LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
حوثیوں کے حکومتی فورسز کے تربیتی کیمپ پر تین میزائل حملے، 53 افراد جاں بحق جرمنی کا یہودی شخصیات کے قتل کی مبینہ سازش پر ایرانی سفیر سے سخت احتجاج ایلون مسک کا اگلے سال امریکہ کے ہر بچے کو سپیس ایکس کے حصص دینے کا اعلان جنگ کے اخراجات نے ایران کے دشمنوں کو مایوسی سے دوچار کر دیا: محمد مخبر نومنتخب سعودی سفیر کی جی ایچ کیو آمد: فیلڈ مارشل سے ملاقات، باہمی امور پر تبادلہ خیال ٹرمپ کی جانب سے روس پر مجوزہ پابندیاں ختم کرنے کے بعد تیل کی قیمتوں میں کمی قطر نے ہمیشہ مذاکرات کو ترجیح دی، پاکستان سفارتی کوششوں کو سراہتا ہے: محسن نقوی پاور اور گیس شعبوں کا مجموعی گردشی قرضہ 5306 ارب روپے کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا شہباز شریف نے وزیراعظم آزاد کشمیر کو وزیراعظم ہاؤس طلب کر لیا قطر کا جلد نئی علاقائی دفاعی شراکت داری کے اعلان کا فیصلہ فضل الرحمان سیاسی مقاصد کیلئے اداروں کو نشانہ بنا رہے ہیں: حنیف عباسی حملوں کا خطرہ، امریکا کا مشرق وسطیٰ میں اپنے شہریوں کیلئے سکیورٹی الرٹ پنجاب حکومت کا جاسوسی کے آلات پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ سینیٹ میں عائلی قوانین، نجی سکیورٹی گارڈز کے حقوق سمیت 9 بل پیش حیدرآباد کا 38 سالہ شخص ریبیز کے باعث انتقال کرگیا

جدید اردو غزل کے معمار ناصر کاظمی کا یوم پیدائش آج منایا جا رہا ہے

Web Desk

8 December 2025

صاحبِ اُسلوب شاعر ناصر کاظمی 8 دسمبر 1925ء کو بھارتی پنجاب کے شہر انبالہ میں پیدا ہوئے، ابتدائی تعلیم انبالہ میں حاصل کرنے کے بعد ناصر کاظمی نے گورنمنٹ کالج لاہور میں داخلہ لے لیا، تقسیمِ ہند کے بعد فیملی کے ساتھ لاہور شفٹ ہوگئے مگر ہنگاموں کی وجہ سے بی اے نہ کر پائے۔

ناصر کاظمی نے ابتدا میں اختر شیرانی کے اُسلوب میں رومانی نظمیں لکھیں بعد میں وہ غزل کی طرف آئے اور کئی کمال کے شعری مجموعے تخلیق کیے، جن میں برگِ نے، دیوان، پہلی بارش، نشاطِ خواب، اعتبار نغمہ اور خشک چشمے کے کنارے قابل ذکر ہیں۔

ناصر کاظمی مختلف ادبی جرائد کے مدیر بھی رہے اور پھر مرتے دم تک ریڈیو پاکستان لاہور سے وابستہ رہے، وہ 2 مارچ 1972ء کو معدے کے کینسر کے باعث انتقال کر گئے مگر دلوں میں اج بھی زندہ ہیں