LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کا طبی معائنہ: پمز کے ڈاکٹروں نے ٹیسٹ کیے سینیٹر کامران مرتضیٰ کے گھر و دفاتر پر چھاپوں اور ہراسانی کی پاکستان بار کونسل کے 8 اراکین کی شدید مذمت سینیگال کے ساحل کے قریب تارکین وطن کی کشتی ڈوب گئی، 21 افراد ہلاک کسی بھی دورے کے دوران مارکیٹیں اور کاروبار بند نہ کئے جائیں، مریم نواز کی حکام کو ہدایت امریکی انتخابات کے نتائج نے امریکا کو تاریخ میں کئی قدم پیچھے دھکیل دیا: ٹرمپ مصر میں مسافر ٹرین حادثہ، متعدد بوگیاں پٹری سے اتر گئیں، 64 افراد زخمی غزہ میں بارشوں سے 70 ہزار خیمے زیر آب، ساڑھے 3 لاکھ بے گھر افراد متاثر ایران کیخلاف کسی بھی طاقت کا اتحاد ناکامی سے دوچار ہوگا: ترجمان ایرانی فوج شہباز شریف کی نواز شریف سے ملاقات، ملکی سیاسی و معاشی صورتحال پر مشاورت صدر پوتن کی امریکہ میں جی 20 سربراہی اجلاس میں شرکت کا فیصلہ نہیں ہوا: کریملن پاکستان پوسٹ میں غیر قانونی بھرتیوں کا کیس، اسعد محمود تفتیش سے روپوش قرار پاکستان میں انتظامی یونٹس بنانے کے حوالے سے غور کرنا چاہئے: خواجہ آصف وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی دیوالی کے تہوار پر ہندو برادری کو مبارکباد وزیراعظم شہباز شریف کی آذربائیجان کو یوم فتح کی چھٹی سالگرہ پر مبارکباد شادی اور بچے پیدا کرنے کی ہمت کریں: پوپ لیو کی جنوبی امریکا میں نوجوانوں کو نصیحت

ایپل کا اپنی اسمارٹ واچ کیلئے تھری ڈی پرنٹڈ ایلومینیم کیس متعارف کرانے پر غور

Web Desk

11 March 2026

ٹیکنالوجی کمپنی Apple مستقبل کی Apple Watch کے لیے تھری ڈی پرنٹڈ ایلومینیم کیس متعارف کرانے پر غور کر رہی ہے۔

اگر یہ منصوبہ حقیقت بن جاتا ہے تو یہ ایپل کی جانب سے ایڈیٹو مینوفیکچرنگ کو بڑے پیمانے پر استعمال کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہوگا۔ کمپنی اس ٹیکنالوجی کا ابتدائی استعمال گزشتہ سال ٹائٹینیم ماڈلز میں کر چکی ہے۔

مارک گورمن کی تازہ رپورٹ کے مطابق اس تبدیلی کا بنیادی مقصد مواد کے مؤثر استعمال کو بہتر بنانا ہے۔ روایتی سی این سی مشیننگ میں گھڑی کا کیس دھات کے ٹھوس بلاک کو تراش کر بنایا جاتا ہے جس کے دوران کافی مقدار میں دھات ضائع ہو جاتی ہے۔

اس کے برعکس تھری ڈی پرنٹنگ میں دھات کے باریک پاؤڈر کو تہہ در تہہ جوڑ کر کیس تیار کیا جاتا ہے، جس سے خام مال کے ضیاع میں نمایاں کمی آتی ہے۔

ایپل کے مطابق ٹائٹینیم ماڈلز میں یہ طریقہ تقریباً 50 فیصد کم خام مال استعمال کرتا ہے۔ اگر یہی ٹیکنالوجی ایلومینیم ماڈلز میں بھی استعمال کی گئی—جو ایپل واچ کی فروخت کا بڑا حصہ ہیں—تو اس سے پیداواری لاگت کم ہونے کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی اثرات میں بھی کمی ممکن ہو سکتی ہے۔