پی ٹی آئی کی مشترکہ پارلیمانی پارٹی کی قرارداد: بانی پی ٹی آئی کی رہائی، کے پی میں گورنر راج کے خاتمے اور آئینی بالادستی کا مطالبہ
Web Desk
27 October 2026
پاکستان تحریکِ انصاف کی قومی اسمبلی اور سینیٹ کی مشترکہ پارلیمانی پارٹی نے ملک کی موجودہ سیاسی، آئینی، امن و امان اور معاشی صورتحال پر تفصیلی غور کے بعد ایک جامع اور اہم قرارداد منظور کی ہے، جس میں بانی چیئرمین عمران خان کی غیر مشروط وابستگی، رہائی اور خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے فوری خاتمے کا پرزور مطالبہ کیا گیا ہے۔
قرارداد کے مطابق پارلیمانی پارٹی نے عمران خان، ان کی قیادت اور پاکستان کے لیے ان کے وژن سے اپنی غیر متزلزل وابستگی کا اعادہ کرتے ہوئے جمہوریت، آئین کی بالادستی اور عوام کے حقوق کے لیے جاری جدوجہد میں ان کے ساتھ مضبوطی سے کھڑے رہنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ اجلاس میں مطالبہ کیا گیا کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کو قانونی تقاضوں کے مطابق فوری رہا کیا جائے، اور بانی پی ٹی آئی سے ان کے اہلِ خانہ، وکلا اور پارٹی کے مجاز نمائندوں کی بلا رکاوٹ ملاقات کے حقوق بحال کیے جائیں۔ اس کے علاوہ، سپریم کورٹ کی اگست 2026 کی ہدایات پر من و عن عمل درآمد کرتے ہوئے عمران خان کا آزادانہ طبی معائنہ، شفا انٹرنیشنل اسپتال میں علاج اور ان کے ذاتی معالج کی شمولیت کو یقینی بنانے کا پرزور مطالبہ کیا گیا۔
قرارداد میں خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کو صوبائی خودمختاری اور آئین کے وفاقی اصولوں پر کھلا حملہ قرار دیتے ہوئے اسے سختی سے مسترد کیا گیا ہے۔ پارلیمانی پارٹی نے گورنر راج کے فوری خاتمے، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی سربراہی میں منتخب صوبائی حکومت کی بحالی، اور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی، اسپیکر بابر سلیم سواتی اور پی ٹی آئی کے صوبائی صدر جنید اکبر خان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔ دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کے نام پر پارٹی قیادت، تنظیموں اور کارکنان کی گرفتاریوں، چھاپوں اور سیاسی انتقامی کارروائیوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا گیا ہے کہ یہ ہتھکنڈے صوبوں میں احساسِ محرومی بڑھانے کا باعث بن سکتے ہیں۔
اس کے علاوہ، قرارداد میں پارٹی رہنماؤں، ارکانِ پارلیمنٹ (بشمول شاہ محمود قریشی، ڈاکٹر یاسمین راشد، عمر چیمہ، اور گرفتار اراکینِ قومی اسمبلی و سینیٹ) اور کارکنان کے خلاف درج مقدمات، گرفتاریوں اور جبری گمشدگیوں کی شدید مذمت کی گئی ہے۔ پارلیمانی پارٹی نے ملک میں دہشت گردی کی دوٹوک مذمت کی، مہنگائی اور بے روزگاری پر گہری تشویش کا اظہار کیا، 8 فروری 2024 کے انتخابات کے اصل مینڈیٹ کی بحالی یا نئے شفاف انتخابات کا مطالبہ کیا، اور پارٹی قیادت بالخصوص بیرسٹر گوہر علی خان، سلمان اکرم راجہ، محمود خان اچکزئی، علامہ راجہ ناصر عباس اور دیگر قائدین پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے تمام محاذوں پر مشترکہ اور مربوط جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
متعلقہ عنوانات
اردن میں یمن کا مسافر طیارہ طوفان میں پھنس گیا، ژالہ باری سے شیشے ٹوٹ گئے
27 October 2026
ترکیہ کی پارلیمانی خارجہ امور کمیٹی نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی منظوری دیدی
27 October 2026
امریکی صدر نے ایران سے مذاکرات کو وقت کا ضیاع قرار دے دیا
27 October 2026
ایران کی شرکت کے بغیر خلیج فارس میں پائیدار سلامتی ناممکن ہے: عمان
27 October 2026
تیسرا روس افریقہ سربراہی اجلاس آج شروع ہوگا، پوتن سمیت متعدد عالمی رہنما شرکت کریں گے
27 October 2026
گوگل اور یوٹیوب کا بچوں کی آن لائن حفاظت یقینی بنانے کیلئے لاکھوں ڈالرز کا منصوبہ
27 October 2026
جنوبی وزیرستان میں افغانستان کی دراندازی، شہری آبادی پر گولا گرنے سے ایک جاں بحق، 5 زخمی
27 October 2026
امریکہ اور اسرائیل کی کارروائیاں عالمی توانائی کی سلامتی کیلئے خطرہ ہیں: ایرانی صدر
27 October 2026