LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
کینیڈا اور ترکیہ میں دوطرفہ تعلقات کو سٹریٹجک شراکت داری میں تبدیل کرنے کا معاہدہ طے غزہ میں اسرائیلی فضائی حملوں اور فائرنگ سے مزید 4 فلسطینی شہید سعودی معیشت پر حوثیوں کے حملوں کے اثرات فی الحال محدود ہیں، آئی ایم ایف جماعت اسلامی کا آج ملک کے 150 شہروں میں بیک وقت احتجاج اور دھرنوں کا اعلان روس نے اسرائیل کے ماسکو پر یہود دشمن مہم میں ملوث ہونے کے الزامات مسترد کر دیے یوکرین کیساتھ معاہدہ ممکن، روس کو میدان جنگ میں شکست نہیں دی جا سکتی: صدر پوتن دمام ایئرپورٹ پر حوثی حملے میں جاں بحق افراد کی تعداد 2 ہوگئی پیوٹن کو انسان دوست قرار دینے پر زیلنسکی کی اسٹیو وٹکوف پر تنقید یمنی فوج کے 780 فضائی اور فوجی حملے، 512 حوثی باغی ہلاک اور زخمی خوبصورت منظر کی تصویر لیتے امریکی خاتون گہری کھائی میں گر کر ہلاک امارات، قطر سمیت عرب ممالک اور مسلم ورلڈ لیگ کی سعودیہ پر حملوں کی شدید مذمت سعودی اور عراقی وزراء خارجہ کا رابطہ، سکیورٹی بارے تعاون مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال مصر کا یمن کے تنازع کے سفارتی حل کیلئے ہر ممکن کوشش کرنے پر زور روس کی کیف پر بیلسٹک میزائلوں کی بارش، 630 ڈرون داغنے کا دعویٰ امریکی صدر کا ایلون مسک سے رابطہ، یوکرین کیلئے انٹرنیٹ سروس پر پابندیاں ختم کرنے کا مطالبہ

یوکرین کیساتھ معاہدہ ممکن، روس کو میدان جنگ میں شکست نہیں دی جا سکتی: صدر پوتن

Web Desk

23 October 2026

روسی صدر ولادیمیر پوتن نے ایک روسی نیوز چینل کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں کہا ہے کہ روس اور یوکرین کے درمیان حتمی معاہدہ ممکن ہے کیونکہ دونوں ممالک کے عوام درحقیقت ایک ہی قوم ہیں، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ روس کو میدانِ جنگ میں اسٹریٹجک شکست دینا ناممکن ہے۔

صدر پوتن کے مطابق روس تنازع کا پُرامن حل چاہتا ہے اور مذاکرات کے ذریعے تمام اختلافات حل کیے جا سکتے ہیں۔ تاہم انہوں نے یوکرین کے ضم شدہ علاقوں کے نقصان کا تاثر رد کرتے ہوئے کہا کہ وہ تاریخی طور پر روس کا حصہ ہیں، جہاں کے عوام نے ووٹ کے ذریعے روس کا ساتھ منتخب کیا۔ انہوں نے یورپی ممالک کی روس مخالف پالیسیوں کو ‘سیاسی شیزوفرینیا’ قرار دیتے ہوئے کہا کہ روس یورپ کے ساتھ جنگ کا خواہاں نہیں۔ یوکرینی قیادت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وہاں شہریوں کو زبردستی محاذ پر بھیجا جا رہا ہے اور فوج سے فرار ہونے والوں کی تعداد 5 لاکھ تک پہنچ چکی ہے۔

امریکی انتظامیہ کے ساتھ رابطوں کا ذکر کرتے ہوئے صدر پوتن نے بتایا کہ روس، امریکہ اور یوکرین کے درمیان سہ فریقی رابطے دوبارہ شروع کرنے پر اتفاق ہوا ہے۔ انہوں نے صراحت کی کہ روس عارضی جنگ بندی کے بجائے حتمی امن معاہدے اور دونوں ممالک کی دائم سلامتی کی ضمانتوں پر بات چیت کا خواہاں ہے، جبکہ ‘اسپیشل ملٹری آپریشن’ کے تمام اہداف ہر صورت حاصل کیے جائیں گ