LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ترک مسلح افواج کے یوم فتح کی 104ویں سالگرہ، جی ایچ کیو راولپنڈی میں تقریب وزیراعظم کی ایرانی صدر سے ملاقات، تعلقات مزید مضبوط بنانے پر اتفاق سندھ طاس معاہدہ مکمل طور پر نافذالعمل ہے: عالمی ثالثی عدالت نیتن یاہو نے امریکا کو ایران کیخلاف جنگ میں دھکیلا: عباس عراقچی پاکستان، سعودیہ اور ترکیہ کا اتحاد بین الاقوامی قانون پر مبنی ہے: ترک وزیر خارجہ ایرانی حملے کی مذمت، یو اے ای کا جوابی کارروائی کا حق محفوظ رکھنے کا اعلان رات کے اوقات میں بجلی کی لوڈشیڈنگ پر عوام سے معذرت خواہ ہیں: اویس لغاری قائمہ کمیٹی کا بیوروکریسی کی ناکامی پر شدید تشویش کا اظہار، سی ڈی اے اور ڈی جی ہیلتھ کی کارکردگی پر برہمی سندھ کے بڑے سرکاری ہسپتالوں میں فائر الارم اور واٹر سپرنکلرز نہ ہونے کا انکشاف خلع کے معاملے میں حق مہر کی واپسی سے متعلق لاہور ہائیکورٹ کا اہم فیصلہ عمران خان کی ہسپتال منتقلی: توہین عدالت درخواست کی جلد سماعت کی استدعا پھر مسترد معیشت کو بیرونی امداد سے تجارت و سرمایہ کاری کی جانب لے جا رہے ہیں: وزیر خزانہ جنگ نہیں چاہتے، جارحیت پر خاموش بھی نہیں بیٹھیں گے: ایرانی صدر پاکستان کا تیل کا درآمدی بل جولائی میں ساڑھے 3 کھرب روپے تک پہنچ گیا آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگوں سے ٹکرانے کے بعد سپر ٹینکر میں آگ بھڑک اٹھی

نیتن یاہو نے امریکا کو ایران کیخلاف جنگ میں دھکیلا: عباس عراقچی

Web Desk

31 August 2026

تہران: ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نیتن یاہو کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ’سانپ‘ قرار دیا ہے اور الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے امریکی انتظامیہ کو دھوکے میں رکھ کر ایران کے خلاف جنگ میں جھونکا ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ‘ایکس’ (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری اپنے ایک بیان میں عباس عراقچی نے کہا کہ نیتن یاہو کا دوہرا معیار دنیا کے سامنے بے نقاب ہو چکا ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ اسرائیلی وزیراعظم عبرانی زبان میں اپنی قوم سے خطاب کرتے ہوئے اس بات پر فخر اور ہنسی کا اظہار کرتے ہیں کہ انہوں نے کس طرح اسرائیل کے مقاصد کے لیے امریکا کو اپنے موقف کا حامی بنایا، جبکہ انگریزی زبان میں بات کرتے ہوئے وہ عوامی سطح پر امریکی صدر کی قیادت کے قصیدے پڑھتے ہیں۔ ایرانی وزیرِ خارجہ کے مطابق نیتن یاہو نے چالاکی اور فریب سے واشنگٹن کو ایران کے خلاف فوجی کارروائی پر آمادہ کیا۔

واضح رہے کہ خطے میں تہران اور واشنگٹن کے درمیان براہِ راست جنگ کا آغاز رواں برس 28 فروری کو اس وقت ہوا تھا جب امریکی اور اسرائیلی مشترکہ حملوں میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای سمیت متعدد اعلیٰ فوجی اور دفاعی حکام شہید ہو گئے تھے۔ اس کے جواب میں ایران نے خلیج اور مشرقِ وسطیٰ میں قائم متعدد امریکی فوجی اڈوں اور تنصیبات پر شدید جوابی حملے کیے، جس کے بعد یہ تنازع ایک وسیع علاقائی جنگ کی شکل اختیار کر چکا ہے۔