LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
بلوچستان کے شہر دالبندین اور ملحقہ علاقوں میں 5.1 شدت کا زلزلہ امریکی صدر ٹرمپ نے جلد ہی ایران پر دوبارہ حملہ کرنے کا اشارہ دے دیا نیویارک انتخابات: ووٹر رجسٹریشن کی آخری تاریخ 24 اکتوبر، All About USA کی جانب سے رہنما ووٹر گائیڈ جاری نیویارک میں سینٹرل پارک کی تاریخی بگھیوں پر پابندی کا بل منظور، 2028 میں صنعت کا خاتمہ ہوگا کینیڈا اور ترکیہ میں دوطرفہ تعلقات کو سٹریٹجک شراکت داری میں تبدیل کرنے کا معاہدہ طے غزہ میں اسرائیلی فضائی حملوں اور فائرنگ سے مزید 4 فلسطینی شہید سعودی معیشت پر حوثیوں کے حملوں کے اثرات فی الحال محدود ہیں، آئی ایم ایف جماعت اسلامی کا آج ملک کے 150 شہروں میں بیک وقت احتجاج اور دھرنوں کا اعلان روس نے اسرائیل کے ماسکو پر یہود دشمن مہم میں ملوث ہونے کے الزامات مسترد کر دیے یوکرین کیساتھ معاہدہ ممکن، روس کو میدان جنگ میں شکست نہیں دی جا سکتی: صدر پوتن دمام ایئرپورٹ پر حوثی حملے میں جاں بحق افراد کی تعداد 2 ہوگئی پیوٹن کو انسان دوست قرار دینے پر زیلنسکی کی اسٹیو وٹکوف پر تنقید یمنی فوج کے 780 فضائی اور فوجی حملے، 512 حوثی باغی ہلاک اور زخمی خوبصورت منظر کی تصویر لیتے امریکی خاتون گہری کھائی میں گر کر ہلاک امارات، قطر سمیت عرب ممالک اور مسلم ورلڈ لیگ کی سعودیہ پر حملوں کی شدید مذمت

کینیڈا اور ترکیہ میں دوطرفہ تعلقات کو سٹریٹجک شراکت داری میں تبدیل کرنے کا معاہدہ طے

Web Desk

23 October 2026

کینیڈا اور ترکیہ نے اپنے دوطرفہ تعلقات کو باضابطہ طور پر اسٹریٹجک شراکت داری میں تبدیل کرنے کا معاہدہ کر لیا ہے، جس کا بنیادی مقصد تجارت، دفاع، توانائی اور سرمایہ کاری سمیت اہم شعبوں میں باہمی تعاون کو فروغ دینا ہے۔

کینیڈین وزیراعظم مارک کارنے کے ترکیہ کے پہلے دوطرفہ دورے کے موقع پر انقرہ میں صدر رجب طیب اردوان کے ساتھ اس اہم معاہدے پر اتفاق کیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی دونوں ممالک کے درمیان ‘آزاد تجارتی معاہدے’ (Free Trade Agreement) کے باقاعدہ مذاکرات کا پہلا دور آئندہ ماہ شروع کرنے کا بھی اعلان کیا گیا۔

یہ سفارتی و معاشی پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بھاری محصولات (Tariffs) کی عائدگی کے خدشات اور کینیڈا کی خودمختاری کے حوالے سے بیانات کے بعد وزیراعظم مارک کارنے امریکہ پر معاشی انحصار کم کرنے اور دنیا بھر میں نئے تجارتی شراکت دار تلاش کرنے کی حکمتِ عملی پر عمل پیرا ہیں۔ طے پانے والے اس معاہدے کے تحت دونوں ممالک کے مابین دفاع، سلامتی، جوہری توانائی، اہم معدنیات اور مائع قدرتی گیس (LNG) سمیت دیگر اہم اقتصادی شعبوں میں تعاون بڑھایا جائے گا۔