LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
بانی پی ٹی آئی کوئی ڈیل نہیں کرتے، تین سال قید کاٹ لی، بیرسٹر گوہر چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر ایران کے دورے پر تہران پہنچ گئے پنجاب بھر میں کھلی فضا میں ڈرون اڑانے پر مکمل پابندی عائد پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کا مثبت زون میں آغاز ایران پر نئی پابندیوں سے قبل عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں گر گئیں 21 سابق کرکٹ کپتانوں کا وزیراعظم کو خط، عمران خان کیلئے طبی سہولیات کا مطالبہ خلا سے زمین کا سحر انگیز منظر، خلاباز نے رقص کرتی سبز روشنیاں شیئر کردیں ایران کے خلاف فیصلہ کن اقتصادی کارروائی آج شروع کی جائے گی: امریکی وزیرِ خزانہ آئی ایس پی آر سمر انٹرن شپ پروگرام؛ پروفیسر ڈاکٹر ہما بقائی کی طلبہ کیساتھ نشست محمود اچکزئی دہشت گردوں کا نام نہ لے کر غلط بیانی کر رہے ہیں: وزیر داخلہ بلوچستان پنجاب میں موسمِ گرما کی تعطیلات ختم، تعلیمی ادارے دوبارہ کھل گئے ایران جنگ مشرقِ وسطیٰ میں امریکی اڈوں کے مستقبل پر سوالیہ نشان ثابت ہوئی، برطانوی اخبار پرشین گلف سٹریٹ اتھارٹی کا ایرانی ضوابط توڑنے والے بحری جہازوں کو انتباہ گنی میں لینڈ فل سائٹ پر مٹی کا تودہ گرنے سے 30 افراد ہلاک جنگ کے دوران انتخابات سے یوکرین تباہ، عوام تقسیم ہو جائے گی: زیلنسکی

دماغ کے مخصوص حصوں کی تحریک سے انسانوں میں ایثار کا جذبہ بڑھ سکتا ہے، تحقیق

Web Desk

13 February 2026

نئی تحقیق کے مطابق دماغ کے مخصوص حصوں کو ہلکے برقی جھٹکوں کے ذریعے متحرک کرنے سے انسانوں میں دوسروں کے لیے قربانی دینے اور فیاضی کے جذبات بڑھ سکتے ہیں۔ جریدے PLOS Biology میں شائع ہونے والی تحقیق میں بتایا گیا کہ فرنٹل لوبز اور پیریئٹل حصوں کی ہم آہنگی ایثار پر مبنی فیصلوں میں نمایاں اضافہ کر سکتی ہے۔

تحقیق کے لیے 44 شرکاء کو ’ڈکٹیٹر گیم‘ میں حصہ لینے کی دعوت دی گئی، جس میں انہیں دستیاب رقم میں سے دوسروں کے ساتھ شیئر کرنے کا فیصلہ کرنا تھا۔ کھیل کے دوران شرکاء کے سر پر الیکٹروڈز لگا کر مخصوص دماغی حصوں کو برقی جھٹکے دیے گئے۔

نتائج سے پتہ چلا کہ گاما ویوز کی ہم آہنگی میں اضافہ ہونے پر افراد زیادہ امکان کے ساتھ دوسروں کو مالی فوائد دینے کا فیصلہ کرتے ہیں، حتیٰ کہ انہیں ذاتی نقصان بھی برداشت کرنا پڑا۔ محققین نے کہا کہ یہ مطالعہ فیاضی کے رویے اور دماغی نیٹ ورک کے تعلقات پر نئے شواہد فراہم کرتا ہے، تاہم براہِ راست سبب و نتیجہ کے تعلق کا تعین کرنے کے لیے مزید تحقیق درکار ہے۔