LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
برطانیہ میں فضائی ٹریفک کنٹرول کے نظام میں خرابی، 2 ہزار سے زائد پروازیں متاثر رواں مالی سال کے پہلے تین ماہ میں تجارتی خسارہ 10.79 ارب ڈالر تک پہنچ گیا حکومتی کمیٹی سے مذاکرات کے پہلے روز کے بعد اپوزیشن قیادت کی اہم بیٹھک سٹاک مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ، ہنڈرڈ انڈیکس منفی زون میں بند ہوا روپے کی قدر میں بہتری، انٹربینک میں ڈالر مزید سستا ہوگیا پُرتشدد انتشار، 9 مئی جیسے حالات پیدا کرنے کی کوشش کیساتھ بلاامتیاز نمٹا جائیگا: کور کمانڈرز کانفرنس اقوام متحدہ میں وزیراعظم نے فلسطین سمیت اہم امور پر مؤقف مدلل انداز میں پیش کیا: اسحاق ڈار وزیر خزانہ سے ورلڈ بینک کے وفد کی ملاقات، معاشی اصلاحات کا جائزہ لیا صومالی قزاقوں سے چار پاکستانی چھڑوا لیے، کل وطن پہنچیں گے: اسحاق ڈار الیکشن کمیشن نے پنجاب میں بلدیاتی انتخابات 14 دسمبر کو کرانے کی تجویز دیدی وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور عالمی بینک کے وفد کی ملاقات، حکومت اور پی ٹی آئی قیادت کے درمیان ملاقات، تمام بات چیت راز میں رکھنے پر زور جماعت اسلامی نے اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت کا اعلان کردیا اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی زیرِ صدارت حکومت اور اپوزیشن ارکان کا اہم جرگہ، سیاسی کشیدگی کے خاتمے کے لیے مذاکرات جاری پیٹرول سبسڈی اور گیس کمپنیوں کے واجبات پر حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان ڈیڈلاک برقرار

اب آپ ٹی وی اسکرین پر نظر آنے والے کھانے کا ذائقہ چکھ سکتے ہیں

Web Desk

28 December 2025

جاپان میں ایک حیران کن اور جدید ٹیکنالوجی متعارف کرائی گئی ہے جس کے ذریعے ناظرین اب ٹی وی اسکرین پر دکھائے جانے والے کھانوں کا ذائقہ براہِ راست محسوس کر سکیں گے۔

اس تجرباتی ڈیوائس کو ’ٹیسٹ دی ٹی وی‘ (Taste the TV) یا ٹی ٹی ٹی وی کا نام دیا گیا ہے، جسے میجی یونیورسٹی کے پروفیسر ہومی میاشِتا نے اپنی تحقیقی ٹیم کے تعاون سے تیار کیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق یہ ٹی وی ظاہری طور پر ایک عام فلیٹ اسکرین جیسا دکھائی دیتا ہے، تاہم اس میں ایک خصوصی نظام نصب ہے جو دس بنیادی ذائقوں—جیسے میٹھا، کھٹا، نمکین اور دیگر—کو مخصوص تناسب کے ساتھ اسکرین پر منتقل کرتا ہے۔ ناظرین اسکرین پر زبان پھیر کر وہی ذائقہ محسوس کر سکتے ہیں جو اس وقت ٹی وی پر دکھایا جا رہا ہو۔

پروفیسر ہومی میاشِتا کے مطابق اس ٹیکنالوجی کا مقصد محض تفریح فراہم کرنا نہیں بلکہ انسانی حِسی تجربات کو ایک نئی جہت دینا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کورونا وبا کے دوران جب لوگ گھروں تک محدود ہو گئے تھے، اسی دوران یہ خیال سامنے آیا کہ ٹیکنالوجی کے ذریعے دنیا بھر کے مختلف ذائقوں سے رابطہ ممکن بنایا جائے۔

یہ نظام مستقبل میں صارفین کو گھر بیٹھے دنیا کے مختلف کھانوں کا ذائقہ آزمانے کا موقع فراہم کر سکتا ہے۔ ابتدائی پروٹوٹائپ گزشتہ برس تیار کیا گیا تھا، جبکہ اس کے کمرشل ورژن کی ممکنہ قیمت ایک لاکھ جاپانی ین (تقریباً 639 امریکی ڈالر) رکھی جا سکتی ہے۔ تاہم فی الحال یہ ڈیوائس عام صارفین کے لیے دستیاب نہیں اور مزید جانچ اور بہتری کے مراحل سے گزر رہی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کے استعمال کے امکانات صرف ٹی وی تک محدود نہیں رہیں گے، بلکہ مستقبل میں اسے آن لائن کوکنگ کلاسز، ریستورانوں کی ورچوئل مارکیٹنگ اور ذائقے کی بنیاد پر فاصلاتی تعلیم کے لیے بھی استعمال کیا جا سکے گا۔