LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
وزیراعظم نے ٹریڈ فیسلیٹیشن بورڈ کے قیام کی منظوری دے دی عمران سرور نیشنل بینک آف پاکستان کے نئے صدر مقرر افغانستان سے بھارتی حمایت یافتہ دہشت گردوں کی دراندازی ناکام، 15 ہلاک یسین ملک کا بھارتی عدلیہ پر اظہارِ عدم اعتماد، مقدمہ مزید لڑنے سے انکار انڈونیشیا میں حکومت کا مفت کھانا، تقریباً 800 افراد فوڈ پوائزننگ کا شکار پاکستان سٹاک ایکسچینج میں ٹریڈنگ کا مثبت زون میں آغاز پاکستان نے یورو بانڈ کے ذریعے 3 ارب ڈالر حاصل کر لیے: وزیر خزانہ جماعت اسلامی کی پٹرولیم لیوی اور مہنگائی کے خلاف آج ملک گیر ہڑتال مومنہ اقبال ہراسگی کیس: تفتیش میں ثاقب چڈھر اور اہلیہ سمیرا بے قصور قرار 100 سال میں امریکی کرنسی پر نمودار ہونے والے پہلے زندہ صدر نیویارک سٹی میں پرائمری اور مڈل اسکول کے طلبہ کے لیے مصنوعی ذہانت (AI) کے استعمال پر پابندی کا فیصلہ سیکورٹی خدشات کے باعث ضلع ٹانک میں کرفیو نافذ امریکی ریاست منی سوٹا میں فائرنگ، 2 افراد ہلاک، حملہ آور بھی ہلاک برنی سینڈرز کی ٹرمپ پر کڑی تنقید، ایران جنگ ختم کرنے کا مطالبہ سعودی عرب کی آبنائے ہرمز میں سعودی آئل ٹینکر پر ایرانی حملے کی مذمت

چمٹے کی تال سے دنیا کو مسحور کرنے والے عالم لوہار کی 47 ویں برسی آج منائی جارہی ہے

Web Desk

3 July 2026

پاکستان کے مایہ ناز لوک اور صوفی گلوکار عالم لوہار کی 47 ویں برسی آج 3 جولائی کو عقیدت و احترام سے منائی جا رہی ہے۔ تقریباً نصف صدی بیت جانے کے باوجود ان کی سحر انگیز آواز، چمٹے کی مخصوص تھاپ اور صوفیانہ گائیکی کا منفرد انداز آج بھی دنیا بھر میں موجود موسیقی کے شائقین کے دلوں میں زندہ ہے۔

یکم مارچ 1928 کو ضلع گجرات کے نواحی گاؤں میں پیدا ہونے والے عالم لوہار نے بچپن سے ہی سُروں کی دنیا میں قدم رکھ دیا تھا۔ روایتی رنگ برنگا کرتا، چست پاجامہ اور ہاتھ میں چمٹا ان کی ایسی منفرد پہچان بنے کہ وہ جہاں بھی جاتے، میلہ لوٹ لیتے۔ انہوں نے پنجاب کی لوک کہانیوں خصوصاً ‘ہیر رانجھا’، ‘سیف الملوک’ اور ‘مرزا صاحباں’ کو اپنی مخصوص طرز میں گا کر امر کر دیا۔ ان کی گائی ہوئی ‘جگنی’ آج بھی لوک موسیقی کا ایک لازمی حصہ سمجھی جاتی ہے۔

عالم لوہار نے چمٹے کو صرف ایک پس منظر کے ساز کے طور پر نہیں بلکہ ایک مرکزی آلۂ موسیقی کے طور پر متعارف کروایا، جس نے پنجابی موسیقی کو ایک نئی توانائی اور شناخت دی۔ انہوں نے نہ صرف پاکستان بلکہ عالمی سطح پر بھی ملک کا نام روشن کیا اور لوک ثقافت کو بین الاقوامی اسٹیج پر متعارف کروایا۔ موسیقی کی دنیا کا یہ درخشندہ ستارہ 3 جولائی 1979 کو ایک ٹریفک حادثے میں مداحوں سے بچھڑ گیا تھا، لیکن ان کا ورثہ ان کے بیٹے عارف لوہار کی صورت میں آج بھی زندہ ہے