LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ملک کے مختلف علاقوں میں موسلادھار بارش، سیلاب کا خدشہ وفاقی کابینہ کا اجلاس طلب، امن و امان، قانون سازی، بانی کے معاملے پر غور ہوگا ملک بھر کے دریاؤں اور آبی ذخائر میں پانی کی صورتحال: تربیلا، منگلا اور چشمہ میں ریکارڈ اسٹاک موجود مریم نواز کا ستھرا پنجاب ورکر کو ہر ماہ 5 تاریخ سے قبل ادائیگی یقینی بنانے کا حکم ایران کی جانب سے خطرات، رکن ممالک کے دفاع کے لیے تیار ہیں: نیٹو پیڈا ایکٹ کے تحت بغیر انکوائری ملازم کو برطرف کرنا غیر قانونی قرار کینیا میں سیاحوں کا ہیلی کاپٹر گر کر تباہ، 5 امریکیوں سمیت 7 افراد ہلاک راشد منہاس شہید کا 55واں یوم شہادت، افواجِ پاکستان کا زبردست خراج عقیدت مقبوضہ مغربی کنارے یہودی آبادکاری منصوبہ، برطانیہ کا اسرائیل سے شدید احتجاج 20 جولائی سے اب تک 48 سعودی تیل بردار بحری جہازوں کو روکا گیا، حوثی گروپ کا دعویٰ حوثیوں نے بحیرہ احمر میں آبنائے باب المندب بند کرنے پر غور شروع کر دیا اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت اب تک کوئی رقم جاری نہیں ہوئی، سربراہ ایران مرکزی بینک امریکی پابندیوں کا شکار ٹینکر ناکہ بندی توڑ کر آبنائے ہرمز کے راستے خلیج فارس داخل شہزادہ ہیری کا رواں ماہ فیملی سمیت امریکا سے برطانیہ واپس آنے کا فیصلہ ٹرمپ کا ایران کے خلاف تاریخ کی سب سے سخت اقتصادی کارروائی کا اعلان

سندھ طاس معاہدے کے بغیر پاکستان اور بھارت میں پائیدار امن ممکن نہیں: بلاول بھٹو

Web Desk

30 June 2026

اسلام آباد: چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی (PPP) بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ پانی صرف جغرافیہ کی حد تک محدود نہیں بلکہ یہ ہماری خوراک، مستقبل اور زندگی کا سوال ہے، جبکہ موجودہ دور میں آبی وسائل عالمی سیاست اور علاقائی سلامتی کا مرکزی تزویراتی مسئلہ بن چکے ہیں۔وفاقی دارالحکومت میں سندھ طاس معاہدے (Indus Water Treaty) پر منعقدہ بین الاقوامی سیمینار سے مصلحانہ خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پیپلز پارٹی نے سمندری و آبی گزرگاہوں کی اہمیت کا احاطہ کیا۔ انہوں نے سائنسی تقابل پیش کرتے ہوئے واضح کیا کہ جس طرح آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کی ممکنہ بندش پوری عالمی معیشت کو مفلوج کر سکتی ہے، بالکل اسی طرح دریائے سندھ کا پانی پاکستان کی بقاء اور زندگی کی واحد ضمانت ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے انتباہ کیا کہ سمندری گزرگاہوں یا آبی وسائل کو تزویراتی مقاصد کے لیے بطور ہتھیار استعمال کرنا عالمی امن کے لیے ایک انتہائی خطرناک رجحان ہے، اور سندھ طاس معاہدے کی روح کے مطابق بحالی کے بغیر پاکستان اور بھارت کے درمیان پائیدار امن کا قیام مروجہ طور پر ناممکن ہے۔بلاول بھٹو زرداری کے خطاب کے اہم ترین نکات اور تزویراتی مطالبات درج ذیل جدول میں دیکھے جا سکتے ہیں:تزویراتی پیرامیٹرچیئرمین پی پی پی کا مصلحانہ مؤقف اور تجزیہآبی حقوق کا فریم ورکسندھ، جہلم اور چناب کے پانی پر پاکستان کا حق بین الاقوامی قوانین کے تحت مروجہ اور تسلیم شدہ ہے۔قومی سلامتی کا درجہپانی کے مینوئل معاملے کو محض تکنیکی تنازع کے بجائے قومی سلامتی کے اہم ترین مسئلے کے طور پر دیکھا جائے۔معاہدے کی پاسداریپاکستان نے ہمیشہ جنگ بندی اور آبی ضوابط پر عمل کیا، جبکہ بھارت نے اپنے وعدوں کی مکمل پاسداری نہیں کی۔قومی عزم اور اتحادکروڑوں عوام کے حقِ آب کے تحفظ پر پوری قوم متحد ہے؛ آبی حقوق کو نقصان پہنچانے کی ہر کوشش کا تزویراتی جواب دیا جائے گا۔انہوں نے اپنے تزویراتی خطاب کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ سندھ محض ایک دریا کا نام نہیں بلکہ کروڑوں شہریوں کی مروجہ زندگی، زراعت اور ملکی معیشت کا بنیادی ذریعہ ہے۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ پانی پر سیاسی دباؤ ڈالنا یا اسے جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا بین الاقوامی قوانین اور مروجہ سفارتی معاہدوں کے سراسر منافی ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے قومی عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان خطے میں مستقل امن کا خواہاں ہے، لیکن اپنے عوام کے بنیادی حقوق اور آبی مفادات پر کسی بھی سطح پر کوئی مصلحت پسندی یا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔