LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
فیلڈ مارشل سے چینی وزیر کی ملاقات، سٹریٹجک شراکت داری مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اعادہ پی آئی اے کے نئے سی ای او ایڈرین ہملٹن مانز نے چارج سنبھال لیا، 30 سالہ ہوابازی کا تجربہ رکھنے والے پہلے غیر ملکی سربراہ وزیراعظم کی جناح میڈیکل کمپلیکس کو 23 مارچ 2027 تک فعال کرنے کی ہدایت ایران کیخلاف نئی فوجی کارروائی کی منصوبہ بندی تشویشناک ہے: روس ارکانِ پارلیمنٹ کے فنڈز پر کمیشن لیا جاتا تھا، مولانا فضل الرحمن کو نوٹس دینا حکومتی ہلکا پن ہے: مولانا عبدالغفور حیدری عوام کو 15 روپے لٹر سستا پٹرول فراہم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں: علی پرویز ٹرمپ کا ایران کو مکمل تباہ نہ کرنے پر ناراضی کا اعتراف، ڈیموکریٹس کو ویٹو کی دھمکی ناروے میں 60 ہزار پاکستانی آباد، براہ راست پروازوں کی بحالی کیلئے کام کررہے ہیں: عاصم علی ترقی پذیر ممالک کو عالمی مالیاتی نظام میں یکساں مواقع دینا ہوں گے: مصدق ملک نیتن یاہو کے دباؤ پر ٹرمپ ایران پر ایٹمی حملہ کرسکتے ہیں: امریکی صحافی کا دعویٰ 26 نومبر احتجاج کیسز: انسدادِ دہشت گردی عدالت نے اسد قیصر اور لطیف کھوسہ سمیت 4 پی ٹی آئی رہنماؤں کی عبوری ضمانتیں منظور کر لیں بلدیاتی انتخابات: چیف الیکشن کمشنر نے 10 نومبر کو اہم اجلاس طلب کرلیا چائنا کمیونسٹ پارٹی کا عوام سے جڑے رہنے کا ماڈل قابلِ تقلید ہے: اسحاق ڈار دہشت گردی کے سہولت کاروں میں خیبرپختونخوا کی نااہل حکومت بھی تھی: ترجمان پاک فوج ایرانی 7 نکاتی تجویز پر آئندہ چند روز میں عملدرآمد کا امکان ہے: اسماعیل بقائی

نیتن یاہو کے دباؤ پر ٹرمپ ایران پر ایٹمی حملہ کرسکتے ہیں: امریکی صحافی کا دعویٰ

Web Desk

2 November 2026

معروف امریکی صحافی ٹکر کارلسن نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو کے شدید دباؤ میں آ کر ایران پر جوہری حملہ کر سکتے ہیں۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری بیان میں ٹکر کارلسن نے موقف اختیار کیا کہ اسرائیلی الیکشن اور سیاسی مشکلات سے بچنے کے لیے نیتن یاہو کو دوبارہ ٹرمپ اور جنگ کی ضرورت ہے، اور وہ اس مقصد کے لیے ٹرمپ انتظامیہ میں موجود اپنے قریبی ساتھیوں پر ہر ممکن دباؤ ڈال رہے ہیں۔ صحافی کے مطابق ایران کے پہاڑوں اور سرنگوں کے اندر قائم عسکری تنصیبات کو روایتی امریکی ہتھیاروں سے تباہ کرنا ممکن نہیں، جس کی وجہ سے ایٹمی حملے کا آپشن زیرِ غور لایا جا سکتا ہے۔ یہ دعویٰ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں دعویٰ کیا تھا کہ ایران کے جوہری پروگرام کا زیادہ تر حصہ تباہ کیا جا چکا ہے اور باقی سائٹس کو ختم کرنا محض چند منٹوں کا کام ہے۔