LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران کا تہران کی فضائی حدود مکمل طور پر بند رکھنے کا اعلان ایران اور قطری حکام کی دوحہ میں بیٹھک، بحری تجارت بحال کرنے کا اعلان لبنان کے اکثریتی مسیحی قصبے رمیش کے میئر نے نیتن یاہو کا دعویٰ مسترد کردیا لبنانی مسیحی دیہات نے حزب اللہ سے تحفظ کیلئے اسرائیل سے الحاق کا اظہار کیا: نیتن یاہو کا دعویٰ سندھ طاس معاہدے پر سمجھوتہ نہیں ہوگا، جنگ لڑنا پڑی تو لڑیں گے: بلاول بھٹو سانحہ بلدیہ تفصیلی فیصلہ جاری, سزائے موت پانے والے ملزمان رحمان بھولا اور زبیر چریا کو بری کر دیا سہیل آفریدی کی ضم اضلاع میں عوامی خدمات بہتر بنانے کیلئے تین ماہ کی مہلت نیویارک کے مشہور ساحلی علاقے کونی آئی لینڈ میں فائرنگ، 4 بچوں سمیت 8 افراد زخمی اسرائیل کی سفاکیت کم نہ ہوئی، ڈرون حملے میں مزید 2 فلسطینی شہید، متعدد زخمی یورپ میں شدید گرمی کی لہر برقرار، اموات 4 ہزار سے تجاوز کر گئیں اسرائیلی فوج کے سربراہ کا لبنان میں فیصلہ کن کارروائیاں جاری رکھنے کا اعلان مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد مشکل ضرور ہے لیکن ناممکن نہیں، باقر قالیباف ٹرمپ نے کہا وٹکوف، جیرڈ کشنر دوبارہ ماسکو آنے کیلئے تیار ہیں: ترجمان کریملن صدر ٹرمپ انقرہ میں نیٹو ممالک کے اجلاس میں شرکت کریں گے، وائٹ ہاؤس اوپیک پلس ممالک کا اگست کیلئے تیل کی پیداوار بڑھانے کا فیصلہ

سندھ طاس معاہدے کے بغیر پاکستان اور بھارت میں پائیدار امن ممکن نہیں: بلاول بھٹو

Web Desk

30 June 2026

اسلام آباد: چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی (PPP) بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ پانی صرف جغرافیہ کی حد تک محدود نہیں بلکہ یہ ہماری خوراک، مستقبل اور زندگی کا سوال ہے، جبکہ موجودہ دور میں آبی وسائل عالمی سیاست اور علاقائی سلامتی کا مرکزی تزویراتی مسئلہ بن چکے ہیں۔وفاقی دارالحکومت میں سندھ طاس معاہدے (Indus Water Treaty) پر منعقدہ بین الاقوامی سیمینار سے مصلحانہ خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پیپلز پارٹی نے سمندری و آبی گزرگاہوں کی اہمیت کا احاطہ کیا۔ انہوں نے سائنسی تقابل پیش کرتے ہوئے واضح کیا کہ جس طرح آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کی ممکنہ بندش پوری عالمی معیشت کو مفلوج کر سکتی ہے، بالکل اسی طرح دریائے سندھ کا پانی پاکستان کی بقاء اور زندگی کی واحد ضمانت ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے انتباہ کیا کہ سمندری گزرگاہوں یا آبی وسائل کو تزویراتی مقاصد کے لیے بطور ہتھیار استعمال کرنا عالمی امن کے لیے ایک انتہائی خطرناک رجحان ہے، اور سندھ طاس معاہدے کی روح کے مطابق بحالی کے بغیر پاکستان اور بھارت کے درمیان پائیدار امن کا قیام مروجہ طور پر ناممکن ہے۔بلاول بھٹو زرداری کے خطاب کے اہم ترین نکات اور تزویراتی مطالبات درج ذیل جدول میں دیکھے جا سکتے ہیں:تزویراتی پیرامیٹرچیئرمین پی پی پی کا مصلحانہ مؤقف اور تجزیہآبی حقوق کا فریم ورکسندھ، جہلم اور چناب کے پانی پر پاکستان کا حق بین الاقوامی قوانین کے تحت مروجہ اور تسلیم شدہ ہے۔قومی سلامتی کا درجہپانی کے مینوئل معاملے کو محض تکنیکی تنازع کے بجائے قومی سلامتی کے اہم ترین مسئلے کے طور پر دیکھا جائے۔معاہدے کی پاسداریپاکستان نے ہمیشہ جنگ بندی اور آبی ضوابط پر عمل کیا، جبکہ بھارت نے اپنے وعدوں کی مکمل پاسداری نہیں کی۔قومی عزم اور اتحادکروڑوں عوام کے حقِ آب کے تحفظ پر پوری قوم متحد ہے؛ آبی حقوق کو نقصان پہنچانے کی ہر کوشش کا تزویراتی جواب دیا جائے گا۔انہوں نے اپنے تزویراتی خطاب کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ سندھ محض ایک دریا کا نام نہیں بلکہ کروڑوں شہریوں کی مروجہ زندگی، زراعت اور ملکی معیشت کا بنیادی ذریعہ ہے۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ پانی پر سیاسی دباؤ ڈالنا یا اسے جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا بین الاقوامی قوانین اور مروجہ سفارتی معاہدوں کے سراسر منافی ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے قومی عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان خطے میں مستقل امن کا خواہاں ہے، لیکن اپنے عوام کے بنیادی حقوق اور آبی مفادات پر کسی بھی سطح پر کوئی مصلحت پسندی یا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔