LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر نان اسٹاپ اے آئی تصاویر اور ویڈیوز پوسٹ کر ڈالیں وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کا پاک بحریہ کے افسران اور جوانوں کو خراجِ تحسین ایرانی جوہری تنصیبات تک آئی اے ای اے کو رسائی کے مثبت اثرات ہونگے: رافیل گروسی جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملے، 3 روز میں 27 افراد جاں بحق، 69 زخمی صدرٹرمپ کی کینیڈین کمپنی بمبار ڈیئر کو طیاروں کی فروخت روکنے کی دھمکی آسٹریا میں 14 سال سے کم عمر طالبات کے سکارف پہننے پر پابندی کا قانون نافذ ایران کا امریکی اور اسرائیلی حملوں میں خارگ جزیرے کو 550 مرتبہ نشانہ بنانے کا اعتراف دشمن نے جنگ بارے ایرانی صلاحیت کا درست اندازہ نہیں لگایا: بریگیڈیئر جنرل کیومرث حیدری ایران نے دفاعی ہتھیاروں کی بڑے پیمانے پر پیداوار شروع کردی ایران نے جوہری تنصیبات کے معائنے کو موجودہ حالات میں بے معنی قرار دیدیا ایران جنگ: عالمی معیشت میں تبدیلیوں کے اثرات جنگ کے بعد بھی برقرار رہنے کا امکان جنگ کے دوران 27 ہوائی اڈوں کو نقصان کا سامنا کرنا پڑا: مرتضیٰ دہقان امریکا، روس اور یوکرین کے درمیان مذاکرات کی بحالی خارج از امکان نہیں: کریملن اقوام متحدہ کا حوثی باغیوں کی تازہ کارروائیوں، جھڑپوں میں شدت پر اظہار تشویش غزہ بورڈ آف پیس نے اسرائیلی مظالم کے باعث دو ریاستی حل ناممکن قرار دیدیا

طاقت کی بنیاد پر مسلط ہونے کی سیاست نہیں چلے گی: فضل الرحمان

Web Desk

8 September 2026

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے نیا انتظامی فریم ورک بنانے کے حوالے سے جاری بحث پر موقف دیتے ہوئے کہا ہے کہ نئے صوبے یا یونٹس بنانے کی تجویز پر سنجیدہ بحث ہونی چاہیے۔ لاہور میں ختمِ نبوت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم نئے صوبے بنانے کے اصولی طور پر خلاف نہیں ہیں، تاہم وقت، حالات اور ملکی ضروریات کو مدِنظر رکھ کر اس کا فیصلہ کیا جانا چاہیے، جس میں تمام سیاسی جماعتوں کو اپنا مثبت کردار ادا کرنا ہو گا۔ انہوں نے سیاسی منظرنامے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی اس معاملے پر صرف سندھ کی حد تک بات کرتی ہے جبکہ پاکستان مسلم لیگ (ن) خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔

مولانا فضل الرحمان نے ملکی و معاشی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم دو قومی نظریے کی بنیاد پر قوم کو یکجا نہ کر سکے اور یہاں لسانی بنیادوں پر تفرقہ پیدا کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ نوآبادیاتی نظام بظاہر ختم ہو چکا ہے مگر آج بھی آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک جیسے بین الاقوامی مالیاتی ادارے ہماری معیشت اور پالیسیوں کے فیصلے کر رہے ہیں، جو اسی نظام کی ایک جدید اور جابرانہ شکل ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ طاقت یا جبر کی بنیاد پر عوام پر مسلط ہونے کی سیاست اب مزید نہیں چلے گی۔ جے یو آئی سربراہ نے واضح کیا کہ ملک امن اور مساوات سے مضبوط ہوتا ہے اور ان کی جماعت غریب عوام کو عزت کی زندگی دلانے اور ناموسِ رسالت کے قوانین کا مکمل تحفظ کرنے کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔