LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکی مڈٹرم انتخابات کے اثرات: پاکستان سٹاک مارکیٹ میں زبردست اضافہ پنجاب کے دو حلقوں میں ضمنی انتخابات، پاک فوج اور رینجرز تعینات کرنے کی منظوری شہباز شریف سے سوڈان کے وزیر داخلہ کی ملاقات، دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال قانونی نوٹس کا انتظار ہے، چودھری سالک حسین کا مریم اورنگزیب کو جواب کراچی کے مسائل حل کرنے کیلئے پوری طاقت سے آواز اٹھانا ہوگی: حافظ نعیم الرحمان فیلڈ مارشل کا ایس ایس جی ہیڈکوارٹرز کا دورہ ، جوانوں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہا اسحاق ڈار کا عمانی ہم منصب سے ٹیلیفونک رابطہ، دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال شہباز شریف نے کشمیر چوک انڈرپاس منصوبے کا افتتاح کر دیا بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کا وقت ختم، کسی پارٹی رہنما کو اجازت نہ ملی برلن میں بین الاقوامی نمائش بازار، پاکستانی روایتی دستکاری کا خصوصی پویلین قائم کراچی میں این سی سی آئی اے کا کال سینٹر پر چھاپہ، 274 افراد گرفتار ایرانی تیل کی غیر قانونی ترسیل، امریکا نے چھ بھارتی کمپنیوں پر پابندیاں عائد کر دیں ملیحہ علی نے آئی ایم ایم اے ایف ورلڈ چیمپئن شپ کے فائنل میں جگہ بناکر تاریخ رقم کردی جعلی خبروں اور ڈس انفارمیشن کا پھیلاؤ آج کا سب سے بڑا چیلنج ہے: عطا تارڑ شمالی کوریا کا فضائی دفاعی میزائل سسٹم کا تجربہ، کروز میزائل حملوں کی مشقیں

ایف بی آر نے سیلز ٹیکس رولز میں بڑی ترمیم کر دی

Web Desk

4 November 2026

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سیلز ٹیکس رولز میں اہم ترمیمی نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے گھریلو الیکٹریکل سامان کا دائرہ کار وسیع کر دیا ہے، جس کے تحت متعدد نئی اشیاء پر ٹریکنگ کے لیے ٹیکس اسٹیمپ (Tax Stamp) لگانا اور اسے فعال کرنا قانوناً لازمی قرار دے دیا گیا ہے۔

ایف بی آر کے نئے قواعد و ضوابط کے مطابق ایئر کنڈیشنر، فریج، فریزر، واشنگ مشین اور ٹیلی ویژن کے ساتھ ساتھ اسٹوریج بیٹریوں کو بھی اس نئے ٹیکس نیٹ ورک میں شامل کر لیا گیا ہے۔ ان قواعد کا اطلاق مقامی پیداوار کے علاوہ درآمدی الیکٹرانکس پر بھی یکساں ہوگا، اور کسی بھی درآمدی سامان پر کلیئرنس سے قبل ٹیکس اسٹیمپ کی تنصیب اور ایکٹیویشن کے بغیر کسٹم کلیئرنس کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ریٹیل اور آٹو کمپنیوں کو سپلائی کی جانے والی اسٹوریج بیٹریاں اور اسٹیٹ اونڈ انٹرپرائزز (SOEs) بھی ان نئے قواعد کی پابند ہوں گی، تاہم بیٹریوں کے پرزہ جات کو ان ضوابط سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔

نوٹیفکیشن کے مطابق ٹیکس اسٹیمپ مصنوعات اور ان کی پیکنگ دونوں پر چسپاں کیا جائے گا۔ ایف بی آر نے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے لائسنس کے حصول کے لیے صرف “کمپنی” ہونے کی لازمی شرط ختم کرتے ہوئے تمام اہل درخواست گزاروں کو لائسنس کے لیے اہل قرار دے دیا ہے، جبکہ ایک لائسنس صرف ایک مخصوص پروڈکٹ کی ٹریکنگ کے لیے استعمال ہو سکے گا۔ بورڈ نے واضح کیا ہے کہ ٹریکنگ سسٹم کا تمام تر ڈیٹا اور سیکیورٹی کوڈز حکومتِ پاکستان کی ملکیت ہوں گے اور لائسنس کی مدت ختم ہونے پر لائسنس ہولڈر تمام ریکارڈ ایف بی آر کے حوالے کرنے کا پابند ہو گا۔