LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
ڈی آئی خان میں پولیس چیک پوسٹ پر مبینہ خودکش دھماکا، 11 افراد شہید، متعدد زخمی پی ٹی آئی کا ٹریک ریکارڈ درست نہیں، مجبوراً کنٹینرز لگا کر روکنا پڑتا ہے: گورنر پنجاب بیلاروس کی جدید طبی ٹیکنالوجی قابلِ تحسین ہے، چیئرمین سینیٹ سہیل آفریدی انتظامی طور پر فارغ، اب سیاسی طور پر بھی ہوچکے: عطا تارڑ بلوچستان میں شرپسندوں کا ڈیرہ بگٹی پر حملہ پسپا، 13 دہشت گرد مارے گئے بلوچستان کے ضلع دکی میں تعمیراتی کمپنی کے 18 مزدور اغوا، گارڈ شہید خیبرپختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کا معاملہ، الیکشن کمیشن نے چیف سیکرٹری اور سیکرٹری بلدیات کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا گلوبل ڈویلپمنٹ انیشیٹو بروقت اقدام ہے، وزیراعظم شہباز شریف ایک ہی الزام پر ایف آئی اے دوبارہ انکوائری نہیں کرسکتی: عدالت فیلڈ مارشل کی سعودی وزیرِ دفاع سے ملاقات، دفاعی تعاون جاری رکھنے کا عزم خیبر پختونخوا اسمبلی میں ارکان کی گرفتاری کا طریقہ کار واضح، سپیکر کی اجازت لازمی افغان سرزمین سے دہشت گردی ختم کیے بغیر خطے میں امن ممکن نہیں: اسحاق ڈار بھارت ریاستی سطح پر دہشت گردی کی پشت پناہی میں ملوث ہے: صائمہ سلیم پی ٹی آئی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دہشت گردوں کے ساتھ ہے: خواجہ آصف اسلام آباد میں احتجاج کے تماشے کو ہمیشہ کیلئے بند کرنے کا فیصلہ کرلیا: رانا ثنا

بابائے اردو مولوی عبدالحق کی 65ویں برسی آج منائی جا رہی ہے

Web Desk

16 August 2026

اردو زبان کے عظیم محقق، نقاد اور محسن مولوی عبدالحق (بابائے اردو) کی 65ویں برسی آج عقیدت و احترام کے ساتھ منائی جا رہی ہے۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی اردو زبان کی ترویج، اشاعت، ترقی اور احیاء کے لیے وقف کر دی تھی۔ انجمن ترقی اردو کا قیام، اردو کو قومی زبان بنانے کی منظم جدوجہد اور اردو کی پہلی جامع لغت (ڈکشنری) کی تیاری ان کے ایسے تاریخی اور ناقابلِ فراموش کارنامے ہیں جو علمی و ادبی دنیا میں ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ ان کی انہی بے لوث اور طویل خدمات کے اعتراف میں قوم نے انہیں ‘بابائے اردو’ کے عظیم لقب سے نوازا۔

مولوی عبدالحق صرف ایک شخص کا نام نہیں بلکہ اردو ادب میں ایک مکمل تحریک کی حیثیت رکھتے تھے۔ 1947ء میں تقسیمِ ہند کے وقت جب انجمن ترقی اردو کے نایاب کتب خانے، تاریخی دستاویزات اور مسودات کو ہندوستان سے کراچی منتقل کرنے کا مرحلہ آیا، تو انہوں نے بے شمار مشکلات اور خطرات کا مقابلہ کرتے ہوئے اس انمول علمی سرمائے کو محفوظ بنایا اور بعد ازاں وفاقی اردو یونیورسٹی کی بنیاد رکھی۔

  • تہذیبی ترجمان: ان کا پختہ ایمان تھا کہ اردو محض رابطے کا ذریعہ نہیں بلکہ برصغیر کے مسلمانوں کی مشترکہ تہذیبی و تاریخی میراث ہے۔

  • تحریکی جدوجہد: انہوں نے سائنسی و جدید علوم کو اردو میں منتقل کرنے اور اسے اعلیٰ تعلیم کا ذریعہ بنانے کے لیے عملی جدوجہد کی۔

  • جدید دور کا پیغام: ان کی جدوجہد آج کے دور میں بھی ہمیں اپنی مادری و قومی زبان سے جڑے رہنے اور اس کی ترویج کے لیے متحرک رہنے کا درس دیتی ہے۔

بابائے اردو مولوی عبدالحق موذی مرض کینسر کا شکار رہنے کے بعد طویل علالت کے بعد 16 اگست 1961ء کو 91 برس کی عمر میں انتقال کر گئے تھے۔ ان کی خدمات اردو ادب کی تاریخ کا ایک سنہری اور درخشندہ باب ہیں۔