LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
اسرائیل میں انتخابات کیلئے پولنگ کا وقت ختم، ووٹوں کی گنتی جاری اردن میں یمن کا مسافر طیارہ طوفان میں پھنس گیا، ژالہ باری سے شیشے ٹوٹ گئے ترکیہ کی پارلیمانی خارجہ امور کمیٹی نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی منظوری دیدی امریکی صدر نے ایران سے مذاکرات کو وقت کا ضیاع قرار دے دیا ایران کی شرکت کے بغیر خلیج فارس میں پائیدار سلامتی ناممکن ہے: عمان تیسرا روس افریقہ سربراہی اجلاس آج شروع ہوگا، پوتن سمیت متعدد عالمی رہنما شرکت کریں گے گوگل اور یوٹیوب کا بچوں کی آن لائن حفاظت یقینی بنانے کیلئے لاکھوں ڈالرز کا منصوبہ جنوبی وزیرستان میں افغانستان کی دراندازی، شہری آبادی پر گولا گرنے سے ایک جاں بحق، 5 زخمی امریکہ اور اسرائیل کی کارروائیاں عالمی توانائی کی سلامتی کیلئے خطرہ ہیں: ایرانی صدر مقبوضہ کشمیر میں بھارتی اقدامات عالمی امن کے لیے خطرہ ہیں، ٹیپو عثمان مجتبیٰ خامنہ ای کا آبنائے ہرمز پر کنٹرول برقرار رکھنے اور جنگی شرائط پر عملدرآمد پر زور سعودی عرب میں نومبر میں ہونے والی چھٹے ایشین انڈور اینڈ مارشل آرٹس گیمز ملتوی پمز ہسپتال میں بچوں کی اموات، آتشزدگی واقعہ: غفلت کے الزام میں 7 افسران چارج شیٹ گیس کے پیداواری ممالک کا آٹھواں سربراہی اجلاس، صدر پوتن سمیت عالمی رہنماؤں کی شرکت معلومات کے تبادلے کےلیے چین پاکستان انفارمیشن کوریڈور کا باضابطہ آغاز

امریکہ اور اسرائیل کی کارروائیاں عالمی توانائی کی سلامتی کیلئے خطرہ ہیں: ایرانی صدر

Web Desk

27 October 2026

ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے ماسکو میں منعقدہ گیس برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم (GECF) کے آٹھویں سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے امریکہ اور اسرائیل کی فوجی کارروائیوں اور ایران پر عائد یکطرفہ اقتصادی پابندیوں کو عالمی توانائی کی سلامتی کے لیے ایک سنگین خطرہ قرار دیا ہے۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی صدر نے الزام عائد کیا کہ امریکہ کی ناجائز اقتصادی پابندیوں، بحری و فضائی ناکہ بندی اور خلیج فارس میں بلاجواز فوجی مداخلت کی وجہ سے تیل و گیس کی فراہمی، توانائی کی نقل و حمل اور مجموعی عالمی اقتصادی ترقی شدید متاثر ہو رہی ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ امریکہ اور اسرائیل نے سفارتی مذاکرات کے دوران دو مختلف مواقع پر ایران کے خلاف براہِ راست فوجی کارروائیاں کیں، جن کے نتیجے میں ایرانی توانائی کی تنصیبات کو نقصان پہنچا اور ترسیل کا نظام متاثر ہوا۔ صدر پزشکیان نے امریکی اقدامات کو کڑے الفاظ میں “اقتصادی دہشت گردی” قرار دیتے ہوئے گیس فراہم کرنے والے تمام بڑے ممالک پر زور دیا کہ وہ ان ظالمانہ اقدامات کی بھرپور مذمت کریں اور عالمی منڈیوں کو عدم استحکام سے بچانے کے لیے مشترکہ لائحہ عمل اپنائیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ خلیج فارس میں امریکی فوجی مداخلت سے سپلائی چین اور نقل و حمل کا نظام بیٹھ سکتا ہے جس سے دنیا بھر میں مہنگائی اور بحران پیدا ہوگا۔

اپنے خطاب کے دوران صدر پزشکیان نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ گیس برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم (GECF) کثیرالجہتی توانائی سفارت کاری کا ایک موثر پلیٹ فارم ہے، اور ایران جو کہ دنیا میں گیس کے ذخائر کے لحاظ سے دوسرا بڑا ملک ہے، یکطرفہ پابندیوں کے باوجود اپنی ملکی صلاحیتوں کے بل بوتے پر دنیا کا تیسرا بڑا گیس پیدا کرنے والا ملک بن چکا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایران کی 95 فیصد آبادی قومی گیس نیٹ ورک سے منسلک ہے اور ملکی توانائی کے استعمال میں گیس کا حصہ تقریباً 70 فیصد ہے۔ ایرانی صدر نے غیر ملکی سرمایہ کاروں کو ایران کے تیل، گیس اور پیٹروکیمیکل کے شعبوں میں کھل کر سرمایہ کاری کی دعوت دی اور یقین دلایا کہ ایران عالمی سطح پر توانائی کی محفوظ اور مستحکم فراہمی میں اپنا کلیدی کردار ادا کرتا رہے گا۔ آخر میں انہوں نے کامیاب اجلاس کے انعقاد اور بہترین میزبانی پر روسی صدر ولادیمیر پوتن اور روسی حکومت کا شکریہ ادا کیا۔