LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
آبنائے ہرمز اور باب المندب کا بلیک میلنگ کیلئے استعمال ناقابلِ قبول : سعودیہ وزیرِ خارجہ مکہ مکرمہ پر ڈرون حملے کی کوشش ناقابل قبول، حرمین شریفین کی سلامتی سرخ لکیر ہے: وزیراعظم تربیتی مشق کے دوران بحری حادثہ: قازق بحریہ کے فرسٹ ڈپٹی کمانڈر سمیت 5 افسر گرفتار بلاول بھٹو سے چوہدری یاسین اور راجہ پرویز اشرف کی الگ الگ ملاقاتیں ڈی آئی خان میں پولیس چیک پوسٹ پر مبینہ خودکش دھماکا، 11 افراد شہید، متعدد زخمی پی ٹی آئی کا ٹریک ریکارڈ درست نہیں، مجبوراً کنٹینرز لگا کر روکنا پڑتا ہے: گورنر پنجاب بیلاروس کی جدید طبی ٹیکنالوجی قابلِ تحسین ہے، چیئرمین سینیٹ سہیل آفریدی انتظامی طور پر فارغ، اب سیاسی طور پر بھی ہوچکے: عطا تارڑ بلوچستان میں شرپسندوں کا ڈیرہ بگٹی پر حملہ پسپا، 13 دہشت گرد مارے گئے بلوچستان کے ضلع دکی میں تعمیراتی کمپنی کے 18 مزدور اغوا، گارڈ شہید خیبرپختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کا معاملہ، الیکشن کمیشن نے چیف سیکرٹری اور سیکرٹری بلدیات کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا گلوبل ڈویلپمنٹ انیشیٹو بروقت اقدام ہے، وزیراعظم شہباز شریف ایک ہی الزام پر ایف آئی اے دوبارہ انکوائری نہیں کرسکتی: عدالت فیلڈ مارشل کی سعودی وزیرِ دفاع سے ملاقات، دفاعی تعاون جاری رکھنے کا عزم خیبر پختونخوا اسمبلی میں ارکان کی گرفتاری کا طریقہ کار واضح، سپیکر کی اجازت لازمی

غزہ سے یکجہتی، اروندھتی رائے کا برلن فلم فیسٹیول سے دستبرداری کا اعلان

Web Desk

14 February 2026

بھارتی مصنفہ اروندھتی رائے نے برلن انٹرنیشنل فلم فیسٹیول سے دستبردار ہونے کا اعلان کر دیا ہے، جس کی وجہ انہوں نے جیوری ارکان کی جانب سے غزہ کے بارے میں دیے گئے ناقابل معافی بیانات بتائی ہے۔

بھارت کے اخبار دی وائر میں لکھتے ہوئے اروندھتی رائے نے کہا کہ فیسٹیول کی جیوری کے ارکان، جن میں جیوری کے چیئرمین اور معروف ہدایتکار وِم وینڈرز بھی شامل ہیں، کا یہ کہنا کہ ’فن کو سیاسی نہیں ہونا چاہئے‘ انتہائی حیران کن ہے۔

بھارتی دانشور مصنفہ نے لکھا کہ یہ انسانیت کے خلاف جرم پر گفتگو کو بند کرنے کا ایک طریقہ ہے، جبکہ یہ جرم ہماری آنکھوں کے سامنے جاری ہے، میں صدمے اور نفرت کا شکار ہوں، فنکاروں، مصنفوں اور فلم سازوں کو جنگ روکنے کے لیے اپنی پوری طاقت استعمال کرنی چاہئے۔

اروندھتی نے واضح الفاظ میں کہا کہ غزہ میں جو کچھ ہوا اور جو جاری ہے، وہ فلسطینی عوام کی نسل کشی ہے جو اسرائیلی ریاست کر رہی ہے، یہ جنگ امریکہ اور جرمنی سمیت یورپ کے کئی ممالک کی حمایت اور مالی مدد سے جاری ہے، جس سے یہ ممالک بھی اس جرم میں شریک بنتے ہیں۔

خیال رہے کہ برلن فلم فیسٹیول کے افتتاحی پینل کے دوران ایک صحافی نے جیوری ارکان سے جرمن حکومت کی جانب سے غزہ میں نسل کشی کی حمایت اور انسانی حقوق کے منتخب اطلاق پر ان کی رائے پوچھی تھی جس پر جیوری چیئرمین وِم وینڈرز نے جواب دیا کہ فلم سازوں کو سیاست سے دور رہنا چاہئے، اگر ہم مکمل طور پر سیاسی فلمیں بنائیں تو ہم سیاست کے میدان میں داخل ہو جائیں گے، جبکہ ہم سیاست کے مخالف توازن ہیں، ہمیں عوام کا کام کرنا چاہئے، سیاستدانوں کا نہیں۔

جیوری کی ایک اور رکن، پولینڈ کی فلم پروڈیوسر ایوا پُشچِنِسکا نے کہا کہ ایسا سوال پوچھنا کچھ حد تک غیر منصفانہ ہے، کیونکہ فلم ساز اس بات کے ذمہ دار نہیں ہو سکتے کہ حکومتیں اسرائیل یا فلسطین کی حمایت کریں، دنیا میں کئی دوسری جنگیں بھی ہیں جہاں نسل کشی ہو رہی ہے مگر ہم ان پر بات نہیں کرتے۔

اروندھتی رائے اس فیسٹیول میں شرکت کرنے والی تھیں، جو 12 سے 22 فروری تک جاری رہتا ہے، کیونکہ ان کی 1989 کی فلم ’’اِن وچ اینی گیوز اٹ دوز وُنز‘‘ کو کلاسکس سیکشن میں نمائش کے لیے منتخب کیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ جرمنی، جو امریکہ کے بعد اسرائیل کو ہتھیار فراہم کرنے والے بڑے ممالک میں شامل ہے، نے فلسطینیوں سے اظہارِ یکجہتی کرنے والوں کے خلاف سخت اقدامات متعارف کروائے ہیں۔

2024 میں 500 سے زائد بین الاقوامی فنکاروں، فلم سازوں، مصنفوں اور ثقافتی کارکنوں نے جرمنی کے سرکاری مالی تعاون سے چلنے والے ثقافتی اداروں کے بائیکاٹ کی اپیل کی تھی، ان کا کہنا تھا کہ یہ ادارے ایسے میکارتھی طرز کی پالیسیوں پر عمل کر رہے ہیں جو اظہارِ رائے کی آزادی، خاص طور پر فلسطین سے یکجہتی کے اظہار، کو دبانے کا سبب بن رہی ہیں۔

انہوں نے الزام لگایا کہ ثقافتی ادارے سوشل میڈیا، درخواستوں، کھلے خطوط اور عوامی بیانات کی نگرانی کر رہے ہیں تاکہ فلسطین کی حمایت کرنے والے ثقافتی کارکنوں کو الگ کیا جا سکے، کیونکہ وہ جرمنی کی اسرائیل کی غیر مشروط حمایت سے متفق نہیں ہوتے۔