LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
خیبرپختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کا معاملہ، الیکشن کمیشن نے چیف سیکرٹری اور سیکرٹری بلدیات کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا گلوبل ڈویلپمنٹ انیشیٹو بروقت اقدام ہے، وزیراعظم شہباز شریف ایک ہی الزام پر ایف آئی اے دوبارہ انکوائری نہیں کرسکتی: عدالت فیلڈ مارشل کی سعودی وزیرِ دفاع سے ملاقات، دفاعی تعاون جاری رکھنے کا عزم خیبر پختونخوا اسمبلی میں ارکان کی گرفتاری کا طریقہ کار واضح، سپیکر کی اجازت لازمی افغان سرزمین سے دہشت گردی ختم کیے بغیر خطے میں امن ممکن نہیں: اسحاق ڈار بھارت ریاستی سطح پر دہشت گردی کی پشت پناہی میں ملوث ہے: صائمہ سلیم پی ٹی آئی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دہشت گردوں کے ساتھ ہے: خواجہ آصف اسلام آباد میں احتجاج کے تماشے کو ہمیشہ کیلئے بند کرنے کا فیصلہ کرلیا: رانا ثنا امریکا کے ساتھ براہ راست بات اعتماد کے شدید فقدان کے باعث ممکن نہیں: ایرانی صدر کانگو میں کارگو طیارہ گر کر تباہ، آڈیٹر جنرل سمیت 14 فوجی افسران ہلاک امریکا سے واپسی پر وزیراعظم لندن میں دو سے تین روز قیام کریں گے امریکی صدر نے ایران کی سات روزہ جنگ بندی کی تجویز مسترد کردی طالبان رجیم کی بدترین کارکردگی، افغانستان جنوبی ایشیا کا ناکام ترین ملک قرار بی جے پی کا ہندوتوا ایجنڈا، بھارت میں اسلام دشمنی سر چڑھ کر بولنے لگی

جدید اردو غزل کے معمار ناصر کاظمی کا یوم پیدائش آج منایا جا رہا ہے

Web Desk

8 December 2025

صاحبِ اُسلوب شاعر ناصر کاظمی 8 دسمبر 1925ء کو بھارتی پنجاب کے شہر انبالہ میں پیدا ہوئے، ابتدائی تعلیم انبالہ میں حاصل کرنے کے بعد ناصر کاظمی نے گورنمنٹ کالج لاہور میں داخلہ لے لیا، تقسیمِ ہند کے بعد فیملی کے ساتھ لاہور شفٹ ہوگئے مگر ہنگاموں کی وجہ سے بی اے نہ کر پائے۔

ناصر کاظمی نے ابتدا میں اختر شیرانی کے اُسلوب میں رومانی نظمیں لکھیں بعد میں وہ غزل کی طرف آئے اور کئی کمال کے شعری مجموعے تخلیق کیے، جن میں برگِ نے، دیوان، پہلی بارش، نشاطِ خواب، اعتبار نغمہ اور خشک چشمے کے کنارے قابل ذکر ہیں۔

ناصر کاظمی مختلف ادبی جرائد کے مدیر بھی رہے اور پھر مرتے دم تک ریڈیو پاکستان لاہور سے وابستہ رہے، وہ 2 مارچ 1972ء کو معدے کے کینسر کے باعث انتقال کر گئے مگر دلوں میں اج بھی زندہ ہیں