LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
سابق آرمی چیف جنرل (ر) عبدالوحید کاکڑ انتقال کر گئے الیکشن کمیشن کا انتخابی عمل میں اے آئی کا باقاعدہ استعمال کرنے کا فیصلہ پاکستان سٹاک ایکسچینج میں کاروبار کا منفی زون میں آغاز خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کے بعد پی ٹی آئی کا وفاق سے پہلا رابطہ مکہ دفاعی اتحاد کے اعلیٰ حکام آج ایرانی قیادت سے ملاقات کریں گے شیخوپورہ: موٹروے پولیس کے 436 افسران کی 15ویں بنیادی پاسنگ آؤٹ پریڈ تین ملکی ٹورنامنٹ: انگلینڈ کیخلاف کامیابی پر محسن نقوی کی قومی ہیروز کو مبارکباد ایران نے امریکا اور اسرائیل کے ساتھ دوبارہ فوجی تصادم کا خدشہ ظاہر کر دیا ٹرمپ کی اسرائیلی عوام سے جنگی مجرم نیتن یاہو کو ووٹ دینے کی اپیل پسند کی شادی کیلئے لڑکی 100 فٹ بلند ٹاور پر چڑھ گئی خلا میں بڑھتے کچرے سے نمٹنے کے لئے منصوبے پر کام شروع سعودی عرب اور یونان کا محفوظ بحری راستوں، توانائی کے شعبے میں تعاون بڑھانے پر اتفاق بائیں بازو کے رہنما لوئس سلوا چوتھی بار برازیل کے صدر منتخب فرانس میں احتجاج کرنے والی تنظیموں نے 5 نومبر کو ملک گیر ہڑتال کا اعلان کر دیا لانا نصیبہ یو این سیکرٹری جنرل بننے کی کوشش میں گریٹر اسرائیل منصوبے کو آگے بڑھا رہی ہیں، قالیباف

روس کے بین الاقوامی اقتصادی فورم 2026ء کے سفیر کے عہدے پر پاکستانی شخصیت کی تقرری

Web Desk

26 October 2026

روس کے تیسرے بین الاقوامی تاوریدا سرمایہ کاری و اقتصادی فورم (TIEF-2026) کے سفیر کے اہم عہدے پر پاکستانی شخصیت راجہ قدیر احمد کو مقرر کر دیا گیا ہے۔

خیرسون ریجن کے گورنر کے مشیر اور ‘فاؤنڈیشن برائے مستقبل کی ترقی’ کے ڈائریکٹر آر ایف سیرتلانوف نے ان کی تقرری کا باضابطہ حکم نامہ جاری کیا، جو 7 اکتوبر 2026ء سے مؤثر العمل ہے۔ باضابطہ حکم نامے کے مطابق، راجہ قدیر احمد بین الاقوامی تقریبات اور عالمی مذاکرات میں اس اقتصادی فورم کی نمائندگی کریں گے، جبکہ مختلف ممالک کے ممتاز کاروباری وفود، ماہرین اور اہم شخصیات کو فورم میں شرکت کی دعوت دیں گے۔

اس سال تاوریدا فورم کا مرکزی موضوع ‘تعلیم اور افرادی قوت: انسانی سرمائے میں سرمایہ کاری’ مقرر کیا گیا ہے، جس میں تعلیم، مصنوعی ذہانت (AI)، پیشہ ورانہ تربیت، سرمایہ کاری اور بین الاقوامی تجارتی تعاون کے موضوعات پر سیر حاصل مباحثے ہوں گے۔ فورم کی دستاویزات کے مطابق، 50 سے زائد ممالک کے نمائندوں کی شرکت متوقع ہے، جہاں یونیورسٹیوں اور عالمی کاروباری اداروں کے درمیان براہِ راست ملاقاتوں، مشترکہ منصوبوں اور اربوں روپے کے سرمایہ کاری معاہدوں کی توثیق کی جائے گی۔