LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
ڈپٹی چیئرمین اور پراسیکیوٹر جنرل نیب کی تعیناتی چیلنج: اسلام آباد ہائی کورٹ کا وفاق اور نیب کو نوٹس 12 سال کی بچی کو بلیک میل کرنے پر 2 ملزمان کو 10،10 سال قید کی سزا نئے انتظامی یونٹس اور 28 ویں آئینی ترمیم آذربائیجان کے راستے یورپ جانے کی غیر قانونی کوشش ناکام، 3 مسافر آف لوڈ عمانی سلطان کا 44 سال بعد برطانیہ کا پہلا دورہ، شاہ چارلس نے حدیث پڑھ کر سنائی پنجاب کے تعلیمی بورڈز نے گیارہویں جماعت 2026 کے نتائج کا اعلان کر دیا حنا پرویز بٹ کی باتیں حکومت کیلئے شرمندگی کا باعث بنتی ہیں: عظمیٰ بخاری صارفین کے ڈیٹا سے متعلق گمراہ کن معلومات، میٹا پر 25 ارب ڈالر جرمانہ عائد وزیراعظم خیبرپختونخوا کی مجموعی صورتحال کا جائزہ لینے پشاور پہنچ گئے یومِ فتحِ مظفرآباد آج منایا جا رہا ہے، کشمیریوں کی تاریخی جدوجہد کی یاد تازہ سپریم کورٹ: ریکروٹمنٹ رولز 2014 بحال، فیڈرل سروس ٹریبونل کا فیصلہ کالعدم پاکستان سٹاک مارکیٹ میں تیزی، ہنڈرڈ انڈیکس 250 پوائنٹس بڑھ گیا اہم سائبر سکیورٹی اپ ڈیٹ کے بعد دنیا بھر میں متعدد ویب سائٹس عارضی طور پر بند بیرون ملک بیٹھے یوٹیوبرز پی ٹی آئی کے سب سے بڑے دشمن ہیں: خواجہ آصف مریم نواز کا خواتین اور بچوں کے خلاف بڑھتے جرائم پر اظہار برہمی

سپریم کورٹ: ریکروٹمنٹ رولز 2014 بحال، فیڈرل سروس ٹریبونل کا فیصلہ کالعدم

Web Desk

22 October 2026

سپریم کورٹ آف پاکستان نے کنٹرولر جنرل آف اکاؤنٹس (Controller General of Accounts) ریکروٹمنٹ رولز 2014 کی بحالی کا اہم حکم جاری کرتے ہوئے فیڈرل سروس ٹریبونل کا 17 اکتوبر 2022 کا فیصلہ مکمل طور پر کالعدم قرار دے دیا ہے۔

سپریم کورٹ کی فاضل جج جسٹس عائشہ اے ملک نے اس کیس کا تحریری فیصلہ جاری کیا۔ فیصلے میں عدالتِ عظمیٰ نے واضح کیا کہ سروس ٹریبونل کو حکومت کے پالیسی امور اور ریکروٹمنٹ رولز کو منسوخ یا ختم کرنے کا کوئی قانونی اختیار حاصل نہیں تھا۔ ٹریبونل خود کو ایگزیکٹو کے مقام پر فائز کر کے قواعد ازسرنو بنانے کی ہدایت نہیں دے سکتا، اور آئین کے آرٹیکل 212 کے تحت سروس ٹریبونل کا دائرہ اختیار محض ملازمین کی ملازمتی شرائط و ضوابط تک محدود ہے۔

تحریری فیصلے میں مزید نشاندہی کی گئی کہ متعلقہ ملازم نے 2014 کے قواعد کے تحت ہی جونیئر آڈیٹر سے سینئر آڈیٹر کے عہدے پر ترقی حاصل کی اور بعد میں انہی قواعد کو عدالت میں چیلنج کر دیا، حالانکہ جونیئر آڈیٹر سے اسسٹنٹ اکاؤنٹس آفیسر کے عہدے پر ڈائریکٹ پروموشنل جمپ کا کوئی قانونی حق موجود نہیں اور ترقی بالذات خود کوئی بنیادی حق نہیں ہے۔ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ حکومت کو انتظامی ضروریات کے پیشِ نظر سروس اسٹرکچر میں ترمیم کا مکمل اختیار حاصل ہے، اور اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی بعد کی منظوریوں و ترامیم سے 2014 کے قواعد کی قانونی حیثیت مکمل طور پر برقرار رہتی ہے۔