LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
آزاد کشمیر میں مسلم لیگ (ن) کو دو تہائی اکثریت ملے گی: رانا ثناء اللہ وفاقی آئینی عدالت کا کارپوریٹ ٹیکس دہندگان کے حق میں بڑا فیصلہ بلوچستان ہائیکورٹ نے زیارت پولیس حملہ کی تحقیقات کیلئے کمیشن قائم کر دیا پاکستان اور قطرموجودہ کشیدگی کم کرنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں: اسماعیل بقائی عمران خان کی صحت اور جیل ملاقاتوں کی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کی تیاریاں مکمل، پولنگ ڈے کا فیصلہ 20 اگست کو متوقع پٹرولیم لیوی کے خلاف جماعت اسلامی کا دھرنا دوسرے روز میں داخل پشاور ہائیکورٹ کے 4 مستقل ہونے والے ججز نے حلف اٹھا لیا سکیورٹی فورسز کا بلوچستان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن، 2 دہشت گرد ہلاک طالبان حکومت خود خطے کو غیر مستحکم کرنے کیلئے پراکسی بن چکی ہے: عاصم افتخار عمرہ زائرین اور ورکرز کیلئے پاکستانی سفارت خانے کی اہم ہدایات وفاقی حکومت کے قرضوں میں 18ہزار ارب روپے سے زائد کا اضافہ آئل ٹینکرز پر حالیہ حملے، آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی آمدورفت میں شدید کمی ٹرمپ کا جنوبی کوریا کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقیں کم کرنے کا اعلان آئرلینڈ میں خوفناک ٹریفک حادثہ، 5 نوجوان ہلاک، 4 افراد زخمی

آزاد کشمیر انتخابات: جمعیت اہلحدیث کے امیدوار مسلم لیگ (ن) کے حق میں دستبردار

Web Desk

22 July 2026

آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے عام انتخابات 2026 کے پیشِ نظر خطے میں سیاسی و انتخابی سرگرمیاں عروج پر پہنچ گئی ہیں۔ اہم سیاسی پیش رفت کے تحت مرکزی جمعیت اہلحدیث آزاد جموں و کشمیر نے اپنے 5 امیدواروں کو مسلم لیگ (ن) کے نامزد کردہ امیدواروں کے حق میں باضابطہ طور پر دستبردار کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

وزیراعظم پاکستان کے مشیر رانا ثناء اللہ کی موجودگی میں مرکزی جمعیت اہلحدیث آزاد جموں و کشمیر کے ناظمِ اعلیٰ محمد امین بٹ نے حلقہ ایل اے-29 مظفرآباد 3 اور حلقہ ایل اے-26 نیلم 1 سے اپنے امیدواروں کو دستبردار کرانے کا اعلان کیا۔ اس کے علاوہ جماعت کے مزید تین دیگر حلقوں سے بھی امیدوار مسلم لیگ (ن) کے حامی بن کر انتخاب سے دستبردار ہو گئے ہیں۔

اس سیاسی پیش رفت پر مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کے صدر شاہ غلام قادر نے مرکزی جمعیت اہلحدیث کے اعلیٰ سطح کے وفد سے ملاقات کی، جس میں آزاد کشمیر انتخابات 2026 میں ن لیگ کے امیدواروں کو بھاری اکثریت سے کامیاب کرانے کے لیے مشترکہ انتخابی مہم چلانے اور باہمی حکمتِ عملی پر اتفاق کیا گیا۔