LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکی ثالثی میں ہونیوالے معاہدے سے لبنانی علاقے اسرائیل میں ضم ہونےکاخدشہ ہے، حزب اللہ نےلبنان اسرائیل معاہدہ مسترد کر دیا سعودی عرب نے 3 ممالک پر سفری پابندیاں عائد کردیں پاکستان اور ایران دوطرفہ تجارت کو 5 ارب ڈالر تک بڑھانے کیلئے پُرعزم اسرائیلی فوج کا اسماعیل ہنیہ کے بھتیجے کو شہید کرنے کا دعویٰ بحرین پر مبینہ ایرانی ڈرون حملے، قطر، یو اے ای، کویت اور جی سی سی کی مذمت غزہ میں اسرائیل کا فلسطینی پولیس گاڑی پر ڈرون حملہ، تین اہلکار شہید کراچی میں فائرنگ اور دھماکے کی اطلاعات، وزیراعلیٰ سندھ کا نوٹس فرانس اور یورپ میں جان لیوا ہیٹ ویو کی اصل وجہ ‘اومیگا بلاک’! آخر یہ کیا ہے؟ پہاڑی اور بالائی علاقوں میں گلیشئر پگھلنے اورممکنہ خطرات کا الرٹ جاری کردیا گیا۔ جاپان میں دوہرے سمندری طوفان اور شدید بارشیں, سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کا ہائی الرٹ، پروازیں اور ٹرینیں معطل چیف جسٹس آئینی عدالت کا دورہ روس، لیگل فورم میں شرکت، عدالتی تعاون پر تبادلہ خیال ایرانی حکومت بھی قاسم سلیمانی سے خوف زدہ تھی، ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ سرگودھا زیادتی کرکے 14 سالہ لڑکے کو زندہ دفن کرنے والے 2 ملزمان گرفتار وینزویلا کے اثرات، بلوچستان میں کل سے اب تک 5 زلزلے ریکارڈ، مزید جھٹکوں کا امکان ٹرمپ کا 4 جولائی کو یومِ آزادی پر امریکی تاریخ کے سب سے بڑے اور منفرد ایئر شو کا اعلان

مہاجرین کی نشستیں آئینی تحفظ رکھتی ہیں، آزاد کشمیر سپریم کورٹ کی صدارتی ریفرنس پر رائے

Web Desk

7 June 2026

آزاد جموں و کشمیر کی سپریم کورٹ نے مہاجرین کی مخصوص نشستوں سے متعلق صدارتی ریفرنس پر اپنی رائے جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ مہاجرین کی 12 نشستیں آئین کے تحت تحفظ رکھتی ہیں اور ان میں تبدیلی کے لیے آئینی ترمیم درکار ہوگی۔

صدر آزاد جموں و کشمیر نے حکومت کے مشورے پر آئین کے آرٹیکل 46 اے کے تحت سپریم کورٹ سے اس معاملے پر رائے طلب کی تھی۔

عدالت نے اپنی رائے میں کہا کہ مہاجرین کی نشستوں کی قانونی اور آئینی بنیاد ماضی کے مختلف قوانین، عبوری آئینی انتظامات اور 1974 کے آئین سے جڑی ہوئی ہے۔ عدالت کے مطابق ان نشستوں میں کسی بھی تبدیلی کے لیے آئین میں درج طریقہ کار اختیار کرنا ہوگا۔

سپریم کورٹ نے مزید کہا کہ آئینی ترمیم کا اختیار قانون ساز اسمبلی کے پاس ہے اور ایسے معاملات پارلیمانی اور آئینی عمل کے ذریعے طے کیے جانے چاہییں۔

رائے میں یہ بھی کہا گیا کہ انتخابات کا بروقت انعقاد آئینی تقاضا ہے اور ریاست اس عمل کے انعقاد اور امن و امان کے قیام کی ذمہ دار ہے۔

عدالت نے قرار دیا کہ پرامن احتجاج شہریوں کا آئینی حق ہے، تاہم کسی بھی اقدام کے نتیجے میں دوسرے شہریوں کے حقوق یا معمولات زندگی متاثر نہیں ہونے چاہییں۔

یہ رائے ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مہاجرین کی نشستوں اور انتخابی امور سے متعلق سیاسی بحث جاری ہے۔