LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا میں پاکستانی نژاد تحرک کی حمایت: پاکستان میں انسانی حقوق اور جمہوریت کی بحالی کا مطالبہ سعودی عرب میں میزائل اور ڈرون روکنے کی ویڈیوز بنانے پر پابندی عائد امریکا کی غیر ملکی مالیاتی اداروں کو ایران سے لین دین پر پابندیوں کی دھمکی امریکا کی اتحادی ممالک کو 2.27 ارب ڈالر کے فوجی سازو سامان کے فروخت کی منظوری نیویارک میں خسرے کی وبا کے باعث ایمرجنسی نافذ پی ٹی آئی انتشار کی سیاست کر رہی، ریاست یرغمال بنانے نہیں دیں گے: اختیار ولی سہیل آفریدی کی قیادت میں پی ٹی آئی کا لانگ مارچ کوہاٹ پہنچ گیا، آج پشاور روانگی لانگ مارچ، دھرنے: پشاور میں تاجر برادری کا خیبر پختونخوا حکومت کیخلاف احتجاج روس کے کیف میں فضائی حملے، 6 افراد ہلاک، 59 زخمی برطانوی ایئربیس سے بی ون بمبار طیارے احتیاطی طور پر واپس بلائے: جے ڈی وینس روس میں طاعون کے ممکنہ کیس کا بغور جائزہ لے رہے ہیں: امریکی صدر سائبیریا میں سائنسی تجربہ گاہ میں خاتون محقق کی ہلاکت، علاقے میں شدید خوف و ہراس روشنی سے دماغی خلیوں کو کنٹرول کرنے والی تحقیق پر 3 سائنس دانوں کو نوبیل انعام اسرائیل کی فائرنگ اور گولہ باری سے 2 بچوں سمیت 6 فلسطینی زخمی عراقی شہر کرکوک میں داعش کے حملے، ایک پولیس اہلکار ہلاک، 4 زخمی

اے آئی ٹیکنالوجی کے حامل کھلونے بچوں کیلئے کتنے محفوظ ہیں؟

Web Desk

13 March 2026

جدید دور میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) سے لیس کھلونے، جیسے اسمارٹ گڑیا اور بات کرنے والے روبوٹ، بچوں کی تفریح اور تعلیم کا ذریعہ بن رہے ہیں، تاہم ماہرین نے ان کے استعمال سے منسلک سنگین خطرات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ جہاں یہ کھلونے بچوں کو زبان دانی، ریاضی اور کہانیوں کے ذریعے تخلیقی صلاحیتیں نکھارنے میں مدد دیتے ہیں، وہیں ان میں موجود مائیکروفون اور کیمرے بچوں کی نجی گفتگو اور رویوں کا ڈیٹا جمع کرتے ہیں۔ تحقیقات کے مطابق اگر یہ ڈیٹا محفوظ نہ ہو تو ہیکنگ کے ذریعے بچوں کی ذاتی معلومات لیک ہونے کا شدید خطرہ رہتا ہے۔

ماہرینِ صحت نے خاص طور پر اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ اے آئی کھلونوں کے تقریباً 27 فیصد جوابات بچوں کے لیے نامناسب یا خطرناک ہو سکتے ہیں۔ مزید برآں، ان کھلونوں کے ساتھ بڑھتی ہوئی جذباتی وابستگی بچوں کی حقیقی سماجی مہارتوں کو متاثر کر سکتی ہے، کیونکہ وہ انسانوں کے بجائے مشینوں کو اپنا دوست سمجھنے لگتے ہیں۔ سیکیورٹی کی کمزوریوں اور ڈیٹا لیک ہونے کے حالیہ واقعات کے پیشِ نظر، والدین کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ ایسے انٹرنیٹ سے جڑے کھلونوں کے انتخاب میں انتہائی احتیاط برتیں اور بچوں کی سرگرمیوں کی مسلسل نگرانی کریں۔