نئے انتظامی یونٹس اور 28 ویں آئینی ترمیم
Web Desk
22 October 2026
پاکستان میں اقتدار کی نچلی سطح تک منتقلی اور نئے انتظامی یونٹس یا صوبوں کے قیام سے متعلق قومی سطح پر مباحثے شدید اور سنجیدہ رخ اختیار کر گئے ہیں۔ اسلام آباد کے اقتدار کے ایوانوں اور فکر و دانش کے فورمز پر اس بات پر مکمل اتفاقِ رائے پایا جا رہا ہے کہ ملک کا موجودہ گورننس ماڈل ناکام ہو چکا ہے اور اس کی بنیادی تنظیمِ نو (Restructuring) اب ناگزیر ہے۔
مباحثوں میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ محض روایتی بلدیاتی انتخابات کروانا مسئلے کا حل نہیں، کیونکہ مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی نے اقتدار میں رہتے ہوئے بلدیاتی نظام کو کبھی حقیقی اختیارات نہیں دیے۔ دوسری جانب پیپلز پارٹی سندھ کی تقسیم کی مخالفت کرتے ہوئے صرف جنوبی پنجاب اور گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے کی حامی ہے، جبکہ مسلم لیگ (ن) میں وزیراعظم شہباز شریف نئے صوبوں کی حمایت میں ہیں لیکن نواز شریف گروپ فی الوقت خاموش ہے۔
اس تناظر میں خیبرپختونخوا کے 12 شورش زدہ اضلاع کو ایک الگ انتظامی و ٹیکنو کریٹک سیٹ اپ کے تحت چلانے کا تجربہ شروع کیا گیا ہے، جسے ملک میں نئے انتظامی ماڈل کا ‘پائلٹ پروجیکٹ’ قرار دیا جا رہا ہے۔ اس انتظامی سیٹ اپ کو 6 ماہ کا وقت دیا گیا ہے۔ مزید برآں، آئین کے آرٹیکل 239(4) کے تحت صوبائی اسمبلیوں کی دو تہائی اکثریت کی شرط سے بچنے کے لیے ڈویژنل سطح پر خودمختار انتظامی یونٹس بنانے کی تجویز بھی زیرِ غور ہے، جس کے لیے 28 ویں آئینی ترمیم اور این ایف سی (NFC) ایوارڈ کی شقوں میں تبدیلی کو ناگزیر قرار دیا جا رہا ہے
متعلقہ عنوانات
ڈپٹی چیئرمین اور پراسیکیوٹر جنرل نیب کی تعیناتی چیلنج: اسلام آباد ہائی کورٹ کا وفاق اور نیب کو نوٹس
22 October 2026
12 سال کی بچی کو بلیک میل کرنے پر 2 ملزمان کو 10،10 سال قید کی سزا
22 October 2026
آذربائیجان کے راستے یورپ جانے کی غیر قانونی کوشش ناکام، 3 مسافر آف لوڈ
22 October 2026
عمانی سلطان کا 44 سال بعد برطانیہ کا پہلا دورہ، شاہ چارلس نے حدیث پڑھ کر سنائی
22 October 2026
پنجاب کے تعلیمی بورڈز نے گیارہویں جماعت 2026 کے نتائج کا اعلان کر دیا
22 October 2026
حنا پرویز بٹ کی باتیں حکومت کیلئے شرمندگی کا باعث بنتی ہیں: عظمیٰ بخاری
22 October 2026
صارفین کے ڈیٹا سے متعلق گمراہ کن معلومات، میٹا پر 25 ارب ڈالر جرمانہ عائد
22 October 2026
وزیراعظم خیبرپختونخوا کی مجموعی صورتحال کا جائزہ لینے پشاور پہنچ گئے
22 October 2026