروں کے لیے قربانی دینے اور فیاضی کے جذبات بڑھ سکتے ہیں۔ جریدے PLOS Biology میں شائع ہونے والی تحقیق میں بتایا گیا کہ فرنٹل لوبز اور پیریئٹل حصوں کی ہم آہنگی ایثار پر مبنی فیصلوں میں نمایاں اضافہ کر سکتی ہے۔

تحقیق کے لیے 44 شرکاء کو ’ڈکٹیٹر گیم‘ میں حصہ لینے کی دعوت دی گئی، جس میں انہیں دستیاب رقم میں سے دوسروں کے ساتھ شیئر کرنے کا فیصلہ کرنا تھا۔ کھیل کے دوران شرکاء کے سر پر الیکٹروڈز لگا کر مخصوص دماغی حصوں کو برقی جھٹکے دیے گئے۔

نتائج سے پتہ چلا کہ گاما ویوز کی ہم آہنگی میں اضافہ ہونے پر افراد زیادہ امکان کے ساتھ دوسروں کو مالی فوائد دینے کا فیصلہ کرتے ہیں، حتیٰ کہ انہیں ذاتی نقصان بھی برداشت کرنا پڑا۔ محققین نے کہا کہ یہ مطالعہ فیاضی کے رویے اور دماغی نیٹ ورک کے تعلقات پر نئے شواہد فراہم کرتا ہے، تاہم براہِ راست سبب و نتیجہ کے تعلق کا تعین کرنے کے لیے مزید تحقیق درکار ہے۔