LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کی تاریخ کے تعین کیلئے الیکشن کمیشن کا اہم اجلاس طلب حرمین شریفین کا تحفظ ملک و قوم اور مسلح افواج کیلئے اہم فریضہ ہے: وزیراعظم پاکستان اور یورپی یونین کے پارلیمانی روابط کو مزید فروغ دینا ہو گا: ایاز صادق اسحاق ڈار کا کانگو کے صدر اور گنی بساؤ کے سابق صدر سے مکہ دفاعی معاہدے پر تبادلہ خیال بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق خبریں تشویشناک,اہم پریس کانفرنس مسلم لیگ (ن) دو تہائی اکثریت سے آزاد کشمیر میں حکومت بنائے گی: رانا ثناء اللہ پیپلز پارٹی کے رہنما عبدالقادر پٹیل کے مرکزی دفتر پر فائرنگ، ملزمان فرار حج 2027 کا پورا عمل ڈیجیٹل، 4 لاکھ رجسٹرڈ عازمین درخواستیں دے سکیں گے امریکی سکیورٹی گارنٹی ناقابل اعتبار ہونے پر مکہ دفاعی معاہدہ ہوا: ایران جولائی میں ترسیلاتِ زر 13 فیصد بڑھ گئیں، وزیراعظم کا اظہار اطمینان اسلام آباد ہائیکورٹ: ججز تعیناتی کی سمری منظور نہ ہونے پر صدر، وزیراعظم کو نوٹس ایران کو فوجی دباؤ سے زیادہ امریکی اقتصادی پابندیوں کی فکر ہے: امریکا اسحاق ڈار کا کویتی ہم منصب سے رابطہ، مکہ دفاعی معاہدے پر تبادلہ خیال ملک بھر کے بجلی صارفین پر مزید 23 ارب روپے کا بوجھ منتقل کرنے کی تیاری مریم نواز سے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس پاکستان کے وفد کی ملاقات، جدید نصاب کے فروغ پر تبادلہ خیال

بنگلادیش نے شیخ حسینہ واجد سے متعلقہ 6 ارب 20 کروڑ ڈالر کے اثاثے ضبط کرلیے

Web Desk

16 July 2026

بنگلادیش فنانشل انٹیلی جنس یونٹ (BFIU) نے غیر قانونی اثاثے بنانے، ٹیکس چوری اور منی لانڈرنگ کے الزامات کی تحقیقات کے سلسلے میں سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد، ان کے خاندان اور ملک کے 10 بڑے کاروباری گروپوں کے 6 ارب 20 کروڑ ڈالر (تقریباً 76 ہزار کروڑ ٹکا) مالیت کے اثاثے منجمد اور ضبط کر لیے ہیں۔ بی ایف آئی یو کے مطابق ضبط کیے گئے اثاثوں میں بنگلادیش کے اندر موجود 57 ہزار کروڑ ٹکا اور بیرونِ ملک موجود 19 ہزار کروڑ ٹکا مالیت کی جائیدادیں اور دیگر مالی اثاثے شامل ہیں۔

بی ایف آئی یو کے سربراہ اختیار الدین محمد مامون نے بتایا کہ یہ کارروائی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مشترکہ تحقیقات کے نتیجے میں عمل میں لائی گئی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ تحقیقات مکمل طور پر غیر جانبدارانہ ہیں اور ان میں کسی کی سیاسی وابستگی کو خاطر میں نہیں لایا جاتا، حتیٰ کہ اگر موجودہ عبوری حکومت کا کوئی رکن بھی ایسے معاملات میں ملوث پایا گیا تو اس کے خلاف بھی بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔ شیخ حسینہ واجد کے خلاف یہ تحقیقات 2024 میں ان کے ملک گیر شدید عوامی احتجاج کے بعد استعفیٰ دے کر بھارت فرار ہونے کے بعد سے جاری ہیں۔ اب عبوری حکومت کے دور میں تشکیل دی گئی مشترکہ ٹیم کی سفارشات پر نہ صرف اثاثے منجمد کیے گئے ہیں بلکہ مقدمات بھی درج کر لیے گئے ہیں، جبکہ بیرونِ ملک منتقل کی گئی دولت کی واپسی کے لیے متعلقہ ممالک سے قانونی تعاون حاصل کرنے کی کوششیں تیز کر دی گئی ہیں۔