LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
گلگت بلتستان انتخابات : پولنگ کا وقت ختم، ووٹوں کی گنتی جاری کارِ سرکار میں مداخلت کیس: ندیم نانی والا کو عدالت سے ریلیف، مقدمے سے بری تیزاب گردی کا شکار لیڈی ڈاکٹر کو بچانے والے وارڈ بوائے کیلئے سول ایوارڈ کا اعلان اداکارہ ماہرہ خان کا تیزاب حملے پر شدید ردعمل، مردوں سے بھی آواز بلند کرنے کا مطالبہ کوئٹہ میں تیزاب گردی کا شکار لیڈی ڈاکٹر کی حالت میں بہتری، حالت خطرے سے باہر ایران جنگ کے 100 دن مکمل، عالمی معیشت، تجارت اور سیاست شدید دباؤ کا شکار مہاجرین کی نشستیں آئینی تحفظ رکھتی ہیں، آزاد کشمیر سپریم کورٹ کی صدارتی ریفرنس پر رائے گلگت بلتستان میں انتخابی میدان گرم، 24 نشستوں پر پولنگ جاری کراچی میں گرمی کا پارہ چڑھنے لگا، ہیٹ ویو کا الرٹ پاکستان میں 377روپے فی لیٹر پیٹرول میں 142 روپے سے زائد ٹیکس اور مارجنز شامل اسلام آباد: امریکا کے 250 ویں یومِ آزادی کا جشن، سفارتخانے میں رنگا رنگ تقریب کا انعقاد نیویارک: اوورسیز کشمیریوں کا عوامی ایکشن کمیٹی سے یکجہتی کا اظہار آزاد کشمیر: 9 جون کی ہڑتال کی کال، انٹرنیٹ معطل، معمولات زندگی متاثر آزاد جموں و کشمیر: کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے 72 کارکن گرفتار یلو لائن منصوبے میں 6ارب روپے کی مبینہ کرپشن، سندھ حکومت نے تحقیقات شروع کر دیں

مہاجرین کی نشستیں آئینی تحفظ رکھتی ہیں، آزاد کشمیر سپریم کورٹ کی صدارتی ریفرنس پر رائے

Web Desk

7 June 2026

آزاد جموں و کشمیر کی سپریم کورٹ نے مہاجرین کی مخصوص نشستوں سے متعلق صدارتی ریفرنس پر اپنی رائے جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ مہاجرین کی 12 نشستیں آئین کے تحت تحفظ رکھتی ہیں اور ان میں تبدیلی کے لیے آئینی ترمیم درکار ہوگی۔

صدر آزاد جموں و کشمیر نے حکومت کے مشورے پر آئین کے آرٹیکل 46 اے کے تحت سپریم کورٹ سے اس معاملے پر رائے طلب کی تھی۔

عدالت نے اپنی رائے میں کہا کہ مہاجرین کی نشستوں کی قانونی اور آئینی بنیاد ماضی کے مختلف قوانین، عبوری آئینی انتظامات اور 1974 کے آئین سے جڑی ہوئی ہے۔ عدالت کے مطابق ان نشستوں میں کسی بھی تبدیلی کے لیے آئین میں درج طریقہ کار اختیار کرنا ہوگا۔

سپریم کورٹ نے مزید کہا کہ آئینی ترمیم کا اختیار قانون ساز اسمبلی کے پاس ہے اور ایسے معاملات پارلیمانی اور آئینی عمل کے ذریعے طے کیے جانے چاہییں۔

رائے میں یہ بھی کہا گیا کہ انتخابات کا بروقت انعقاد آئینی تقاضا ہے اور ریاست اس عمل کے انعقاد اور امن و امان کے قیام کی ذمہ دار ہے۔

عدالت نے قرار دیا کہ پرامن احتجاج شہریوں کا آئینی حق ہے، تاہم کسی بھی اقدام کے نتیجے میں دوسرے شہریوں کے حقوق یا معمولات زندگی متاثر نہیں ہونے چاہییں۔

یہ رائے ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مہاجرین کی نشستوں اور انتخابی امور سے متعلق سیاسی بحث جاری ہے۔