LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
افغان طالبان ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور ان سے وابستہ گروہوں کی معاونت ختم کریں: پاکستان وزیراعظم سے لاہور چیمبر آف کامرس کے فاؤنڈرز گروپ کے وفد کی ملاقات جج پر مبینہ رشوت کا الزام: لاہور بار کا وزیراعلیٰ مریم نواز کے خلاف ’پیکا ایکٹ‘ تحت مقدمہ درج کرانے کا اعلان پاکستان کی ٹیکسٹائل صنعت پائیداری میں اہم پیش رفت کر رہی ہے: برطانوی ہائی کمشنر اسحاق ڈار کی ایس سی او اجلاس کیلئے تمام ضروری اقدامات یقینی بنانے کی ہدایت آصفہ بھٹو کی یوتھ ڈویلپمنٹ سینٹر میں یومِ اقوامِ متحدہ کی تقریب میں شرکت فرانس میں مزدوروں کے اعلان کے بعد دوبارہ مظاہرے شروع، 135 گرفتار پی ٹی آئی میں اختلافات، بیرسٹر گوہر نے واضح ہدایات جاری کردیں پاک چین دوستی کے 75 برس مکمل، چینی وزارت خارجہ کی ترجمان کل پاکستان پہنچیں گی وزیراعظم کا دسمبر کے پہلے ہفتے میں دورۂ روس متوقع: ذرائع آئی ٹی کے شعبے میں 40 ارب ڈالر کے مواقع موجود ہیں: حافظ نعیم الرحمان پاکستان میں کوئی کمی نہیں، سکول کرکٹ سے نیا ٹیلنٹ سامنے آئے گا: محسن نقوی زلمے خلیل زاد کا پاکستان پر افغانوں کو طالبان کیخلاف استعمال کرنے کا الزام، فیکٹ چیک جاری وزیراعظم شہباز شریف کا دورۂ روس متوقع، صدر پوتن سے ملاقات ہوگی پاکستان، برطانیہ، فرانس سمیت 8 ملکوں کا مشرق وسطیٰ میں تنازعات کے سفارتی حل پر زور

سکوٹی پر سفر کرتی لڑکی سے غنڈہ گردی اور تشدد کرنے والا ملزم گرفتار

Web Desk

23 October 2026

لاہور کے علاقے مزنگ میں اسکوٹی پر سفر کرنے والی ایک خاتون کو سرِعام ہراساں کرنے اور اس پر تشدد کرنے والے مرکزی ملزم کو پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے گرفتار کر لیا ہے۔

پولیس حکام کے مطابق ملزم غلام مصطفیٰ نے مزنگ لنک روڈ پر اسکوٹی سوار لڑکی کی گاڑی کو ٹکر مار کر زبردستی اس کا راستہ روکا، جس کے بعد ملزم نے لڑکی کو نیچے گرا کر تھپڑ مارے، بال نوچے اور شدید تشدد کا نشانہ بنایا۔ اس تشدد کے نتیجے میں متاثرہ لڑکی کے چہرے اور ناک پر شدید زخم آئے، جبکہ اس کے لیپ ٹاپ اور بیگ کو بھی نقصان پہنچا۔ ملزم نے لڑکی کا موبائل اور لیپ ٹاپ چھیننے کی بھی کوشش کی۔

پولیس کے مطابق گرفتار ملزم ضلع چنیوٹ کا رہائشی ہے، جس کے خلاف متاثرہ لڑکی کے والد کی مدعیت میں تھانہ مزنگ میں مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔ ڈی آئی جی آپریشنز کامران فیصل نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے واضح کیا کہ سرِ راہ خواتین کو ہراساں کرنا اور تشدد کا نشانہ بنانا کسی طور ناقابلِ برداشت ہے۔ انہوں نے اعادہ کیا کہ خواتین کے خلاف جرائم میں ملوث عناصر سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔