LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
صدر آصف علی زرداری سے محسن نقوی کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال آئینِ پاکستان کو نہ ماننے والوں سے کوئی بات نہیں ہوگی: فیصل کریم پولیس پر تشدد کا کیس: ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ پر فرد جرم کی تاریخ مقرر ہراسگی قانون کے تحت کارروائی کیلئے جنسی نوعیت کا عنصر ضروری ہے: آئینی عدالت 4 اکتوبر کا لانگ مارچ فی الحال حتمی ہے، مگر حالات کے مطابق فیصلے کا حق رکھتے ہیں: سینیٹر علی ظفر پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان 1.2 ارب ڈالر قسط کیلئے مذاکرات کا آغاز حکومت کا یکساں گیس ٹیرف نافذ کرنے کا فیصلہ، آئی ایم ایف سے منظوری لی جائے گی ملک بھر کے صارفین کے لیے بجلی مزید مہنگی کرنے کی تیاری نیتن یاہو نے اماراتی صدر کی دعوت پر ابوظہبی کا دورہ کیا: اسرائیلی وزیراعظم دفتر حافظ نعیم سے منسوب لغو بات پھیلائی جا رہی ہے: لیاقت بلوچ قطر نے ہمارے مؤقف سے امریکا کو آگاہ کر دیا، اب جواب کا انتظار ہے: عراقچی پنجاب بھر میں دفعہ 144 نافذ، کھلی فضا میں ڈرون اڑانے پر پابندی عائد سعودی عرب کی سلامتی پاکستان کیلئے ریڈ لائن ہے: مولانا طاہر اشرفی پاکستان سٹاک ایکسچینج میں کاروبار کا مثبت زون میں آغاز سکیورٹی فورسز کے خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں آپریشنز، 7 دہشت گرد جہنم واصل

ڈنمارک کا 400 سال سے جاری خط رسانی بند کرنے کا اعلان

Web Desk

22 December 2025

ڈنمارک کی پوسٹل سروس پوسٹ نورڈ نے اعلان کیا ہے کہ 30 دسمبر کو ملک میں اپنا آخری خط پہنچانے کے ساتھ 400 سال پرانی خطوط کی ترسیل کی روایت ختم ہو جائے گی۔ کمپنی کے مطابق ڈنمارک میں تیزی سے بڑھتی ڈیجیٹلائزیشن اور خطوط کی طلب میں کمی کے باعث یہ فیصلہ کیا گیا ہے، جس سے 1,500 ملازمتیں ختم اور 1,500 سرخ ڈاک خانے ہٹا دیے جائیں گے۔

رپورٹس کے مطابق گزشتہ 25 برسوں میں خطوط بھیجنے کا رجحان 90 فیصد سے زیادہ کم ہو چکا ہے، جبکہ آن لائن خریداری میں اضافہ ہوا ہے۔ پوسٹ نورڈ کی جانب سے فروخت کے لیے پیش کیے گئے پوسٹ بکس بھی صرف تین گھنٹوں میں فروخت ہو گئے۔

اگرچہ خطوط کی ترسیل بند ہو رہی ہے، صارفین اب بھی ڈاؤ کی دکان یا اضافی فیس کے ذریعے خطوط بھیج سکتے ہیں، اور ڈاک کے اخراجات آن لائن یا ایپ کے ذریعے ادا کرنا ہوں گے۔ ڈنمارک کے قانونی نظام کے مطابق خطوط کی ترسیل کا متبادل لازمی ہونا چاہیے۔

پوسٹ نورڈ کے ڈپٹی چیف ایگزیکٹیو کم پیڈرسن نے کہا کہ 400 سال بعد یہ روایت ختم کرنا آسان فیصلہ نہیں تھا، لیکن خطوط کی کمی نے مارکیٹ کو غیر منافع بخش بنا دیا ہے۔