LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
عوام کو ریلیف دینے کیلئے پٹرولیم لیوی کو مکمل ختم کیا جائے: حافظ نعیم اسلام آباد پر دھاوا بولنے والوں کو سخت نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا: محسن نقوی پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان6 کروڑ 50 لاکھ یورو کے 3 اہم ترقیاتی معاہدوں پر دستخط بانی پی ٹی آئی کی تینوں بہنوں کی ایم پی او کے تحت نظر بندی کے احکامات لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج عمران خان کی بہنوں اور بچوں کی حراست غیر قانونی ہے، شدید مذمت کرتے ہیں: شیخ وقاص اکرم سومنات کا حوالہ بار بار آنے کے لیے استعمال کیا، ہم پرامن رہیں گے: جنید اکبر کی وضاحت ایران رویہ بدلے تو مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے: مائیک والٹز علیمہ کے بعد نورین نیازی اور عظمیٰ خان بھی 30 روز کیلئے نظر بند اسلام آباد سومنات نہ جنید اکبر ہی محمود غزنوی، وفاق اپنا دفاع کرے گا: خواجہ آصف وزیراعظم جنرل اسمبلی میں کشمیر، فلسطین کے مسائل اٹھائیں گے: عاصم افتخار بلوچستان کے ضلع خضدار میں زلزلے کے جھٹکے، شدت 4.5 ریکارڈ امریکا نے ایران کے ساتھ کسی معاہدے تک پہنچنے کی یقین دہانی کرائی ہے: قطر پائیدار امن کیلئے تشدد، نفرت اور انتہا پسندی کا خاتمہ ناگزیر ہے: مریم نواز شریف ہنگو میں شہید ہونے والے فوجی افسروں اور جوانوں کی نمازِ جنازہ ادا مصر، سوڈان اور اعلیٰ امریکی حکام کے سوڈان جنگ کے خاتمے کیلئے اہم مذاکرات

بانی پی ٹی آئی اور بیرسٹر سلمان صفدر کی ملاقات ختم: القادر ٹرسٹ کیس میں ایک گھنٹہ طویل قانونی مشاورت

Web Desk

8 April 2026

راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی اور ان کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر کے درمیان ہونے والی اہم ملاقات ختم ہو گئی ہے۔ جیل ذرائع کے مطابق، یہ ملاقات جیل کے کانفرنس روم میں کرائی گئی جو تقریباً ایک گھنٹے تک جاری رہی۔ ملاقات کے دوران القادر ٹرسٹ کیس میں اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت مرکزی اپیلوں پر تفصیلی قانونی مشاورت کی گئی اور آئندہ کی عدالتی حکمتِ عملی طے کی گئی۔

ملاقات مکمل ہونے کے بعد بیرسٹر سلمان صفدر اڈیالہ جیل سے واپس روانہ ہو گئے، تاہم انہوں نے میڈیا سے گفتگو نہیں کی۔ واضح رہے کہ یہ ملاقات اسلام آباد ہائی کورٹ کے خصوصی احکامات پر منعقد ہوئی تھی تاکہ وکیل صفائی اپنے موکل سے مقدمے کے اہم قانونی پہلوؤں پر براہِ راست ہدایات حاصل کر سکیں۔ اب بیرسٹر سلمان صفدر ان مشاورت کی روشنی میں ہائی کورٹ میں زیرِ التوا اپیلوں پر دلائل پیش کریں گے۔