LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
حکومت اپوزیشن مذاکرات کا نتیجہ جلد سامنے آئے گا: شوکت یوسف زئی ستمبر میں یوکرینی فوج کے 48 ہزار اہلکار ہلاک ہوئے: روسی فوجی ماہر سکیورٹی خدشات: خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں دفعہ 144 نافذ صومالیہ میں جاں بحق پاکستانیوں کی میتیں ادیس ابابا پہنچ گئیں، وطن منتقلی کے انتظامات جاری حکومت اور اپوزیشن کے مذاکرات، کامیابی کے دعوے، مشترکہ اعلامیہ جلد متوقع ایران کے پاس ایسا کوئی نہیں ہے جس سے مذاکرات کیے جائیں: ٹرمپ امارات نے اسرائیل جانے والی پرواز کی ہنگامی لینڈنگ کو دہشتگردی قرار دیدیا برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ کی نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار سے ملاقات، دوطرفہ تعلقات اور علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال سیاسی جماعتوں سےامید نہیں رہی، اصلاح نہ ہوئی تو کاکروچ باہر آئیں گے: سعد رفیق پاکستانی شہریوں کے قتل پر بھارتی ناظم الامور کی دفتر خارجہ طلبی، باضابطہ احتجاج ایف سی بلوچستان کے درجنوں میڈیکل کیمپس، ہزاروں مریضوں کا مفت علاج خیبرپختونخوا کے جنوبی اضلاع میں 4 ارب 29 کروڑ روپے کی گیس چوری دوا فروخت کرنے کیلئے ڈاکٹر بھی لائسنس کا پابند ہے، وفاقی آئینی عدالت خیبر پختونخوا حکومت نے لانگ مارچ کے ذریعے بدامنی کا منصوبہ بنا لیا: خواجہ آصف فرانس میں طلبہ کا احتجاج، پولیس سے جھڑپیں، 1,747 افراد گرفتار

ٹک ٹاک پر کم عمر بچیوں سے مشابہ اے آئی کی نازیبا ویڈیوز بے نقاب؛ تحقیق

Web Desk

30 December 2025

سائنسی جریدے میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے تیار کی گئی ایسی ویڈیوز سامنے آئی ہیں جن میں کم عمر بچیوں سے مشابہ کرداروں کو نامناسب انداز میں پیش کیا جا رہا ہے۔ اسپین میں قائم ادارے میلڈیٹا کی تحقیق کے مطابق یہ ویڈیوز ٹک ٹاک کے قواعد کے باوجود لاکھوں لائیکس حاصل کرنے میں کامیاب ہوئیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ درجن سے زائد ٹک ٹاک اکاؤنٹس کمپیوٹر سے تیار کردہ کم عمر لڑکیوں جیسی ویڈیوز شیئر کر رہے تھے، جن کے مجموعی طور پر لاکھوں فالوورز ہیں۔ محققین کے مطابق اکثر ویڈیوز ٹک ٹاک کے اپنے فیچر AI Alive کے ذریعے بنائی گئیں، جبکہ کچھ مواد بیرونی اے آئی ٹولز سے تیار کیا گیا۔

تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ ویڈیوز کے کمنٹ سیکشن میں ٹیلیگرام لنکس موجود تھے جہاں غیر قانونی مواد فروخت کرنے کی پیشکش کی جا رہی تھی۔ ادارے نے ان لنکس کی نشاندہی متعلقہ حکام کو کر دی ہے، تاہم تاحال مؤثر کارروائی نہیں کی گئی۔

ٹک ٹاک کی پالیسی کے مطابق کم عمر افراد کو جنسی انداز میں دکھانا سختی سے ممنوع ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ خودکار ٹیکنالوجی اور انسانی ماڈریشن کے ذریعے مواد کی نگرانی کرتی ہے اور 2025 کی دوسری سہ ماہی میں کروڑوں ویڈیوز اور اکاؤنٹس حذف کیے گئے۔

تاہم محققین کا کہنا ہے کہ کئی اکاؤنٹس اور ویڈیوز کو ابتدا میں قواعد کی خلاف ورزی قرار نہیں دیا گیا، جس سے پلیٹ فارم کی ماڈریشن صلاحیت پر سوالات اٹھتے ہیں۔ ڈیجیٹل ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مؤثر نگرانی کے بغیر جنریٹو اے آئی بچوں کے تحفظ کے لیے بڑا خطرہ بن سکتی ہے، اسی تناظر میں دنیا بھر میں سوشل میڈیا قوانین سخت کیے جا رہے ہیں۔