LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
شہباز شریف سے سوڈان کے وزیر داخلہ کی ملاقات، دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال قانونی نوٹس کا انتظار ہے، چودھری سالک حسین کا مریم اورنگزیب کو جواب کراچی کے مسائل حل کرنے کیلئے پوری طاقت سے آواز اٹھانا ہوگی: حافظ نعیم الرحمان فیلڈ مارشل کا ایس ایس جی ہیڈکوارٹرز کا دورہ ، جوانوں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہا اسحاق ڈار کا عمانی ہم منصب سے ٹیلیفونک رابطہ، دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال شہباز شریف نے کشمیر چوک انڈرپاس منصوبے کا افتتاح کر دیا بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کا وقت ختم، کسی پارٹی رہنما کو اجازت نہ ملی برلن میں بین الاقوامی نمائش بازار، پاکستانی روایتی دستکاری کا خصوصی پویلین قائم کراچی میں این سی سی آئی اے کا کال سینٹر پر چھاپہ، 274 افراد گرفتار ایرانی تیل کی غیر قانونی ترسیل، امریکا نے چھ بھارتی کمپنیوں پر پابندیاں عائد کر دیں ملیحہ علی نے آئی ایم ایم اے ایف ورلڈ چیمپئن شپ کے فائنل میں جگہ بناکر تاریخ رقم کردی جعلی خبروں اور ڈس انفارمیشن کا پھیلاؤ آج کا سب سے بڑا چیلنج ہے: عطا تارڑ شمالی کوریا کا فضائی دفاعی میزائل سسٹم کا تجربہ، کروز میزائل حملوں کی مشقیں متحدہ عرب امارات میں یکم جنوری 2027 سے نئے ٹریفک قوانین نافذ کرنے کا اعلان امریکا کا مشرقِ وسطیٰ میں 25 ہزار ڈرون اور اینٹی ڈرون سسٹم نصب کرنے کا اعلان

کراچی کے مسائل حل کرنے کیلئے پوری طاقت سے آواز اٹھانا ہوگی: حافظ نعیم الرحمان

Web Desk

5 November 2026

امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے بلدیاتی اداروں کی زبوں حالی اور کراچی کے دیرینہ مسائل پر گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا بھر میں تعلیم و صحت سمیت تمام بنیادی بلدیاتی نظام مقامی حکومتوں کے تحت چلتے ہیں، لیکن پاکستان میں بلدیاتی ادارے مکمل طور پر صوبائی حکومتوں کے رحم و کرم پر ہیں۔ کراچی کے حقوق کے لیے شہریوں کو پوری طاقت کے ساتھ آواز اٹھانا ہوگی۔

ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ اسلام آباد میں پانچویں بار بلدیاتی انتخابات کا التوا اور نئی تاریخ کا اعلان ہوا ہے، جبکہ پنجاب میں بلدیاتی انتخابات سرے سے کرائے ہی نہیں گئے۔ انہوں نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ موجودہ سسٹم کے خلاف تقاریر کرتے ہیں، وہی عملی طور پر اس ظالمانہ نظام کے ساتھ تعاون کر کے تمام تر ابتر صورتحال کے ذمہ دار ہیں۔

کراچی کے میگا پروجیکٹس پر بات کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ 2005ء سے زیرِ التوا ‘کے فور’ (K-IV) واٹر پروجیکٹ کو جان بوجھ کر مکمل نہیں ہونے دیا گیا۔ اگر یہ منصوبہ بروقت مکمل ہو جاتا تو شہر کے ہر گھر میں پانی آتا۔ انہوں نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی کے بلاول بھٹو زرداری کے اپنے گھر میں بھی پانی ٹینکرز سے آتا ہے، تو 18 سالہ اقتدار کا کیا فائدہ ہوا؟ انہوں نے مزید کہا کہ سیوریج کا ’ایس تھری‘ منصوبہ 12 سال سے معطل ہے، 2016ء میں شروع ہونے والی گرین لائن بس سروس تاحال مکمل فعال نہیں ہو سکی، ریڈ لائن منصوبے نے مرکزی شاہراہوں کو تباہ کر دیا ہے جبکہ کے آر ٹی کے نام پر سرکلر ریلوے کے 8 افتتاح ہونے کے باوجود شہر کی پبلک ٹرانسپورٹ بحال نہ ہو سکی۔